18/07/2021
حب چوکی-
گزشتہ چند روز قبل مورخہ 14-7-2021 کو 4.30 بجے دن مری چوک حب کے رہائشی 2 نوجوان راشد ولد شاہنواز قوم مری اور عبدالغنی ولد حاجی احمد خان مری جو کہ زہری اسٹریٹ سے پل کے راستے موٹر سائیکل پر سوار ہوکرامیر آباد اپنے گھر مری چوک جارہے تھے کہ چند گروہ پر مشتمل 20 مسلح افراد نے انہیں گن پوائنٹ پر روک کر موٹرسائیکل سمیت انھیں اغواء کر کے آنکھوں میں کالے پٹیاں اور ہاتھ پاؤں باندھ کر اپنے گھر واقع امیر آباد ابا بکی ہاوس میں قائم نجی ٹارچر سیل جیل میں ڈال الگ الگ کمروں میں بہیمانہ تشدد لاٹھیاں اور لتر برسائے اور انہیں چار گھنٹے مسلسل ٹارچر کرکے حبس بےجا مارتے رہے اور حراساں کرتے رہے دونوں نوجوانوں کو زبردستی شراب پلانے کی بھی کوشش کی جن میں ایک نوجوان عبدالغنی نے ان کے سربراہ سردار سنااللہ ولد دارو خان ابابکی کو پہچان بھی لیا لیکن انہوں نے کوئی رحم نہ کھائی تشدد کی وجہ سے راشد ولد شاہنواز تشدد کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے تو انہوں نے سراج ابابکی کے سربراہی میں سٹی تھانہ حب سٹی کے حوالے کیلئے رابطہ کیا ورثہ کی جانب سے شام پانج5 بجے حب سٹی تھانے سمیت دیگر تمام تھانے کو اطلاع دی گئی تھی کہ ہمارے دو نوجوان لاپتہ ہیں جس پر ایس ایچ او سٹی حب نے ان کے ورثہ سے رابطہ کر نوجوانوں کی نشاندہی کی. ورثہ کی جانب سے سٹی تھانے درخواست دی جو محکمہ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کیلئے رضامندی ظاہر کی. اس دوران علاقہ معززین درمیان میں آئے جنہوں نے تھانہ میں کوئی کاروائی نہ کردینے کی سفارش کی اور بلوچی فیصلہ کرنے کو زیر غور کیا گیا جس پر ورثہ نے معززین کی بات مان کر خانگی فیصلہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن ملزمان نے جانب سے فیصلہ ماننے سے انکاری ہیں.
لہٰذا ہم اعلیٰ حکام
ڈی پی او لسبیلہ
ایس ایس پی لسبیلہ
ایس ایچ و حب سمیت دیگر اداروں کےعالی حکام سے ااپیل کرتے ہیں ملزمان کو گرفتار کرکے ان کی گھر میں قائم ٹارچر سیل جیل کو ختم کرکر نوجوانوں کو انصاف دی جائے... بصورت ورثہ احتجاجی مظاہرہ کے حق رکھ سکتے ہیں