02/10/2025
*✅ گاڑیاں درآمد کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان کے نئے قوانین (2025)*
1. بین الاقوامی سیفٹی اور کوالٹی اسٹینڈرڈ لازمی
• اب ہر درآمد شدہ گاڑی کو UNECE WP-29 کے مطابق سیفٹی، ماحول اور کوالٹی کے اصولوں پر پورا اترنا ہوگا۔
• اس میں شامل ہیں: بریکس، سیٹ بیلٹس، ایئر بیگز، لائٹس، ٹائر، اسٹیئرنگ سسٹم، دھوئیں کا اخراج (emissions)، اور کریش پروٹیکشن وغیرہ۔
• اگر کوئی گاڑی کسی اور ملک کے اسٹینڈرڈ کے مطابق ہے تو EDB کی منظوری کے بعد قبول کی جائے گی۔
2. افراد نہیں، صرف رجسٹرڈ کمپنیاں استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرسکیں گی
• اب کوئی عام شخص کاروباری بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑی درآمد نہیں کرسکتا۔
• صرف وہ کمپنیاں جو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ ہوں اور جن کا اصل کاروبار گاڑیاں درآمد کرنا ہو وہ یہ کام کرسکیں گی۔
3. سرمایہ کی کم سے کم حد حکومت مقرر کرے گی
• گاڑیاں درآمد کرنے والی کمپنیوں کے لئے کم سے کم سرمایہ (Paid-up Capital) حکومت بعد میں طے کرے گی۔
4. بینکنگ چینل کے ذریعے ادائیگی لازمی
• گاڑیوں کی درآمد صرف بینکنگ چینل کے ذریعے ہوگی، ہنڈی یا غیر رسمی طریقہ استعمال نہیں ہوسکے گا۔
• ہر گاڑی کا ریکارڈ محفوظ رکھنا لازمی ہوگا۔
5. اسپیئر پارٹس اور سروس کی فراہمی کی ذمہ داری بھی کمپنی پر ہوگی
• جو کمپنی گاڑی درآمد کرے گی، وہی گاڑی کی پوری مدت تک اس کے پرزے اور سروس فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔
6. بیرون ملک سے روانگی سے پہلے معائنہ رپورٹ لازمی
• ہر استعمال شدہ گاڑی کے ساتھ ایک انٹرنیشنل انسپکشن ایجنسی (جیسے JAAI, JEVIC, KTL, CAERI) کی رپورٹ لگی ہوگی، جس میں لکھا ہو کہ:
• گاڑی کسی بڑے حادثے میں شامل نہیں ہوئی
• میٹر (Odometer) اصلی ہے، چھیڑچھاڑ نہیں ہوئی
• گاڑی کا انجن، اندرونی و بیرونی حالت درست ہے
• ایئر بیگ موجود ہیں
• دھواں / اخراج ماحول دوست ہے
7. پاکستان میں اترنے کے بعد دوبارہ معائنہ
• گاڑی پاکستان پہنچنے کے بعد ایک مرتبہ پھر تھرڈ پارٹی انسپیکشن ہوگا، جس کا خرچ درآمد کرنے والی کمپنی برداشت کرے گی۔