The JS Enterprises

The JS Enterprises The JS Enterprises is a General Trading E-Company. General Trading

13/04/2025
13/04/2025

خبردار فارغ مت بیٹھو اور راحت کا عادی مت بنو کہ کمزوری اور خوف کے باعث میدان کسی اور کے لیے چھوڑ دو

خبردار فضول چیزوں میں نہ الجھو جبکہ تمہیں اس وقت خود کو نکھارنے اور مضبوط کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے
ایسے درخت کی مانند جمے رہو جو کبھی نہیں مرتا اور ہوشیار رہو کہ خود کو کھو نہ دو

تم پر سخت دن آئیں گے تمہاری کچھ سوچیں قید ہو جائیں گی
تمہارے اندر لگایا ہوا کچھ پودا مرجھا جائے گا مگر اگر تم کھڑے رہے تو وہ پھر سے پھوٹے گا

یہ وقت مایوسی کا نہیں نہ ہی کمزوری کا نہ شکست تسلیم کرنے کا نہ فضولیات میں وقت ضائع کرنے کا

یہ وقت ہے خود کو تیار کرنے کا خود کو طاقتور بنانے کا

جتنا ہو سکے مضبوط بنو

11/04/2025

اگر آپ ہوٹل میں چائے میں چینی یا دودھ اس مقدار سے زیادہ ڈالتے ہیں جتنی آپ اپنے گھر میں ڈالتے ہیں
تو آپ میں بدعنوانی کا رجحان موجود ہے

اگر آپ کسی ریسٹورینٹ یا عوامی جگہ پر ٹشو پیپر، صابن یا خوشبو کا استعمال گھر کے مقابلے میں زیادہ کرتے ہیں
تو اگر آپ کو موقع ملے تو آپ سرکاری مال ہضم کر سکتے ہیں

اگر آپ شادیوں یا کھلے بوفے میں اتنا کھانا بھر لیتے ہیں جتنا آپ کھا بھی نہیں سکتے
صرف اس لیے کہ بل کوئی اور دے رہا ہے
تو آپ میں یہ رجحان موجود ہے کہ اگر کبھی آپ کو عوامی پیسے کھانے کا موقع ملے تو آپ ضرور کھائیں گے

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سڑک سے اٹھایا گیا پیسہ یا چیز آپ کا حق ہے
تو یہ آپ میں چوری کی ابتدائی علامت ہے

اگر آپ اکثر لوگوں کا پہلا نام نہیں بلکہ ان کا قبیلہ یا آخری نام جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں
تو آپ میں تعصب ہے اور امکان ہے کہ آپ کسی کو صرف اس کے پس منظر یا نسل کی بنیاد پر فائدہ دیں
اور اگر آپ شخص کو اس کی سوچ اور کام سے نہیں بلکہ اس کی ذات سے پرکھتے ہیں
تو آپ کا نظریہ انصاف پر نہیں ہے

اگر آپ ٹریفک قوانین کو توڑتے ہیں یا اشاروں کا احترام نہیں کرتے
تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ آپ میں دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی صلاحیت موجود ہے
چاہے اس سے معصوم لوگ متاثر ہی کیوں نہ ہوں

اگر آپ نے اس تحریر کو پڑھ کر یہ سوچا کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر کرنا کیا ضروری ہے
تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ذاتی مفاد کو معاشرتی اصلاح پر ترجیح دیتے ہیں

آئیے کوشش کریں کہ ہم جہاں بھی ہوں
ایسے انسان بنیں جو اصول اور ایمانداری کو اپنائیں
اور یہ یاد رکھیں
ایمانداری وہ ہوتی ہے جو انسان تنہائی میں کرے
نہ کہ صرف لوگوں کے سامنے دکھاوے کے لیے

Always love people from your heart, not from your mood or need.
08/04/2025

Always love people from your heart, not from your mood or need.

رفح کو مکمل مٹا دیا گیا‼️نہ کوئی دیوار بچینہ کوئی سایہ😢نہ کوئی آواز💔نہ کوئی سانسدل تھم گیا ہےاور الفاظ بھی شرمندہ ہیںالل...
05/04/2025

رفح کو مکمل مٹا دیا گیا‼️
نہ کوئی دیوار بچی
نہ کوئی سایہ😢
نہ کوئی آواز💔
نہ کوئی سانس

دل تھم گیا ہے
اور الفاظ بھی شرمندہ ہیں

اللّٰه اہلِ رفح پر رحم فرمائے
جن کے وجود کی چیخیں
اب بھی مٹی میں دفن ہیں

یہ صرف ملبہ نہیں
یہ گواہی ہےکہ انسانیت اب بھی امتحان میں ہے

فحاشی مردوں کے خلاف ایک خاموش جنگ ہےاور بدقسمتی سے بہت سے مرد یہ جنگ ہار رہے ہیںبغیر اس کے کہ انہیں اس کا احساس ہوجب فحا...
04/04/2025

فحاشی مردوں کے خلاف ایک خاموش جنگ ہے
اور بدقسمتی سے بہت سے مرد یہ جنگ ہار رہے ہیں
بغیر اس کے کہ انہیں اس کا احساس ہو

جب فحاشی جیتتی ہے
تو مرد اندر سے ہار جاتا ہے

آج کے دور میں فحش مواد ایک خطرناک حقیقت بن چکا ہے
یہ ایک ایسا جال ہے جو مرد کو بے خبری میں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے
یہ مفت میں دستیاب ہوتا ہے
اور یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی نارمل اور صحت مند چیز ہو
جبکہ حقیقت میں یہ غیر فطری اور نقصان دہ ہے

1 خود پر کنٹرول اور مردانگی کا زوال
جس دور میں اصل مردانگی کم ہوتی جا رہی ہے
اس دور میں مرد کو محافظ اور رہنما ہونا چاہیے
لیکن فحاشی مرد کی توجہ اصل ذمہ داریوں سے ہٹا دیتی ہے
یہ عورتوں بلکہ بعض اوقات بچوں کی تذلیل اور استحصال پر مبنی ہوتی ہے
جس سے مرد کا دماغ متاثر ہوتا ہے اور وہ خود غرض بننے لگتا ہے

جو مرد اپنی خواہشات کا غلام ہو
وہ لیڈر نہیں ہو سکتا
اپنے نفس پر قابو ہی اصل مردانگی ہے

2 ذہنی غلامی اور قابو میں آنا
فحش مواد مرد کو ایک مصنوعی خوشی کا احساس دیتا ہے
ایسا لگتا ہے جیسے سب کچھ ٹھیک ہے
مگر درحقیقت یہ اسے اندر سے کمزور کر دیتا ہے
وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی بجائے بس تماشائی بن جاتا ہے
اور یہی کمزوری معاشرے میں منفی طاقتوں کو اوپر لاتی ہے

3 تعلقات اور محبت پر اثر
فحاشی دیکھنے والا مرد حقیقی محبت سے محروم ہو جاتا ہے
اس کی خواہشیں غیر فطری ہو جاتی ہیں
اور وہ عورت اور ازدواجی رشتے کو صرف ایک جسمانی تعلق سمجھنے لگتا ہے
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نہ کسی رشتے میں سچائی لا پاتا ہے
نہ گھر بسا پاتا ہے نہ دل سے محبت کر پاتا ہے

4 دماغ پر تباہ کن اثرات
فحش مواد دماغ میں کیمیکل کی خرابی پیدا کرتا ہے
جس سے انسان کے احساسات غیر متوازن ہو جاتے ہیں
پھر انسان بے وجہ بے چینی ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے
اور اسے لگتا ہے کہ وہ کبھی نہیں بدل سکتا
یوں وہ بار بار اسی دلدل میں واپس چلا جاتا ہے

5 ایک تماشائی بن جانا
فحاشی مرد کو ایک بے عمل انسان بنا دیتی ہے
وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی بجائے صرف دوسروں کو دیکھنے لگتا ہے
نہ خود کچھ حاصل کرتا ہے نہ کچھ بننے کی کوشش
یوں وقت کے ساتھ وہ اپنی زندگی کا تماشائی بن جاتا ہے

اس بے بسی کی کیفیت مرد کو خود سے نفرت کی طرف لے جاتی ہے
اور جب وہ اپنی حالت بدلنے کے لیے کچھ نہیں کرتا
تو زندگی ایک حقیقت بن جاتی ہے جس میں وہ صرف ہارتا ہے

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فحاشی ان کی زندگی کو متاثر نہیں کرتی
مگر یہ صرف ایک دھوکہ ہے
جو لوگ اس کی تباہ کاریوں کو پہچان چکے ہیں
وہی آج بھی بچی ہوئی عزت نفس اور طاقت کے قلعوں میں کھڑے ہیں

اگر آپ چاہیں تو ایک نیکی میں شریک ہوں
صرف ایک بار اس پیغام کو آگے بڑھائیں
اور کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بنیں
کیونکہ جو نیکی کی رہنمائی کرتا ہے
اسے ویسا ہی اجر ملتا ہے جیسے کرنے والے کو

فالو کریں شیئر کریں اور روشنی پھیلائیں

اگر آپ چاہیں

دو اونٹوں کی تصویر جو ایک دوسرے کو مار ڈالتے ہیں بغیر کسی کے ہار مانے... اور نر اونٹ کو جانوروں میں سب سے زیادہ جنگجو سم...
02/04/2025

دو اونٹوں کی تصویر جو ایک دوسرے کو مار ڈالتے ہیں بغیر کسی کے ہار مانے... اور نر اونٹ کو جانوروں میں سب سے زیادہ جنگجو سمجھا جاتا ہے۔
علامہ ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا:
"عربی لوگ اونٹ کا گوشت کھاتےہیں تو ان میں غیرت اور سختی پیدا ہوئی۔
ترکی لوگ گھوڑے کا گوشت کھاتےہیں تو ان میں درندگی اور طاقت آئی۔
فرنگی انگریز سور کا گوشت کھاتےہیں تو ان میں بے غیرتی پیدا ہوئی۔
اور سیاہ فام بندر کا گوشت کھاتےہیں تو ان میں رقص و سروردکا شوق پیدا ہوا۔"
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ہر وہ شخص جو کسی مخصوص جانور سے مانوس ہوتا ہے، وہ اس کی طبیعت اور خصلت کو اپنا لیتا ہے، اور اگر وہ اس کا گوشت کھائے تو یہ مشابہت مزید بڑھ جاتی ہے۔"
ہم آج کے دور میں زیادہ تر برائلر مرغی کھاتے ہیں، اس لیے ہم نے اس سے
"ہچکچاہٹ (بے معنی بول چال)، بزدلی، گردن جھکانا، نہ اڑنا اور زیادہ باتیں کرنا" سیکھ لیا ہے۔

تم مجھے بتاتے ہو کہ پاکستان میں پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہیں لیکن تم یہ نہیں بتا...
02/04/2025

تم مجھے بتاتے ہو کہ پاکستان میں پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ جس کولر کے ساتھ یہ گلاس بندھا ہوا تھا وہ بھی کسی پاکستانی نے کبھی ایثال ثواب کے لئے اپنے کسی عزیز کا نام لکھ کر یا ویسے ہی آخرت میں ثواب کے حصول کے لئے اس چلتی راہ میں لگا دیا

تم مجھے بتاتے ہو کہ مسجد سے جوتے اٹھا لئے جاتے ہیں اب تو اللہ کا گھر بھی محفوظ نہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ اس مسجد کی تعمیر میں کتنے پاکستانیوں نے اپنی محدود اور لامحدود آمدنی سے چند سکے جوڑ کر یا لاکھوں کے چیکس کی صورت میں حصہ ڈالا ہے تم یہ نہیں بتاتے کہ وہاں لوگوں کے سکون کی خاطر بجلی کا بل کوئی بھر رہا ہے وہاں پنکھے ہیٹرز اور اے سی سسٹم کے لئے کچھ لوگ خاموش رہ کر مسلسل حصہ ڈالتے ہیں

تم مجھے بتاتے ہو کہ کسی ایک جگہ ایکسیڈنٹ ہوا تو لوگوں نے زخمیوں کے بٹوے تک نکال لئے لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ ان رخمیوں کو ہسپتال پہنچانے والے بھی اسی دھرتی کے باسی تھے یہی وہ لوگ ہیں جو ہر حادثے کے بعد خون دینے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں

تم یہ تو بتاتے ہو کہ زلزلے میں ملنے والی امداد چند لوگ کھا گئے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ لاکھوں لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے گھروں سے بالکل نئے بستر نکال کر 2005 کے زلزلے کے بعد ٹرکوں کے ٹرک بھر کر مسائل زدہ بھائیوں کے لئے بھجوا دئے تھے

تم یہ تو بتاتے ہو کہ کسی ناکے پر ایک پولیس والے نے کسی نوجوان کو گولی مار دی لیکن تم بھول جاتے ہو کہ کتنے سپوت غیور ہماری ماؤں نے اس دھرتی کے اوپر وار دئیے

تم مجھے بل گیٹس کے فلاحی کاموں کی مثالیں دیتے ہو لیکن میرے ایدھی اور چھیپا کو بھول جاتے ہو

تم مجھے بتاتے ہو کہ ایک مشرف اور یحیی خان تھا لیکن تم بھول جاتے ہوکہ ایک میجر عزیز بھٹی تھا ایک سوار محمد حسین تھا ایک میجر طفیل تھا ایک لالک جان بھی تھا

تم مجھے بتاتے ہوکہ ایک بنگلہ دیش بن گیا جس کے ڈاکٹر یونس کو گرامین بنک پر نوبل انعام مل گیا لیکن تم میرے ڈاکٹر امجد ثاقب کو بھول جاتے ہو

تم مجھے بتاتے ہو کہ میرے سکولوں کے اساتذہ گنوار اور جاہل ہیں بچوں پر ظلم ڈھاتے ہیں لیکن تم میرے شجیع نصراللہ کی دریائے کنہار میں لگائی جانے والی چھلانگ بھول جاتے ہو تم میری سمیعہ نورین کو بھول جاتے ہو جو خود جل گئی لیکن بہت سے بچوں کو بچا گئی اور آرمی پبلک سکول کی طاہرہ قاضی کو بھی بھول جاتے ہو

لگے رہو تم لگے رہو میں بھی لگا ہوا ہوں تم ہر موقعے پرشورمچاتے رہو میں ان چراغوں کی روشنی میں مزید چراغ جلاتا رہوں گا تم مایوسی پھیلاتے رہو میں امید کی ایک مدھم سی کرن کے پیچھے بھی چلوں گا میں جانتا ہوں کہ اس کرن کے پیچھے کوئی سورج ہے کوئی چاند ہے دیکھ لینا یہ روشنی کسی دن میرا آنگن نور سے بھر دے گی۔

تم تب پلٹو گے جب میں کامیابی کی آخری سیڑھی پر کھڑا مسکرا رہا ہوں گا لیکن میں تمہیں پھر بھی خوش آمدید کہوں گا کہ میں امن سلامتی اور محبت کا داعی پاکستان ہوں میں ہی پاکستان ہوں .

اپنی چاۓ پیئں، خاموشی کو اپنائیں، لوگوں کو سنجیدگی سے نہ لیں، اپنے جذبات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں، پرسکون رہیں۔اگر کس...
02/04/2025

اپنی چاۓ پیئں، خاموشی کو اپنائیں، لوگوں کو سنجیدگی سے نہ لیں،
اپنے جذبات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کریں، پرسکون رہیں۔

اگر کسی کا کوا سفید ہے تو اسے سفید ہی رہنے دیں کالا ثابت کرنے کی کوشش نہ کریں،

اگر کوئی یہ تسلیم کرچکا ھے کہ ہاتھی درخت پر بیٹھا ہے
تو اس کے ہاتھی کو نیچے اتارنے میں اپنا وقت، جذبات اور اپنے الفاظ ضائع نہ کریں۔

اپنے الفاظ اور خیالات ان پر استعمال کریں جو غلطی پر ہیں ان پر نہیں جو ضد پر ہیں۔

‏یہ ہوتا ہے انصاف۔۔ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے ک...
01/04/2025

‏یہ ہوتا ہے انصاف۔۔
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔

جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"

"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔

"کیوں؟"

"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔

"خرید لیتے"

"پیسے نہیں تھے"

"گھر والوں سے لے لیتے"

"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"

"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"

"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"

"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"

"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"

جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔

"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"

فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔
("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں)
منقول

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The JS Enterprises posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The JS Enterprises:

Share