15/10/2024
دو سطریں، دو را تیں مری کے قیام پر
اس دفعہ راولپنڈی سے مظفرآباد جاتے ہوئے مری سے مظفرآباد اُترنے کے بجائے وہیں قیام کرنے کا قصد کیا۔ بھوربن میں ہاشوانی سرائے سے اصلاً دو قدم اور محاورتاً سو قدم ذرا اور نیچے اُتر کر ایک اور صرائے میں قیام کیا۔ وہ اس لیے کے نیچے کی طرف مکان بناتے وقت اوپر سے آتی قدرتی آبی گزرگاہوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ لگ بھگ پچاس کمروں کی سرائے میں میرے علاوہ شاز ہی کوئی اور مسافر ٹہرا ہو۔ عملے کی آپسی گفتگو کے درمیان اچھا خاصا سناٹا رہتا۔ چائے منگوائی اور سناٹے کے درمیان سے ہوتا ہوا کھڑکی کے پاس ہو لیا۔ یہاں خاموشی نہیں تھی مگر چیڑ کے درخت، زور آور ہوا کی وجہ سے ایک خاص مطابقت پذیری میں حرکت کی وجہ سے "شش" گنگنا رہے تھے جیسے مجھے خاموش رہنے کی تلقین یا تنبیہ ہوے ہو۔
سامنے نیلا بٹ ضلع باغ اور ذرا اور پرے دائیں طرف مکڑا پہاڑ بادلوں کی زد میں ،اور دور بادلوں میں صرف چمک ،جبکہ اُن کی گرج سے پہلے کا رجز مری کے پہاڑ پڑھتے جاتے ہوں۔
یہ اکتوبر کی رات تھی اسو کاتک اس لیے نہیں کہا کے صدیوں پہلے انگریز کی طویل موجدگی کے آج بھی احساس کی وجہ سے دیسی مہینوں کا احساس مطابقت نہیں کھا رہا تھا۔ باقی مسافر جو جیٹھ ہاڑ کے مہینے میں مری گھومنے آتے ہیں اپنے حصے کا اسو کاتک جھیلنے شاید واپس چلے جاتے ہیں۔ دِل اور للچایا تو سرائے کی چھت کی طرف چل دیا۔
کھلی فضا میں درختوں کی خاص خوشبو موجود تھی جو جاندار ہوا کی باعث ٹہنی کے چٹخنے کی وجہ سے ذرا واضع محسوس ہو رہی تھی۔ جب مری میں کچھ نہ ہو تو پھر وہاں طلسم ہوتا ہے۔ اور ہوش ربای بھی۔ اکتوبر یا اسو شاید ملکہ کوہسار کی رونمائی کا مہینہ ہوتا ہے۔ اور کسی ایک پہاڑ کے نکے پر بادل اور چمک جیسے قدرت اس رونمائی کی عکس بندی میں مصروف ہو۔ اور باقی پہاڑوں پر درخت رجز پڑھنے کے بجائے مست و رقصاں ہوں۔ اور ہمارے حصے میں اس منظر کشی کا لطف۔
لعرزش منظر کشی بصورت الفاظ بوجہ خیالات مضطر و لعرزش علس بندی بصورت موبائل کیمرہ بر گردن کثیر عوامل ۔