20/05/2026
*دنیا EV اور جدید بائیکس پر پہنچ گئی، پاکستان اب بھی 70 اور 125 کی پرانی ٹیکنالوجی میں قید*
یاماہا نے پاکستان میں پروڈکشن بند کردی، ہونڈا آج بھی دہائیوں پرانی ٹیکنالوجی فروخت کررہی ہے، چینی ریپلکاز نے مارکیٹ کا معیار تباہ کردیا
دنیا موٹر سائیکل ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، مگر پاکستان آج بھی کئی دہائیاں پرانی ٹیکنالوجی کے گرد گھوم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ویتنام، تائیوان، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک جدید، کم خرچ اور ماحول دوست ٹو وہیلرز کے استعمال میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان کی مارکیٹ اب بھی پرانے ماڈلز تک محدود ہے۔
یاماہا نے پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی پیداوار بند کردی، جو مقامی آٹو انڈسٹری کیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب ہونڈا آج بھی تقریباً ساٹھ سال پرانی CD-70cc اور پچاس سال پرانی CG-125cc ٹیکنالوجی مختلف معمولی تبدیلیوں کے ساتھ فروخت کررہی ہے، جبکہ دیگر چینی بنیادوں پر قائم اسمبلرز کم معیار کی ریپلکا بائیکس مارکیٹ میں لا رہے ہیں۔
پاکستان میں صارفین کی سوچ تبدیل ہورہی ہے اور لوگ اب جدید الیکٹرک اسکوٹرز اور نئی ٹیکنالوجی والی بائیکس خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں، خاص طور پر پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد EV مارکیٹ میں واضح رجحان دیکھا جارہا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر مقامی کمپنیاں صرف اسمبلنگ تک محدود ہیں اور مطلوبہ ماڈلز کا اسٹاک مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوتا، جس کے باعث صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان کی موٹر سائیکل انڈسٹری کو تحقیق، جدت، سیفٹی فیچرز، بہتر انجن ٹیکنالوجی اور الیکٹرک وہیکل سیکٹر میں سنجیدہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
اگر مقامی انڈسٹری نے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل نہ کیا تو پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مزید پیچھے چلا جائے گا، جبکہ عوام کو بھی مہنگی، پرانی اور کم معیار ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا پڑے گا۔