16/09/2026
آج پہلی بار لگا کہ معاملہ صرف حوثیوں کے حملوں تک نہیں رہا، بات اب واقعی ارضِ حرمین تک پہنچ چکی ہے
اسی لیے پالیسی بیان کے لیے سب سے پہلے جس شخصیت کا نام ذہن میں آیا، وہ حافظ طاہر محمود اشرفی صاحب کا تھا
بھاگم بھاگ پہنچا تو علماء کرام اور مختلف وفود کا تانتا بندھا ہوا تھا، مگر آج ایک چیز سب سے زیادہ محسوس ہوئی؛ روایتی تبلیغی عمامے کی جگہ اسی کی دہائی میں مقبول پاج کپڑے کی پگڑی تھی
پگڑی تو محض پگڑی تھی، مگر آج اس کے پیچھے ایک پیغام صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ہم وہی ہیں۔۔۔
حوثیوں کی پیش قدمی پر پاکستان بھر کے علماء کرام سے رابطے، ایک ایک جماعت اور ذمہ دار کو خود فون کرنا، سب کو جھنجھوڑنا اور تحفظِ حرمین کی ذمہ داری کا احساس دلانا دیکھ کر بے اختیار دل سے الحمدللہ نکلا
ٹی وی چینلز کے نمائندے آتے رہے، عربی اور اردو میں بیانات دیے جاتے رہے۔ بعض مناظر اور بعض چیزیں علامتی ہوتی ہیں
یحییٰ السنوار کا وہ آخری منظر یاد آ گیا، جب اس نے ڈرون کو ٹوٹی ہوئی چھڑی سے ہانکا تھا، ایک ٹوٹی چھڑی نے ایسا منظر بنا دیا کہ دنیا کے جہاز اور ٹینک بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آنے لگے
آج اشرفی صاحب کی کَڑھن اور وہ پگڑی دیکھ کر محسوس ہوا کہ اب بات واقعی سنجیدہ ہو چکی ہے اور پیغام دینا ضروری ہے
امت کو اب نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا، یک جان، یک آواز ہو کر تحفظِ حرمین کے لیے سعودی مدافعین کے ساتھ انکے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا
اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ امت اس تضاد کو بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے
’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگانے والوں کی پراکسیاں امریکی و اسرائیلی جہازوں کو راستہ دے رہی ہیں، مگر مسلم اور سعودی جہازوں سے انہیں تکلیف ہے!
یہ محض تضاد نہیں، بہت کچھ بے نقاب ہو چکا ہے
اللہ امت کو صیہونیت اور رفض کے عزائم سمجھنے کی بصیرت دے
مکہ معاہدہ نافذ ہے، اور ان شاء اللہ اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
تحریر #آفتاب نذیر