21/06/2026
💥 میرے بیٹے نے اچانک اپنے ابو کے کمرے میں جانا چھوڑ دیا. میں نے اسے بدتمیزی سمجھا، مگر اصل وجہ سن کر میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔💔🥹
شروع میں مجھے یہ بات اتنی بڑی نہ لگی۔ بچے کبھی کبھی ضد میں بھی اپنی چھوٹی سی سلطنت قائم کر لیتے ہیں۔ کبھی صوفے کے نیچے چھپ جاتے ہیں، کبھی ماں کے دوپٹے میں منہ دے کر دنیا سے اعلانِ جنگ کر دیتے ہیں۔
مگر ایان کی ضد میں کھیل نہیں تھا۔
اُس میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔
ہارون دفتر سے آتے تو پہلے ایان جوتوں کی چرمر سنتے ہی دروازے تک بھاگتا تھا۔ ابو کے گھٹنوں سے لپٹ جاتا۔ بیگ پکڑ کر کمرے تک لے جاتا۔ پھر خود بھی اُن کے پیچھے پیچھے اندر چلا جاتا، جیسے باپ کا کمرہ نہیں، کوئی میلہ ہو جہاں صرف اُس کا داخلہ مفت ہو۔
اب وہی بچہ ہارون کی موٹر سائیکل کی آواز سنتے ہی میرے قریب آ بیٹھتا۔
“امی، آج میں نے ہوم ورک کر لیا ہے۔”
حالانکہ اُس کی کاپی ابھی بیگ میں بند ہوتی۔
ہارون آواز دیتے:
“ایان، ذرا کمرے میں آؤ، spelling سناؤ۔”
ایان کا چھوٹا سا چہرہ یوں سفید پڑ جاتا جیسے کسی نے اندر سے بتی بجھا دی ہو۔
“امی، مجھے پیاس لگی ہے۔”
“ابھی تو پانی پیا ہے۔”
“پھر واش روم…”
“ایان!”
میری آواز میں جھنجھلاہٹ آ جاتی۔
“ابو بلا رہے ہیں۔ بدتمیزی نہیں کرتے۔”
وہ میری طرف دیکھتا۔ اُس کی آنکھوں میں التجا ہوتی، مگر زبان پر کوئی لفظ نہیں آتا۔ بچے بعض اوقات پورا جملہ آنکھوں سے بول دیتے ہیں، اور ہم بڑے اُنہیں بدتمیزی سمجھ کر ڈانٹ دیتے ہیں۔
ہارون برا آدمی نہیں تھا۔
محلے میں لوگ اُس کی شرافت کی مثال دیتے تھے۔ مسجد کی صف میں بھی سیدھا کھڑا ہوتا، بازار میں تول کر بولتا، دفتر سے واپس آتے ہوئے کبھی بچوں کے لیے بن کباب لے آتا، کبھی آدھا کلو جلیبی۔
بس ایک بات تھی۔
پڑھائی کے معاملے میں اُس کے اندر کوئی پرانا، سخت گیر باپ جاگ اٹھتا تھا۔
وہی باپ جو شاید کبھی اُس کے اپنے بچپن میں تختی کے کنارے بیٹھا رہا تھا۔ وہی آواز جو کہتی تھی:
“لڑکے روتے نہیں۔”
“غلطی شرم کی بات ہے۔”
“نالائق کہیں کا۔”
شام کو گھر میں مغرب کی اذان اتر رہی ہوتی۔ کچن میں دال کا بگھار اٹھتا۔ چھت کا پنکھا ایک ہی جگہ گھومتے گھومتے گھر کی گھٹن کو مزید پھیلا دیتا۔ ایسے میں ہارون ایان کو اپنے کمرے میں بٹھا لیتا۔
دروازہ مکمل بند نہیں ہوتا تھا، مگر اتنا بند ضرور ہوتا کہ آوازیں دب کر آئیں۔
“cat کی spelling؟”
خاموشی۔
“اتنا بھی نہیں آتا؟”
پھر scale کا میز پر پڑنا۔
ٹھک!
میں کچن سے چونک کر دیکھتی، پھر خود کو سمجھا لیتی۔
باپ ہے۔ پڑھا رہا ہے۔ بچے کو تھوڑی سختی چاہیے۔
ہم عورتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ بچے کے آنسو دیکھ کر پگھل جاتی ہیں، مگر شوہر کے لہجے کو گھر کی تربیت سمجھ کر خاموش رہ جاتی ہیں۔
چند دن بعد ایان نے رات کو سوتے سوتے میرے بازو کو سختی سے پکڑ لیا۔
“امی، میں نالائق نہیں ہوں نا؟”
میں نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا:
“نہیں بیٹا، تم بہت اچھے ہو۔ سو جاؤ۔”
وہ سو گیا، مگر یہ سوال میرے اندر جاگتا رہا۔
اگلی صبح اُس کی کاپی کھولی تو آخری صفحے پر پنسل سے ایک ہی جملہ بار بار لکھا ہوا تھا۔
“میں نالائق نہیں ہوں۔”
لکیر کہیں گہری تھی، کہیں ٹوٹی ہوئی۔ ایک جگہ پنسل اتنی زور سے دبی تھی کہ کاغذ پھٹ گیا تھا۔
میں نے ایان کو بلایا۔
وہ آیا، مگر کاپی دیکھتے ہی اُس کے ہونٹ کانپنے لگے۔
“یہ کس نے لکھوایا؟”
“کسی نے نہیں۔”
“پھر کیوں لکھا؟”
اُس نے اپنی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔
“بس ایسے ہی۔”
اُسی وقت ہارون نے کمرے سے آواز دی:
“ایان! آج dictation دوبارہ ہوگی۔ کاپی لے کر آؤ۔”
ایان نے کاپی کو ایسے دیکھا جیسے وہ کاپی نہ ہو، کوئی سزا نامہ ہو۔
پھر وہ میرے پیچھے چھپ گیا۔
اس بار میں نے اُسے نہیں ڈانٹا۔
میں فرش پر اُس کے برابر بیٹھ گئی۔ اُس کے پاؤں ٹھنڈے تھے۔ جون کی گرمی میں ایک چھ سالہ بچے کے پاؤں ٹھنڈے نہیں ہونے چاہئیں۔
“ایان، سچ بتاؤ۔ تم ابو کے کمرے میں کیوں نہیں جاتے؟”
وہ خاموش رہا۔
میں نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔
“میں نہیں ڈانٹوں گی۔”
بچے کو یقین دلانے میں وقت لگتا ہے، خاص طور پر جب وہ گھر ہی کے کسی لہجے سے ڈرا ہو۔
وہ آہستہ سے بولا:
“امی… ابو کے کمرے میں میری غلطی بڑی ہو جاتی ہے۔”
میری سانس رک سی گئی۔
“کیا مطلب؟”
اُس کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔
“میں باہر spelling بھولوں تو بس spelling بھولتا ہوں۔ ابو کے کمرے میں بھولوں تو میں نالائق ہو جاتا ہوں۔”
میں نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“ابو نے تمہیں مارا؟”
وہ فوراً بولا:
“نہیں۔”
پھر ذرا رک کر کہا:
“بس میز کو مارتے ہیں۔ scale سے۔”
اُس نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔
“آواز لگتی ہے یہاں۔”
اُس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔
“یہاں بھی۔”
کمرے کے دروازے پر ہارون کھڑا تھا۔
اُس کے ہاتھ میں وہی لکڑی کا scale تھا، جس کے ایک کونے پر پرانی سیاہی جمی ہوئی تھی۔ پہلے اُس کے چہرے پر ناگواری آئی، پھر وہ آہستہ آہستہ اتر گئی۔ شاید آدمی کو اپنا ظلم تب نظر آتا ہے جب وہ بچے کے لفظوں میں واپس آتا ہے۔
“ایان…” ہارون کی آواز بھاری تھی، “میں نے تمہیں کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔”
ایان نے میری قمیض کا دامن پکڑ لیا۔
“ابو، ہاتھ نہیں لگایا… مگر میری آواز چھوٹی کر دی۔”
ہارون نے scale کو دیکھا۔
جیسے پہلی بار دیکھا ہو۔
پھر اُس نے scale میز پر نہیں، الماری کے اوپر رکھ دیا۔
ایان اب بھی میرے پیچھے تھا۔
ہارون گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
“بیٹا، ابو سے غلطی ہوئی۔”
ایان نے فوراً کچھ نہیں کہا۔ بچے معافی کے لفظ سے زیادہ لہجے کو تولتے ہیں۔
کافی دیر بعد اُس نے پوچھا:
“اگر مجھے کل بھی spelling نہ آئی تو؟”
ہارون نے نظریں جھکا لیں۔
“تو کل دوبارہ پڑھ لیں گے۔”
“اور اگر پھر بھی نہ آئی؟”
کمرے میں دال کے بگھار کی خوشبو، پنکھے کی آواز، مغرب کے بعد کی ادھوری روشنی سب رُک سے گئے۔
ہارون نے بہت آہستہ کہا:
“تو ابو اپنی آواز آہستہ کر لیں گے۔”
ایان نے پہلی بار اُس کی طرف دیکھا۔
مگر اُس رات وہ ہارون کے کمرے میں نہیں گیا۔
بس دروازے کے پاس بیٹھ کر اپنی کاپی کھول لی۔
اگلے کئی دن گھر میں پڑھائی ہوتی رہی۔ spelling غلط ہوتی رہی۔ cat کبھی cot بنتا، school کبھی skool، اور ہارون ہر غلط لفظ کے بعد اپنا گلا صاف کر کے خاموش ہو جاتا، جیسے اندر بیٹھے پرانے باپ کو دوبارہ سلا رہا ہو۔
ایک شام ایان نے کاپی میں “father” لکھا۔
fater لکھا۔
پھر خود ہی مٹا دیا۔
ہارون نے ہاتھ بڑھایا، مگر scale وہاں نہیں تھا۔
ایان نے اوپر الماری کی طرف دیکھا، پھر باپ کی طرف۔
“ابو، وہ واپس تو نہیں آئے گا؟”
ہارون نے پوچھا:
“کون؟”
ایان نے کہا:
“وہ scale والا ابو۔”
ہارون کے چہرے پر ایک سایہ سا گزرا۔
اُس نے ایان کے بالوں پر ہاتھ رکھا، مگر ایان ذرا سا پیچھے ہٹ گیا۔
بس ذرا سا۔
اتنا سا فاصلہ کہ کسی عدالت میں ثابت نہ ہو سکے۔
مگر ایک باپ کے لیے عمر بھر کی سزا بن جائے۔
اس رات ہارون نے scale توڑ کر کچرے میں پھینک دیا۔
صبح خاکروب نے وہ ٹوٹا ہوا scale اٹھایا تو اُس کے ساتھ ایک کاغذ بھی چپکا ہوا تھا۔
اُسی پر بچے کی لکھائی میں لکھا تھا:
“میں نالائق نہیں ہوں۔”
کاغذ پر بارش کا ایک قطرہ گرا یا شاید کسی کی آنکھ سے پانی۔
لفظ پھیل گئے تھے۔
مگر “نہیں” ابھی تک صاف پڑھا جا رہا تھا۔
افسانہ: میں نالائق نہیں ہوں
©️ انتخاب سخن