27/10/2015
ڈبوں میں محفوظ کھانے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، عالمی ادارہ صحت
ویب ڈیسک منگل 27 اکتوبر 2015
ہر سال 34 ہزار افراد پروسیسڈ کھانے کے استعمال سے کینسرکا شکار ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، ڈبلیو ایچ او، فوٹو:فائل
نیویارک: عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ڈبوں میں پکے ہوئے بند کھانے بالخصوص گوشت کھانے سے کینسر کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اس لیے اس سے پرہیز کیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے جاری کردہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ڈبوں میں پکا کر بند کیا ہوا 50 گرام گوشت روزانہ کھانے سے ’’کولوریکٹل‘‘ کینسر کا خطرہ 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جس سے ان کھانوں کے مضر صحت ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جب کہ ایسے پکے ہوئے لال گوشت سے سرطان کے خطرے کے بھی امکانات موجود ہوتے ہیں تاہم عام طریقے سے گوشت کھانے کے کچھ فائدے بھی اپنی جگہ ہیں۔ برطانوی کینسر ریسرچ سینٹر کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرخ گوشت بالکل نہیں چھوڑنا چاہیے لیکن کھانا کم کردیا جائے جب کہ کبھی کبھار بیف برگر وغیرہ کھانا کھا لینا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق ایسا گوشت جس میں کچھ تبدیلیاں لا کر اس کے اسٹور کرنے کی عمر بڑھائی جائے اور اس کے ذائقے کو دھویں، سالن یا نمک لگا کر تبدیل کردیا جائے ایسے گوشت کو پروسیسڈ گوشت کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس طرح یا بار بی کیو کے انداز میں گوشت پکانے سے کینسر پیدا کرنے والے کیمیکل جنم لیتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے اہم ممبر ڈاکٹر کرٹ اسٹریف کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص میں پروسیسڈ فوڈ کے استعمال سے کینسر کے خطرے کا بڑھ جانا اس کی استعمال کی گئی مقدار پر ہوتا ہے جتنی زیادہ مقدار میں یہ گوشت کھایا جائے گا اتنا ہی کینسرکا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق ہر سال 34 ہزار افراد پروسیسڈ کھانے کے استعمال سے کینسرکا شکار ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جب کہ سگریٹ نوشی سے 10 لاکھ اور شراب نوشی سے 6 لاکھ اپنی جان سے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ سرخ گوشت نقصان دہ ہے لیکن اس میں دیگر غذائی خوبیوں کے ساتھ آئرن، زنک اور وٹامن بی 12 بھی موجود ہوتے ہیں جو صحت کے اہم جز ہیں۔ یونیوسٹی آف آکسفورڈ کے پروفیسر ٹم کے کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ آپ سرخ گوشت کھانا ہی بند کردیں تاہم اگر آپ زیادہ گوشت کھانے کے عادی ہیں تو اس کی مقدار کم کردیں۔