10/04/2026
پاکستان میں الیکٹرک اسکوٹرز اور موٹرسائیکل کی مارکیٹ میں مارچ کے مہینے کے دوران غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر عیدالفطر کے بعد طلب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ملک بھر میں ڈیلرز نے الیکٹرک اسکوٹرز اور موٹرسائیکل بنانے والی کمپنیوں پر زور دیا ھے کہ وہ پیداوار اور سپلائی میں فوری اضافہ کریں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔
مارچ 2026 کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف کمپنیوں کی الیکٹرک اسکوٹرز اور موٹرسائیکل کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ فروخت ھونے والے برانڈ ای وی نے 7,000 یونٹس کے ساتھ سبقت حاصل کی، جبکہ ریوو 6,000 اور رمزہ آئیما 5,000 اسکوٹرز کی فروخت کے ساتھ نمایاں رھے۔ دیگر کمپنیوں میں کراؤن (3,000)، میٹرو (2,200)، اوکلا اور ایویون (2,000، 2,000)، یادیہ (1,200)، وائی جے فیوچر (800) اور ایکو دوست نے (180) الیکٹرک اسکوٹرز اور موٹرسائیکل فروخت کیں۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق اچانک بڑھتی ہوئی طلب کے باعث کئی اسمبلرز کا اسٹاک ختم ہو چکا ھے اور کچھ اسلمبرز کی جانب سے سپلائی تاخیر کا شکار ھے۔ موبائل ورلڈ میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ذریعے نے بتایا کہ متعدد کمپنیوں نے نئی کھیپ کے آرڈرز دے دیے ہیں اور جلد سپلائی بحال ہونے کی توقع ھے۔
ملک کے بڑے شہروں کراچی سے لے کر پشاور تک الیکٹرک بائیکس کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ھے، جس کی بڑی وجہ پیٹرول اور ڈیزل کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ صارفین اب کم خرچ اور ماحول دوست سفری ذرائع کی طرف تیزی سے مائل ہو رھے ہیں۔
دوسری جانب الیکٹرک اسکوٹرز اور موٹرسائیکل کی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث قیمتوں میں بھی اضافہ شروع ہو گیا ھے۔ بیٹری اور موٹرز کی درآمدی قیمتوں، خاص طور پر چین سے آنے والے پرزہ جات، میں اضافے نے کمپنیوں پر دباؤ بڑھا دیا ھے۔ ایلومینیم کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث موٹرز مہنگی ہو گئی ہیں، جس کا بوجھ اب صارفین پر منتقل کیا جا رہا ھے۔ مختلف کمپنیوں نے 3,000 سے 5,000 روپے تک قیمتوں میں اضافہ کیا ھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر زور دیا ھے تاکہ ایندھن کی درآمدات کم کی جا سکیں اور معیشت کو سہارا ملے۔ اس حوالے سے وزارتِ صنعت و پیداوار PAVE اسکیم کے تحت سبسڈی میں اضافے پر کام کر رہی ھے تاکہ الیکٹرک اسکوٹرز اور موٹرسائیکلز کے استعمال کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
مزید خبروں کے لیئے موبائل ورلڈ میگزین کو فالو کریں!