اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان

اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان اسلامی پوسٹ اور وڈیو بیانات کے لئے ہمارے پیج کو فالو کیجیے
جزاک اللہ
(406)

اشاعت التوحید والسنہ پاکستان ایک خالص دینی جماعت ہے جس کا منشورقرآن و سنت کی ترویج اور شرک و بدعات کے در ہے ، درس قرآن مجید اس جماعت کا طرہ امتیاز ہے

‏آج پہلی بار لگا کہ معاملہ صرف حوثیوں کے حملوں تک نہیں رہا، بات اب واقعی ارضِ حرمین تک پہنچ چکی ہے‏اسی لیے پالیسی بیان ک...
16/09/2026

‏آج پہلی بار لگا کہ معاملہ صرف حوثیوں کے حملوں تک نہیں رہا، بات اب واقعی ارضِ حرمین تک پہنچ چکی ہے

‏اسی لیے پالیسی بیان کے لیے سب سے پہلے جس شخصیت کا نام ذہن میں آیا، وہ حافظ طاہر محمود اشرفی صاحب کا تھا

‏بھاگم بھاگ پہنچا تو علماء کرام اور مختلف وفود کا تانتا بندھا ہوا تھا، مگر آج ایک چیز سب سے زیادہ محسوس ہوئی؛ روایتی تبلیغی عمامے کی جگہ اسی کی دہائی میں مقبول پاج کپڑے کی پگڑی تھی

‏پگڑی تو محض پگڑی تھی، مگر آج اس کے پیچھے ایک پیغام صاف دکھائی دے رہا تھا کہ ہم وہی ہیں۔۔۔

‏حوثیوں کی پیش قدمی پر پاکستان بھر کے علماء کرام سے رابطے، ایک ایک جماعت اور ذمہ دار کو خود فون کرنا، سب کو جھنجھوڑنا اور تحفظِ حرمین کی ذمہ داری کا احساس دلانا دیکھ کر بے اختیار دل سے الحمدللہ نکلا

‏ٹی وی چینلز کے نمائندے آتے رہے، عربی اور اردو میں بیانات دیے جاتے رہے۔ بعض مناظر اور بعض چیزیں علامتی ہوتی ہیں

‏یحییٰ السنوار کا وہ آخری منظر یاد آ گیا، جب اس نے ڈرون کو ٹوٹی ہوئی چھڑی سے ہانکا تھا، ایک ٹوٹی چھڑی نے ایسا منظر بنا دیا کہ دنیا کے جہاز اور ٹینک بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آنے لگے

‏آج اشرفی صاحب کی کَڑھن اور وہ پگڑی دیکھ کر محسوس ہوا کہ اب بات واقعی سنجیدہ ہو چکی ہے اور پیغام دینا ضروری ہے

‏امت کو اب نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا، یک جان، یک آواز ہو کر تحفظِ حرمین کے لیے سعودی مدافعین کے ساتھ انکے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا
‏اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ امت اس تضاد کو بھی کھلی آنکھوں سے دیکھے

‏’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگانے والوں کی پراکسیاں امریکی و اسرائیلی جہازوں کو راستہ دے رہی ہیں، مگر مسلم اور سعودی جہازوں سے انہیں تکلیف ہے!

‏یہ محض تضاد نہیں، بہت کچھ بے نقاب ہو چکا ہے

‏اللہ امت کو صیہونیت اور رفض کے عزائم سمجھنے کی بصیرت دے
‏مکہ معاہدہ نافذ ہے، اور ان شاء اللہ اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

تحریر #آفتاب نذیر

15/09/2026
انتہائی اہم غیر معمولی اجلاس
15/09/2026

انتہائی اہم غیر معمولی اجلاس

ہم تو گردشوں سے گرے ہیں سنبھل جائیں گے یہ جو نظروں سے گرے ہیں کدھر جائیں گے؟
15/09/2026

ہم تو گردشوں سے گرے ہیں سنبھل جائیں گے
یہ جو نظروں سے گرے ہیں کدھر جائیں گے؟




بنام شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا فرید احمد حقانی صاحب امیر جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پنجابمحترم امیر صاحب السلام عل...
10/09/2026

بنام شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا فرید احمد حقانی صاحب امیر جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پنجاب

محترم امیر صاحب السلام علیکم

گزارش ہے کہ یہ خبیث رانا ابو سعد نامی شخص جماعت کے نام پر ایک ناسور بنا ہوا ہے اس کی یہ غلیظ اور بازاری زبان سے لکھی گئی تحریریں جماعت کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں

بالخصوص یہ شخص علامہ خضر حیات بھکروی صاحب کے لیے بڑی پریشانیاں پیدا کر رہا ہے اور ان کے نام پر اس طرح کی گالیوں سے بھرپور پوسٹیں کر کے مخالفین کو موقع فراہم کر رہا ہے

آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس کا فوری نوٹس لیا جائے، اس کی یہ پوسٹیں فوراً ڈیلیٹ کروائی جائیں اور اس کا مستقل طور پر منہ بند کروایا جائے تاکہ جماعت مزید بدنامی سے بچ سکے
Federal Investigation Agency - FIA
Islamabad Police
DIG Ops Lahore Police
Capital City Police Lahore
M***i Dr. Khaleeq-Ur-Rahman
Abul Yaman Muhammad Tayyib

اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان

تمام کارکنان اشاعت التوحید والسنہ کو پابند کیاجاتا ہے کہ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا خضر حیات صاحب  اور فرزند شیخ التفسیر ...
10/09/2026

تمام کارکنان اشاعت التوحید والسنہ کو پابند کیاجاتا ہے کہ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا خضر حیات صاحب اور فرزند شیخ التفسیر حضرت مولانا لطیف الرحمن حقانی نوراللہ مرقدہ حضرت مولانا خلیق الرحمن صاحب کے مابین جو تلخی جاری ہے اس معاملے میں کوئی پوسٹ نہ کریں ۔۔
کوئی طعن و تشنیع نہ کریں۔۔۔۔۔
ان شاءاللہ احباب مجلس عاملہ اس معاملے کو جلد خوش اسلوبی سے حل کردیں گے ۔ تلخیاں اور غلط فہمیاں ختم ہو جائیں گی۔۔۔۔۔
بہتری کی دعائیں کریں۔
فرید احمد حقانی
امیر جمعیت اشاعت التوحید والسنہ پنجاب

ڈاکٹر مفتی خلیق الرحمن صاحب ہمارے اپنے ہیں اور موجودہ دور میں دین کے لیے ان کی خدمات سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ سوشل میڈیا...
09/09/2026

ڈاکٹر مفتی خلیق الرحمن صاحب ہمارے اپنے ہیں اور موجودہ دور میں دین کے لیے ان کی خدمات سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے چند سیکنڈ کے کلپ سے بظاہر یہ تاثر نہیں ملتا کہ انہوں نے "انک لا تسمع الموتی" کا مطلقاً انکار کیا ہو، وہ فتنوں کی سرکوبی کے طریقہ کار پر گفتگو کر رہے تھے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ڈاکٹر صاحب خود اس پر اپنا وضاحتی بیان دے دیں تاکہ سارا ابہام ختم ہو جائے۔

مفتی صاحب نے ایک بات یہ فرمائی کہ ہر وقت "انک لا تسمع الموتی" کی تکرار ضروری نہیں اور دوسرا یہ کہ لا الہ الا اللہ کا تقاضا ہے کہ چن چن کر ہر فتنے کا مقابلہ کیا جائے۔ اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شرک سے بڑا فتنہ کون سا ہے؟ لا الہ الا اللہ میں بھی پہلے شرک کا رد ہے پھر توحید کا اثبات ہے۔ حضرت بندیالوی رحمہ اللہ کے بقول مسئلہ سماع موتی شرک کا چور گیٹ ہے اور آپ خود فرماتے تھے کہ اگر بیان میں توحید اور رد شرک نہ ہو تو ہمارا بیان نامکمل ہے۔

دوسری جانب مناظر اسلام علامہ خضر حیات بھکروی صاحب نے مسئلے کی اصل بنیاد پر بالکل حق اور درست بات فرمائی ہے کہ "مردے سنتے ہیں یہ شرک کی جڑ ہے اور مردے نہیں سنتے یہ توحید کی جڑ ہے"۔ یہی ہمارے اسلاف کا موقف ہے اور یہی اشاعت التوحید والسنہ کا مرکزی پیغام "لہ دعوۃ الحق" ہے۔

سٹیج اشاعت کا ہو اور فلیکس پر نام سید عنایت اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کا ہو اور وہیں سے اس مشن کی بنیادی آیت پر یہ کہا جائے کہ اس کی تکرار چھوڑ دو یا فلیکس پر لکھنے کی ضرورت نہیں، تو یہ بات یقیناً ہر سچے موحد کے لیے دل آزاری کا سبب ہے۔ قرآن کی یہ آیات ننگی تلوار ہیں، مشرکین مکہ کو بھی انہی آیات سے تکلیف ہوتی تھی اور وہ کہتے تھے "ائت بقران غیر ھذا او بدلہ"۔ اس لیے ایسی بات پر خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں۔

لیکن اصلاح کا طریقہ بھی اپنوں والا ہونا چاہیے۔ علامہ صاحب اگر سخت الفاظ کے بجائے پہلے ٹیلی فون پر ڈاکٹر صاحب سے ان کا مکمل موقف سن لیتے اور اصلاح فرما دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔

ہمارا اصل مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ اصلاح ہونی چاہیے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر جس طرح ایک مخصوص ٹولہ ڈاکٹر صاحب کی تذلیل میں لگا ہوا ہے یہ طرز عمل کسی طرح بھی درست نہیں۔ اور اسی طرح فتنوں کے تعاقب کے نام پر توحید کے مرکزی مسئلے کو چھوڑ دینا بھی درست نہیں۔

اشاعت کو آج دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو اپنے پرانے اور مرکزی مشن یعنی رد شرک اور اثبات توحید پر پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ قائم رہنا، اور دوسرا یہ کہ پچاس سال پرانی رٹی ہوئی تقاریر کے بجائے نئے فتنوں کا بھی چن چن کر تعاقب کرنا۔ ایک شخص کے گلے میں درد ہے تو ہم اس کا علاج کریں گے، گلا نہیں کاٹیں گے۔ مفتی صاحب نے علاج کی طرف توجہ دلائی ہے لیکن الفاظ کے انتخاب میں بے احتیاطی ہوئی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آپس کے اختلافات کو حکمت اور نرمی سے ختم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

#مفتی #ڈاکٹر #خلیق #الرحمن #لاہور
#علامہ #خضرحیات #بھکروی #اسلامآباد
#12ربیع اول #کانفرنس #تلہ #گنگ
#7ستمبر #ختم #بنوت #کانفرنس #تلہ #گنگ

اہلِ نظر کچھ ادھر بھی نظر کیجیے ...👇حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی خلیق الرحمن صاحب اور ان کے خاندان کی توحید و سنت کیلئے خدمات ...
09/09/2026

اہلِ نظر کچھ ادھر بھی نظر کیجیے ...👇

حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی خلیق الرحمن صاحب اور ان کے خاندان کی توحید و سنت کیلئے خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں... اس خانوادے نے اشاعتِ توحید و سنت کے لیے جو قربانیاں پیش کی ہیں وہ یقیناً ناقابلِ فراموش ہیں...

اصولِ انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی شخصیت کی گفتگو سے مغالطہ پیدا ہو تو پہلے اسی شخصیت کی اصل گفتگو اور اس کے سیاق و سباق کی طرف رجوع کیا جائے... محض ایک مختصر کلپ کو بنیاد بنا کر حکم صادر کرنا انصاف نہیں...

حالیہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس تلہ گنگ میں ڈاکٹر مفتی خلیق الرحمن صاحب نے مردوں کے نہ سننے کے مسئلے کے حوالے سے یہ بات فرمائی کہ ہر وقت ایک ہی مسئلے کی تکرار کرتے رہنا درست نہیں... بعض احباب نے اس گفتگو کا مفہوم یہ لیا کہ گویا ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلے کی اہمیت سے صرفِ نظر کیا ہے، حالانکہ بات صرف اتنی تھی کہ ایک ہی مسئلے کی تکرار کے ساتھ ساتھ دیگر دینی و اعتقادی مسائل اور نئے اٹھنے والے فتنوں کے خلاف بھی میدانِ عمل میں آنا چاہیے...

توحید بلاشبہ دین کا بنیادی اور مرکزی مسئلہ ہے اور ڈاکٹر صاحب اس کے منکر نہیں بلکہ اسی عقیدے کے داعی اور محافظ ہیں... ان کی گفتگو کا مدعا صرف یہ تھا کہ توحید کے ساتھ ساتھ دیگر دینی و اعتقادی مسائل اور نئے اٹھنے والے فتنوں کے خلاف بھی میدانِ عمل میں آنا ہوگا...

ڈاکٹر صاحب نے یہ نہیں کہا کہ مردے سنتے ہیں... ان کا موقف یہی ہے کہ دور و نزدیک سے پکاریں سننے والا اللّٰہ رب العزت ہے... ان کی بات کا حاصل یہ تھا کہ توحید کے اس بنیادی مسئلے کے ساتھ ساتھ منکرینِ ختمِ نبوت کا فتنہ ہو عظمتِ صحابہ و اہلِ بیت کے دفاع کی بات ہو ، الحاد و دہریت کا فتنہ ہو یا عصرِ حاضر کے دیگر فتنۂ ہائے باطلہ، ان سب کے خلاف بھی اہلِ حق کو آواز بلند کرنا ہوگی...

آج کا لبرل طبقہ ہو یا ٹی وی کے بعض معروف اینکرز، ڈاکٹر صاحب نے ان کے اعتراضات کا جس جرأت و بصیرت کے ساتھ جواب دیا ہے وہ اہلِ علم سے مخفی نہیں... ان کیلئے ڈاکٹر صاحب ایک ایسا مضبوط حریف ہیں جس کے سامنے ان کے اعتراضات بارہا بے وزن ثابت ہوئے ہیں...

افسوس یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تمام تر دینی و علمی خدمات کو نظر انداز کرکے ایک ایسی بات کو بنیاد بنایا جا رہا ہے جس کا مفہوم خود اس کے برعکس ہے جو ان پر الزام کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے... یہ نہ علمی دیانت ہے نہ انصاف کا تقاضا...

اگر کسی بات سے شبہ پیدا ہوا ہے تو ڈاکٹر صاحب سے براہِ راست تحقیق کیجیے... اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو... لہٰذا ایک مختصر کلپ کی بنیاد پر کسی عالم کے عقیدہ و موقف پر حکم لگانے کے بجائے تحقیق، انصاف اور حسنِ ظن کا دامن تھامیے...

اہلِ نظر سے گزارش ہے کہ جذبات کے بجائے بصیرت سے کام لیجیے... اہلِ علم کی طویل جدوجہد کو ایک جملے کی نذر نہ کیجیے... میدان ابھی باقی ہے اور فتنوں کے محاذ ابھی بہت ہیں...

تحریر محمد علی پرواز چنیوٹی

علامہ عطاءاللہ بندیالوی پر جھوٹا الزام: برادرم عمار خان یاسر کی ایک بزرگ کے ساتھ پوڈکاسٹ دیکھی جس میں وہ ’الراشدون‘ نامی...
09/09/2026

علامہ عطاءاللہ بندیالوی پر جھوٹا الزام:

برادرم عمار خان یاسر کی ایک بزرگ کے ساتھ پوڈکاسٹ دیکھی جس میں وہ ’الراشدون‘ نامی ایک فتنے کی نقاب کشائی کر رہے تھے اور انتہائی ضعف اور سخت بیماری کے باوجود پورے ملک کے مدارس سے اس فتنے کیخلاف فتاویٰ جمع کر رہے تھے، اس گروپ کی اہل بیت علیہم السلام کیخلاف جس قسم کی بکواسات اور مغلظات وہاں بیان کی گئی، اس کو سن کر واقعی ایک ایمان والے کا خون جوش مارنے لگتا ہے۔ اس پوڈکاسٹ میں ان بزرگ نے پاکستان کے تین اشخاص پر بھی یہ الزام لگایا کہ وہ اس گروپ سے منسلک ہیں، اور اس میں انہوں نے جید عالم دین مولانا عطاء اللہ بندیالوی کا بھی نام لیا۔ علامہ عطاء اللہ بندیالوی نے ویڈیو پیغام میں اس الزام کو قطعی طور پر جھوٹ قرار دیا ہے اور عمار خان یاسر سے شکوہ کیا کہ انہیں اس پوڈکاسٹ کو نشر کرنے سے قبل ان سے رابطہ ضرور کرنا چاہئے تھا اور ان کا موقف لینا چاہئے تھا۔ بہرحال شاید عمار کو معاملے کی سنگینی کا اندازا ہوگیا اور انہوں نے اس ویڈیو کو ایڈٹ کرکے وہ نام نکال دیئے ہیں ( میں نے جو پوڈکاسٹ سنی اس میں میں تو یہ نام ذکر نہیں آئے تھے) بعض احباب کی اطلاع کے مطابق اس ویڈیو کو کچھ جگہوں سے ہٹایا بھی گیا ہے۔ بہرحال ’الراشدون‘ کی نقاب کشائی کرنے والے بزرگ نے بہت زیادہ بے احتیاطی کی ہے اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ایک جید عالم دین پر بہت سخت قسم کے الزامات لگائے ہیں جس سے نہ صرف ان کی ساکھ متاثر ہوسکتی تھی بلکہ ان کی جان کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔ ایسے حساس معاملات پر بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

(شیخ نوید)

عمار خان یاسر صاحب! ذرا ٹھہریے…آپ محض ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نہیں ہیں۔ آپ ایک عالمِ دین بھی ہیں، اور یہی وہ شناخت ہے جس...
07/09/2026

عمار خان یاسر صاحب! ذرا ٹھہریے…

آپ محض ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ نہیں ہیں۔ آپ ایک عالمِ دین بھی ہیں، اور یہی وہ شناخت ہے جس کی وجہ سے ڈیجیٹل میڈیا کے اس شور و غوغا میں آپ کو ہر مکتبۂ فکر کے لوگوں کی طرف سے پذیرائی ملی، عزت ملی اور حوصلہ افزائی بھی۔
لوگوں نے آپ کو صرف اس لیے نہیں سنا کہ آپ اچھی گفتگو کر لیتے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انہیں آپ سے ایک دینی شخصیت، ایک سنجیدہ آدمی اور ایک ذمہ دار آواز ہونے کی توقع تھی۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں عبدالرحیم چاریاری کے ساتھ آپ کا جو انٹرویو سامنے آیا، وہ انتہائی مایوس کن محسوس ہوا۔ اس گفتگو میں بعض ایسے دعوے اور الزامات سامنے آئے جن کی سنگینی کا شاید خود آپ کو بھی اندازہ نہیں۔
اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے! تنقید کیجیے، بھرپور کیجیے! لیکن خدا کے لیے بغیر ثبوت کے ایسے الزامات نہ لگائیے جن سے لوگوں کی عزت، کردار اور پوری زندگی کی جدوجہد مشکوک ہو جائے۔
آپ نے جن شخصیات کے بارے میں گفتگو کی، وہ پاکستان کی وہ معروف دینی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے دفاع اور عقیدۂ اہلِ سنت کے تحفظ میں گزار دی ہیں۔ ان کے ساتھ علمی اختلاف ہو سکتا ہے، سیاسی اختلاف ہو سکتا ہے، کسی موقف سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ان کی نیتوں، ان کی وفاداریوں اور ان کی پوری جدوجہد پر بغیر دلیل اور ثبوت کے کیچڑ اچھالنا کہاں کا انصاف ہے؟
عمار بھائی!

آپ سے گزارش ہے کہ خود کو عام اینکرز اور عام سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی صف میں مت کھڑا کیجیے۔ ہر وائرل کلپ کامیابی نہیں ہوتا، ہر سنسنی خیز الزام حق نہیں ہوتا اور ہر متنازع گفتگو علم و تحقیق کی علامت نہیں ہوتی۔
اس اندھی گنگا میں ہاتھ مت دھوئیے!

آج سوشل میڈیا پر الزام لگانا آسان ہے، کردار کشی کرنا آسان ہے، کسی نامعلوم ذھنی مریض کی بے سروپا باتوں سےکسی کی برسوں کی جدوجہد کو مشکوک بنا دینا آسان ہے۔ مگر یاد رکھیے! ایک ذمہ دار آدمی کے لیے آسان راستہ ہمیشہ درست راستہ نہیں ہوتا۔
آپ اپنے بارے میں بھی سوچیں اور ان لوگوں کے بارے میں بھی سوچیں جو آپ سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔ جو آپ کو محض ایک سوشل میڈیا اسٹار نہیں بلکہ ایک دینی، علمی اور ذمہ دار شخصیت سمجھتے ہیں۔
اختلاف ضرور کیجیے، مگر دلیل کے ساتھ۔
تنقید ضرور کیجیے، مگر انصاف کے ساتھ۔
سوال ضرور اٹھائیے، مگر ثبوت کے ساتھ۔
کیونکہ الزام لگانا آسان ہے، لیکن الزام کے نتائج بہت دور تک جاتے ہیں۔
آج آپ کسی کی عزت پر بغیر ثبوت کے حملہ کریں گے تو کل آپ کی اپنی بات کی ساکھ بھی سوال بن جائے گی۔ اور یاد رکھیے، انسان کی سب سے بڑی دولت اس کے فالوورز نہیں ہوتے، اس کی ساکھ، کردار اور اعتبار ہوتے ہیں۔

عمار خان یاسر صاحب!

یہ بات دشمنی میں نہیں، بلکہ خیرخواہی میں کہی جا رہی ہے۔ آپ کے پاس ابھی بھی موقع ہے کہ آپ اپنے علمی مقام، اپنی دینی شناخت اور اپنی گفتگو کے معیار کو عام سوشل میڈیا کی گندگی سے بلند رکھیں۔

اپنی عزت خود اپنے ہاتھوں سے کم نہ کیجیے
عبدالحنان قریشی

Address

Talagang

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to اشاعت التوحید والسنتہ پاکستان:

Shortcuts

Share