Al harem motors

Al harem motors Sell and parches of cars
And rent acar

Permanently closed.
21/06/2026

💥 میرے بیٹے نے اچانک اپنے ابو کے کمرے میں جانا چھوڑ دیا. میں نے اسے بدتمیزی سمجھا، مگر اصل وجہ سن کر میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔💔🥹

شروع میں مجھے یہ بات اتنی بڑی نہ لگی۔ بچے کبھی کبھی ضد میں بھی اپنی چھوٹی سی سلطنت قائم کر لیتے ہیں۔ کبھی صوفے کے نیچے چھپ جاتے ہیں، کبھی ماں کے دوپٹے میں منہ دے کر دنیا سے اعلانِ جنگ کر دیتے ہیں۔

مگر ایان کی ضد میں کھیل نہیں تھا۔

اُس میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔

ہارون دفتر سے آتے تو پہلے ایان جوتوں کی چرمر سنتے ہی دروازے تک بھاگتا تھا۔ ابو کے گھٹنوں سے لپٹ جاتا۔ بیگ پکڑ کر کمرے تک لے جاتا۔ پھر خود بھی اُن کے پیچھے پیچھے اندر چلا جاتا، جیسے باپ کا کمرہ نہیں، کوئی میلہ ہو جہاں صرف اُس کا داخلہ مفت ہو۔

اب وہی بچہ ہارون کی موٹر سائیکل کی آواز سنتے ہی میرے قریب آ بیٹھتا۔

“امی، آج میں نے ہوم ورک کر لیا ہے۔”

حالانکہ اُس کی کاپی ابھی بیگ میں بند ہوتی۔

ہارون آواز دیتے:

“ایان، ذرا کمرے میں آؤ، spelling سناؤ۔”

ایان کا چھوٹا سا چہرہ یوں سفید پڑ جاتا جیسے کسی نے اندر سے بتی بجھا دی ہو۔

“امی، مجھے پیاس لگی ہے۔”

“ابھی تو پانی پیا ہے۔”

“پھر واش روم…”

“ایان!”

میری آواز میں جھنجھلاہٹ آ جاتی۔

“ابو بلا رہے ہیں۔ بدتمیزی نہیں کرتے۔”

وہ میری طرف دیکھتا۔ اُس کی آنکھوں میں التجا ہوتی، مگر زبان پر کوئی لفظ نہیں آتا۔ بچے بعض اوقات پورا جملہ آنکھوں سے بول دیتے ہیں، اور ہم بڑے اُنہیں بدتمیزی سمجھ کر ڈانٹ دیتے ہیں۔

ہارون برا آدمی نہیں تھا۔

محلے میں لوگ اُس کی شرافت کی مثال دیتے تھے۔ مسجد کی صف میں بھی سیدھا کھڑا ہوتا، بازار میں تول کر بولتا، دفتر سے واپس آتے ہوئے کبھی بچوں کے لیے بن کباب لے آتا، کبھی آدھا کلو جلیبی۔

بس ایک بات تھی۔

پڑھائی کے معاملے میں اُس کے اندر کوئی پرانا، سخت گیر باپ جاگ اٹھتا تھا۔

وہی باپ جو شاید کبھی اُس کے اپنے بچپن میں تختی کے کنارے بیٹھا رہا تھا۔ وہی آواز جو کہتی تھی:

“لڑکے روتے نہیں۔”

“غلطی شرم کی بات ہے۔”

“نالائق کہیں کا۔”

شام کو گھر میں مغرب کی اذان اتر رہی ہوتی۔ کچن میں دال کا بگھار اٹھتا۔ چھت کا پنکھا ایک ہی جگہ گھومتے گھومتے گھر کی گھٹن کو مزید پھیلا دیتا۔ ایسے میں ہارون ایان کو اپنے کمرے میں بٹھا لیتا۔

دروازہ مکمل بند نہیں ہوتا تھا، مگر اتنا بند ضرور ہوتا کہ آوازیں دب کر آئیں۔

“cat کی spelling؟”

خاموشی۔

“اتنا بھی نہیں آتا؟”

پھر scale کا میز پر پڑنا۔

ٹھک!

میں کچن سے چونک کر دیکھتی، پھر خود کو سمجھا لیتی۔

باپ ہے۔ پڑھا رہا ہے۔ بچے کو تھوڑی سختی چاہیے۔

ہم عورتیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ بچے کے آنسو دیکھ کر پگھل جاتی ہیں، مگر شوہر کے لہجے کو گھر کی تربیت سمجھ کر خاموش رہ جاتی ہیں۔

چند دن بعد ایان نے رات کو سوتے سوتے میرے بازو کو سختی سے پکڑ لیا۔

“امی، میں نالائق نہیں ہوں نا؟”

میں نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا:

“نہیں بیٹا، تم بہت اچھے ہو۔ سو جاؤ۔”

وہ سو گیا، مگر یہ سوال میرے اندر جاگتا رہا۔

اگلی صبح اُس کی کاپی کھولی تو آخری صفحے پر پنسل سے ایک ہی جملہ بار بار لکھا ہوا تھا۔

“میں نالائق نہیں ہوں۔”

لکیر کہیں گہری تھی، کہیں ٹوٹی ہوئی۔ ایک جگہ پنسل اتنی زور سے دبی تھی کہ کاغذ پھٹ گیا تھا۔

میں نے ایان کو بلایا۔

وہ آیا، مگر کاپی دیکھتے ہی اُس کے ہونٹ کانپنے لگے۔

“یہ کس نے لکھوایا؟”

“کسی نے نہیں۔”

“پھر کیوں لکھا؟”

اُس نے اپنی انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔

“بس ایسے ہی۔”

اُسی وقت ہارون نے کمرے سے آواز دی:

“ایان! آج dictation دوبارہ ہوگی۔ کاپی لے کر آؤ۔”

ایان نے کاپی کو ایسے دیکھا جیسے وہ کاپی نہ ہو، کوئی سزا نامہ ہو۔

پھر وہ میرے پیچھے چھپ گیا۔

اس بار میں نے اُسے نہیں ڈانٹا۔

میں فرش پر اُس کے برابر بیٹھ گئی۔ اُس کے پاؤں ٹھنڈے تھے۔ جون کی گرمی میں ایک چھ سالہ بچے کے پاؤں ٹھنڈے نہیں ہونے چاہئیں۔

“ایان، سچ بتاؤ۔ تم ابو کے کمرے میں کیوں نہیں جاتے؟”

وہ خاموش رہا۔

میں نے اُس کا چہرہ اپنی طرف کیا۔

“میں نہیں ڈانٹوں گی۔”

بچے کو یقین دلانے میں وقت لگتا ہے، خاص طور پر جب وہ گھر ہی کے کسی لہجے سے ڈرا ہو۔

وہ آہستہ سے بولا:

“امی… ابو کے کمرے میں میری غلطی بڑی ہو جاتی ہے۔”

میری سانس رک سی گئی۔

“کیا مطلب؟”

اُس کی آنکھوں میں پانی آ گیا۔

“میں باہر spelling بھولوں تو بس spelling بھولتا ہوں۔ ابو کے کمرے میں بھولوں تو میں نالائق ہو جاتا ہوں۔”

میں نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“ابو نے تمہیں مارا؟”

وہ فوراً بولا:

“نہیں۔”

پھر ذرا رک کر کہا:

“بس میز کو مارتے ہیں۔ scale سے۔”

اُس نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔

“آواز لگتی ہے یہاں۔”

اُس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔

“یہاں بھی۔”

کمرے کے دروازے پر ہارون کھڑا تھا۔

اُس کے ہاتھ میں وہی لکڑی کا scale تھا، جس کے ایک کونے پر پرانی سیاہی جمی ہوئی تھی۔ پہلے اُس کے چہرے پر ناگواری آئی، پھر وہ آہستہ آہستہ اتر گئی۔ شاید آدمی کو اپنا ظلم تب نظر آتا ہے جب وہ بچے کے لفظوں میں واپس آتا ہے۔

“ایان…” ہارون کی آواز بھاری تھی، “میں نے تمہیں کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔”

ایان نے میری قمیض کا دامن پکڑ لیا۔

“ابو، ہاتھ نہیں لگایا… مگر میری آواز چھوٹی کر دی۔”

ہارون نے scale کو دیکھا۔

جیسے پہلی بار دیکھا ہو۔

پھر اُس نے scale میز پر نہیں، الماری کے اوپر رکھ دیا۔

ایان اب بھی میرے پیچھے تھا۔

ہارون گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

“بیٹا، ابو سے غلطی ہوئی۔”

ایان نے فوراً کچھ نہیں کہا۔ بچے معافی کے لفظ سے زیادہ لہجے کو تولتے ہیں۔

کافی دیر بعد اُس نے پوچھا:

“اگر مجھے کل بھی spelling نہ آئی تو؟”

ہارون نے نظریں جھکا لیں۔

“تو کل دوبارہ پڑھ لیں گے۔”

“اور اگر پھر بھی نہ آئی؟”

کمرے میں دال کے بگھار کی خوشبو، پنکھے کی آواز، مغرب کے بعد کی ادھوری روشنی سب رُک سے گئے۔

ہارون نے بہت آہستہ کہا:

“تو ابو اپنی آواز آہستہ کر لیں گے۔”

ایان نے پہلی بار اُس کی طرف دیکھا۔

مگر اُس رات وہ ہارون کے کمرے میں نہیں گیا۔

بس دروازے کے پاس بیٹھ کر اپنی کاپی کھول لی۔

اگلے کئی دن گھر میں پڑھائی ہوتی رہی۔ spelling غلط ہوتی رہی۔ cat کبھی cot بنتا، school کبھی skool، اور ہارون ہر غلط لفظ کے بعد اپنا گلا صاف کر کے خاموش ہو جاتا، جیسے اندر بیٹھے پرانے باپ کو دوبارہ سلا رہا ہو۔

ایک شام ایان نے کاپی میں “father” لکھا۔

fater لکھا۔

پھر خود ہی مٹا دیا۔

ہارون نے ہاتھ بڑھایا، مگر scale وہاں نہیں تھا۔

ایان نے اوپر الماری کی طرف دیکھا، پھر باپ کی طرف۔

“ابو، وہ واپس تو نہیں آئے گا؟”

ہارون نے پوچھا:

“کون؟”

ایان نے کہا:

“وہ scale والا ابو۔”

ہارون کے چہرے پر ایک سایہ سا گزرا۔

اُس نے ایان کے بالوں پر ہاتھ رکھا، مگر ایان ذرا سا پیچھے ہٹ گیا۔

بس ذرا سا۔

اتنا سا فاصلہ کہ کسی عدالت میں ثابت نہ ہو سکے۔

مگر ایک باپ کے لیے عمر بھر کی سزا بن جائے۔

اس رات ہارون نے scale توڑ کر کچرے میں پھینک دیا۔

صبح خاکروب نے وہ ٹوٹا ہوا scale اٹھایا تو اُس کے ساتھ ایک کاغذ بھی چپکا ہوا تھا۔

اُسی پر بچے کی لکھائی میں لکھا تھا:

“میں نالائق نہیں ہوں۔”

کاغذ پر بارش کا ایک قطرہ گرا یا شاید کسی کی آنکھ سے پانی۔

لفظ پھیل گئے تھے۔

مگر “نہیں” ابھی تک صاف پڑھا جا رہا تھا۔

افسانہ: میں نالائق نہیں ہوں
©️ انتخاب سخن

19/06/2026

💥میرا شوہر میری بہن کو “چھوٹی بہن” کہتا تھا..
مگر تفتیش ہوئی تو معلوم ہوا، وہی اس کی راتوں کا عذاب تھا۔💔🥹

میرا نام ماہ نور ہے۔
عمر پینتیس سال ہے۔

کچھ مہینے پہلے میری طلاق ہوئی ہے۔

لوگ جب یہ لفظ سنتے ہیں تو فوراً چہرے پر افسوس اوڑھ لیتے ہیں۔
جیسے عورت کا گھر ٹوٹا نہیں، وہ خود ٹوٹ گئی ہو۔

مگر سچ پوچھیں تو میری طلاق سانحہ نہیں تھی۔

وہ میری رہائی تھی۔

وہ دروازہ تھا جو میں نے کانپتے ہاتھوں سے کھولا، مگر کھلتے ہی مجھے پہلی بار سانس آئی۔

یہ قصہ دو سال پہلے شروع ہوا۔

میری چھوٹی بہن نشوا میرے پاس آئی تھی۔
چوبیس سال کی، ہنسنے والی، ہر بات پر آنکھیں پھیلا لینے والی، چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوش ہو جانے والی لڑکی۔

اس دن اس کا چہرہ بجھا ہوا تھا۔

وہ میرے کمرے میں آئی، دروازہ بند کیا اور موبائل میرے ہاتھ میں دے دیا۔

“آپی… یہ دیکھیں۔”

میں نے سکرین دیکھی تو دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا۔

کسی اجنبی نمبر سے گھٹیا پیغامات آ رہے تھے۔
فحش لنکس۔
غلیظ گروپس کے دعوت نامے۔
دھمکیاں۔
اور ایسے جملے جنہیں پڑھ کر زبان خود شرمندہ ہو جائے۔

میں نے نشوا کی طرف دیکھا۔

وہ بولی:

“آپی، میں نے نمبر بدل لیا تھا… پھر بھی آ گیا۔”

یہ بات سیدھی دل پر لگی۔

نمبر بدلنے کے بعد بھی وہی شخص؟
مطلب وہ صرف کوئی آوارہ اجنبی نہیں تھا۔

وہ کہیں قریب تھا۔

اتنا قریب کہ ہماری سانسوں کی خبر رکھتا تھا۔

میں نے اسے دلاسہ دیا۔
کہا:

“ڈرو مت، میں ہوں نا۔”

لیکن سچ یہ ہے کہ اس رات میں خود بھی نہیں سوئی۔

گھر وہی تھا۔
دیواریں وہی تھیں۔
دروازے وہی تھے۔
مگر مجھے پہلی بار لگا جیسے چھت کے کسی کونے میں کوئی آنکھ لگی ہوئی ہے۔

پاکستانی گھروں میں لڑکی کے ڈر کو اکثر وہم کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔

“ایسے میسجز سب کو آتے ہیں۔”
“بلاک کر دو۔”
“کسی کو بتانا مت، بدنامی ہو جائے گی۔”
“لڑکی ذات ہو، چپ رہنا سیکھو۔”

مگر چپ رہنے سے گندگی ختم نہیں ہوتی۔
بس گندگی کرنے والے کا حوصلہ بڑھتا ہے۔

نشوا نے نمبر بدل لیا۔
ای میل بدل لی۔
سوشل میڈیا بند کر دیا۔
گھر سے اکیلے نکلنا چھوڑ دیا۔

مگر پیغامات پھر بھی آتے رہے۔

کبھی رات کے دو بجے۔
کبھی فجر سے ذرا پہلے۔
کبھی ایسے وقت جب گھر کے سب لوگ سو رہے ہوتے۔

اور ہر پیغام کے بعد میری بہن تھوڑی اور خاموش ہو جاتی۔

وہ لڑکی جو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر دوپٹہ بدل بدل کر دیکھتی تھی، اب روشنی سے بھی گھبرانے لگی تھی۔
فون بجتا تو اس کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ جاتے۔
دروازے پر دستک ہوتی تو اس کی آنکھوں میں وحشت اتر آتی۔

ایک رات وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گئی۔

بارش ہو رہی تھی۔
کھڑکی کے شیشوں پر پانی ایسے بج رہا تھا جیسے کوئی مسلسل دستک دے رہا ہو۔

نشوا نے بہت دیر بعد کہا:

“آپی… مجھے لگتا ہے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔”

اس جملے نے میرے اندر کچھ توڑ دیا۔

میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا۔

بس۔

اب چپ کا روزہ توڑنا پڑے گا۔

اگلے دن ہم سائبر کرائم آفس گئے۔
تمام سکرین شاٹس، ای میلز، نمبرز، تاریخیں، سب کچھ لے کر۔

افسر نے پہلے معمول کی طرح سوال کیے۔
کسی پر شک ہے؟
کسی سے جھگڑا؟
کسی کو نمبر دیا تھا؟
گھر میں وائی فائی کون استعمال کرتا ہے؟

میں ہر سوال کا جواب دیتی رہی۔
نشوا میرے ساتھ بیٹھی تھی، سر جھکائے، انگلیاں آپس میں پھنسی ہوئی۔

وہاں بیٹھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ عزت بچانے کے نام پر عورتیں کتنی بار انصاف سے دور کر دی جاتی ہیں۔

لیکن اس دن میں نے نشوا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔

میں نے دل میں کہا:

“جو بھی ہوگا، اب پیچھے نہیں ہٹنا۔”

ایک ہفتے بعد مجھے کال آئی۔

“میڈم، آپ آفس آ سکتی ہیں؟”

میں اکیلی گئی۔

افسر کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اس کے چہرے پر وہی عجیب سی سنجیدگی تھی جو بری خبر سے پہلے آتی ہے۔

اس نے فائل بند کی۔
کچھ لمحے خاموش رہا۔

پھر بولا:

“میڈم… جو ای میلز اور میسجز بھیجے گئے، ان کا آئی پی ایڈریس آپ کے گھر سے ٹریس ہوا ہے۔”

میرے منہ سے فوراً نکلا:

“شاید وائی فائی ہیک ہو گیا ہو؟”

اس نے میری طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں ترس نہیں تھا، مگر ایک احتیاط ضرور تھی۔

“نہیں میڈم۔ لاگ اِن آپ کے گھر کے اندر سے ہوا ہے۔ اور جس ڈیوائس سے ہوا… وہ آپ کے شوہر کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔”

مجھے لگا کمرے کی دیواریں پیچھے ہٹ گئی ہیں۔

میں نے اس کا نام سننے سے پہلے ہی سن لیا تھا۔

رایان۔

میرا شوہر۔

وہ آدمی جس کے ساتھ میں ایک ہی چھت کے نیچے رہتی تھی۔
وہ آدمی جو نشوا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا تھا:

“تم میری چھوٹی بہن جیسی ہو۔”

وہی آدمی راتوں کو اسے گندے پیغامات بھیجتا رہا۔

ایک لمحے کے لیے مجھے لگا شاید میں نے غلط سنا ہے۔
شاید دنیا اتنی بدصورت نہیں ہو سکتی۔

مگر کبھی کبھی بدصورتی دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی۔
وہ گھر کے اندر ہی پل رہی ہوتی ہے۔

میں گھر واپس آئی تو رایان ٹی وی دیکھ رہا تھا۔
چائے کا کپ سامنے پڑا تھا۔
چہرے پر وہی بے فکری، جیسے دنیا میں کوئی طوفان نہیں آیا۔

میں نے اس کے سامنے فائل رکھ دی۔

“یہ تم تھے؟”

اس نے پہلے مجھے دیکھا۔
پھر کاغذ دیکھے۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔

وہ مسکراہٹ آج بھی میرے اندر کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔

بولا:

“اوہ پلیز، اتنا ڈرامہ مت کرو۔ بس مذاق تھا۔”

مذاق؟

میری بہن کی نیندیں چھین لینا مذاق تھا؟
اسے اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ کر دینا مذاق تھا؟
ایک لڑکی کو شرم، خوف اور گھٹن میں دھکیل دینا مذاق تھا؟

میں نے اسے دیکھا۔

اس دن پہلی بار میں نے اپنے شوہر کو نہیں دیکھا۔
میں نے اس کے اندر چھپے ہوئے وہ شخص دیکھا جو عورت کے خوف سے لطف لیتا تھا۔

بعض حقیقتیں چاقو نہیں ہوتیں، پھر بھی آدمی کو چیر دیتی ہیں۔

میں نے کہا:

“تمہیں شرم نہیں آئی؟”

وہ ہنسا۔

“یار، تم لوگ تو بس اوور ری ایکٹ کرتی ہو۔ آج کل تو سب چلتا ہے۔”

بس وہیں بات ختم ہو گئی۔

میرا نکاح شاید کاغذ پر کچھ عرصہ اور زندہ رہا، مگر میرے دل میں اسی لمحے مر گیا۔

اس رات میں نے نشوا کو اپنے کمرے میں بلایا۔
وہ میرے چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ گئی کہ بات معمولی نہیں۔

میں نے اسے سب بتایا۔

وہ پہلے پتھر ہو گئی۔
پھر اس نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے۔
اور پھر ایسا روئی جیسے کسی نے اس کے اندر سے اعتماد کا آخری چراغ بھی بجھا دیا ہو۔

وہ بار بار ایک ہی بات کہتی رہی:

“آپی… وہ تو گھر کا آدمی تھا۔”

ہاں۔
وہ گھر کا آدمی تھا۔

اور یہی سب سے بڑا زخم تھا۔

اجنبی سے ڈر لگتا ہے، مگر اپنے سے دھوکا روح کو کھا جاتا ہے۔

اگلے دن گھر میں طوفان آ گیا۔

ساس نے کہا:

“مردوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، گھر نہیں توڑے جاتے۔”

سسر نے کہا:

“تم نے بات باہر لے جا کر خاندان کی ناک کٹوا دی۔”

ایک خالہ نے فون پر سمجھایا:

“طلاق کے بعد عورت کی زندگی آسان نہیں ہوتی۔ ذرا برداشت کر لو۔”

میں نے سب کی باتیں سنیں۔

پھر پہلی بار مجھے اپنے اندر اپنی ماں کی آواز سنائی دی:

“بیٹی، عزت وہ نہیں جو لوگ دیتے ہیں، عزت وہ ہے جو انسان خود اپنے لیے بچا لے۔”

میں نے رایان کو آخری بار دیکھا۔

وہ اب بھی اپنی غلطی کو غلطی نہیں سمجھ رہا تھا۔
اسے افسوس صرف پکڑے جانے کا تھا۔

اور جس آدمی کو اپنے گناہ پر نہیں، صرف رسوائی پر شرمندگی ہو، اس کے ساتھ زندگی گزارنا اپنی روح کو قید کر دینے کے برابر ہے۔

میں نے خلع کا فیصلہ کر لیا۔

لوگوں نے بہت کہا:

“سوچ لو۔”

میں نے سوچ لیا تھا۔

میں نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ عورت اگر اپنی بہن کی حفاظت کے لیے کھڑی نہ ہو تو پھر دنیا سے کیا شکوہ؟

نشوا کئی دن تک مجھ سے آنکھ نہیں ملا پاتی تھی۔
جیسے قصور اس کا ہو۔

میں ہر بار اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہتی:

“شرم اسے آنی چاہیے جس نے کیا ہے۔ جس کے ساتھ ہوا ہے، اسے نہیں۔”

یہ جملہ میں اسے بھی کہتی رہی، خود کو بھی۔

طلاق کے کاغذ آئے تو عجیب سکون تھا۔

نہ ماتم۔
نہ چیخ۔
نہ وہ فلمی سا ٹوٹنا۔

بس ایک گہری سانس۔

جیسے کسی بند کمرے کی کھڑکی کھل گئی ہو۔

آج لوگ کہتے ہیں:

“بہت ہمت کی تم نے۔”

میں مسکرا دیتی ہوں۔

ہمت کوئی آسمان سے اترنے والی چیز نہیں ہوتی۔
ہمت کبھی کبھی اپنی چھوٹی بہن کی کانپتی ہوئی انگلیوں سے ملتی ہے۔
کبھی ایک فائل میں محفوظ سکرین شاٹس سے۔
کبھی ایک ایسے جملے سے جو دل میں کیل کی طرح ٹھک جائے:

“آپی، مجھے لگتا ہے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔”

آج نشوا پہلے جیسی نہیں رہی۔
اور شاید میں بھی نہیں۔

مگر اب وہ فون بجنے پر کانپتی نہیں۔
اب وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھول دیتی ہے۔
اب وہ ہنستی ہے تو ہنسی میں ذرا درد ضرور ہوتا ہے، مگر خوف نہیں ہوتا۔

اور میں؟

میں طلاق یافتہ ہوں۔
مگر شرمندہ نہیں۔

کیونکہ میں نے ایک گھر نہیں توڑا۔
میں نے ایک درندے کی درندگی چاک کی ہے۔

میں نے ایک مرد کو نہیں چھوڑا۔
میں نے خوف چھوڑا ہے۔

میں نے شادی نہیں ہاری۔
میں نے اپنی بہن بچائی ہے۔

اور اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ میری طلاق کا دکھ کتنا بڑا تھا، تو میں صرف اتنا کہوں گی:

کچھ رشتے ٹوٹتے نہیں، کاٹے جاتے ہیں۔

بالکل ایسے جیسے جسم سے زہر نکالا جاتا ہے۔

درد ہوتا ہے۔
خون بھی نکلتا ہے۔
مگر جان بچ جاتی ہے۔

افسانہ: گھر کا آدمی
©️ انتخاب سخن

18/06/2026

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ چند تاجر تھے جو ایک طویل سفر پر نکلے ہوئے تھے۔ ان میں ایک عام سا تاجر بھی تھا، جو اپنے ساتھ ایک خوبصورت گھوڑا اور ایک بوڑھا گدھا بھی لیے جا رہا تھا۔ گھوڑا اس کی سواری کے لیے تھا، جبکہ گدھے پر اس نے کچھ سامان لاد رکھا تھا جو اسے راستے میں ایک دوسرے شہر میں پہنچانا تھا۔
چند دن کے سفر کے بعد وہ اپنی منزل پر پہنچا اور سامان اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا۔ اب گدھے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی، مگر سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ راستے لمبے تھے، پانی کم ملتا تھا، کہیں گھاس دستیاب ہوتی تو کہیں کئی کئی میل تک کچھ نہ ملتا۔ ایک جانور کی دیکھ بھال ہی مشکل تھی، جبکہ دو جانوروں کی ذمہ داری اس کے لیے بوجھ بنتی جا رہی تھی۔
اس نے سوچا کہ کسی ہمسفر کو گدھا دے دے، مگر ہر تاجر کے پاس اپنی سواری تھی اور کوئی ایک اضافی جانور کی ذمہ داری لینے کو تیار نہ تھا۔

ایک دن سفر کے دوران اس تاجر کی نظر ایک غریب عورت پر پڑی جو تپتی دھوپ میں پیدل جا رہی تھی۔ اس کی گود میں ایک چھوٹی سی بچی تھی جو تھکن سے نڈھال تھی۔ بچی کے ننگے پاؤں گرم زمین کی تپش برداشت نہیں کر پا رہے تھے اور ماں اسے بار بار سینے سے لگا کر تسلی دے رہی تھی۔
تاجر نے کچھ لمحے انہیں دیکھتا رہا، پھر آگے بڑھا اور کہا:
"بہن! یہ گدھا اب میرے کسی کام کا نہیں۔ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ۔ کم از کم تمہاری بیٹی کو یہ سخت راستے پیدل طے نہیں کرنے پڑیں گے۔"

عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے بار بار دعائیں دیتے ہوئے کہا:
"اللہ تمہارے اس احسان کا بدلہ دے۔ شاید میں دنیا میں تمہیں کچھ نہ دے سکوں، مگر رب کبھی کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔"

تاجر مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔ اس کے دل میں کوئی احساسِ احسان نہ تھا۔ اس نے تو صرف ایک بوجھ ہلکا کرنے کے لیے گدھا دے دیا تھا۔

وقت اپنے پر پھیلا کر آگے بڑھ گیا۔ سال گزرتے گئے، تاجر بوڑھا ہو گیا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جسے وہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ مگر قسمت نے ایک سخت امتحان اس کے لیے سنبھال رکھا تھا۔

اس کے بیٹے نے ریاست کے کسی صوبے میں ہونے والی بغاوت میں حصہ لیا اور گرفتار ہو گیا۔ بادشاہ کا ایک اٹل اصول تھا:
"باغی کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔"
تاجر لرزتے قدموں کے ساتھ دربار میں پہنچا۔ اس نے رو رو کر اپنے اکلوتے بیٹے کی زندگی کی بھیک مانگی، مگر بادشاہ نے سرد لہجے میں کہا:

"مجھے تمہارے دکھ کا احساس ہے، لیکن ایک بادشاہ اگر اپنے اصول توڑ دے تو سلطنت ٹوٹ جاتی ہے۔"

مایوس اور شکستہ دل تاجر محل سے باہر نکلنے لگا۔ اسی وقت محل کی بالکونی میں کھڑی ملکہ کی نظر اس بوڑھے شخص پر پڑی۔ اس نے اس کے چہرے پر عجیب سی بے بسی دیکھی اور اپنی کنیز کو حکم دیا:
"جاؤ، معلوم کرو اس بوڑھے کے دل پر کون سا غم پہاڑ بن کر ٹوٹا ہے۔"
جب کنیز نے ساری کہانی سنائی تو ملکہ کچھ دیر خاموش رہی۔ اس کی آنکھوں میں ماضی کے کئی منظر زندہ ہو گئے۔ چند دن بعد تمام باغیوں کو سزا دی جا چکی تھی، مگر حیرت انگیز طور پر اس تاجر کے بیٹے کو معافی مل گئی۔ صوبے کے گورنر نے خود اسے عزت کے ساتھ اس کے گھر پہنچایا۔
تاجر حیران رہ گیا۔

اس نے پوچھا:
"آخر یہ کیسے ممکن ہوا؟ بادشاہ تو کبھی اپنے فیصلے نہیں بدلتا تھا"
گورنر نے جواب دیا:
"بادشاہ نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ کسی باغی کے لیے اپنا اصول بدلا ہے، اور اس کے پیچھے ایک خاص وجہ ہے۔"
یہ سن کر تاجر قیمتی تحائف لے کر بادشاہ اور ملکہ کا شکریہ ادا کرنے محل پہنچا۔
دربار میں داخل ہوتے ہی اس نے جھک کر کہا:
"حضور! میں زندگی بھر آپ کے اس احسان کو نہیں بھول سکوں گا، مگر یہ جاننے کی خواہش ضرور ہے کہ مجھ جیسے معمولی انسان پر یہ مہربانی کیوں کی گئی؟"
بادشاہ نے مسکرا کر ملکہ کی طرف دیکھا۔
ملکہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور کہا:
"کیا آپ کو برسوں پہلے ایک سنسان راستہ یاد ہے؟ ایک غریب عورت، اس کی تھکی ہوئی بچی اور آپ کا وہ گدھا؟"
تاجر حیرت سے ملکہ کو دیکھنے لگا۔
ملکہ کی آنکھوں میں وہی معصومیت تھی جو برسوں پہلے اس چھوٹی سی بچی کی آنکھوں میں تھی۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

ملکہ نے کہا:
"میں وہی بچی ہوں۔ اس دن آپ نے ہمیں ایک گدھا نہیں دیا تھا، آپ نے ہماری تکلیف آسان کی تھی۔ میری ماں نے اس دن کہا تھا کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ آج اللہ تعالی نے مجھے موقع دیا کہ میں آپ کے احسان کا بدلہ چکا سکوں۔"
تاجر کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔
وہ لرزتی آواز میں بولا:
"اے میرے رب! میں نے تو وہ نیکی بھی اپنے فائدے کے لیے کی تھی۔ مجھے گدھے کے بوجھ سے چھٹکارا چاہیے تھا، پھر بھی تو نے مجھے اتنا بڑا صلہ عطا کر دیا۔ اگر ایک معمولی انسان ایک چھوٹی سی بھلائی کا اتنا بدلہ دے سکتا ہے، تو تیرے لیے خالص نیت سے کی گئی نیکیوں کا اجر کتنا عظیم ہوگا"۔
یہ کہہ کر وہ سجدۂ شکر میں گر پڑا۔

اخلاقی سبق:

نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بعض اوقات ہم ایک معمولی سا بھلا کام کر کے اسے بھول جاتے ہیں، لیکن قدرت اسے برسوں تک محفوظ رکھتی ہے اور جب لوٹاتی ہے تو ایسے دروازے سے لوٹاتی ہے جس کا انسان نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ اور جب ایک انسان ایک چھوٹی سی مہربانی کا اتنا بڑا بدلہ دے سکتا ہے، تو خالقِ کائنات کی رضا
کے لیے کی گئی نیکیوں کا اجر کس

17/06/2026

💰 اکہتر (71) سال کی عمر میں، میں نے 89 کروڑ روپے کا انعام جیتا اور کسی کو نہ بتایا، اپنے بیٹے کو بھی نہیں۔ پھر اس نے مجھ سے پوچھا، ”امی، آپ آخر کار اس گھر سے کب جا رہی ہیں؟“ 🥹
میرے بیٹے نے یہ بات اس وقت کہی جب میں اسے گرما گرم روٹیاں پکڑا رہی تھی۔
غصے میں نہیں۔
نہ ہی غلطی سے۔
بلکہ یوں جیسے میں کوئی پرانا بل ہوں جسے وہ اب مزید ادا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
”امی،“ اریش نے کرسی پر پیچھے ٹیک لگاتے ہوئے کہا، ”آپ کا یہاں سے شفٹ ہونے کا کیا ارادہ ہے؟“
کھانے کی میز پر سنّاتا چھا گیا۔
میری بہو، تاشفین، بالکل حیران دکھائی نہیں دی۔
اس چیز نے زیادہ دکھ پہنچایا۔
اس نے بس اپنی نظریں جھکا لیں اور ہونٹ بھینچ لیے، جیسے یہ جملہ رات کے کھانے سے پہلے اوپر کمرے میں باقاعدہ دہرایا گیا ہو۔
دال ٹھنڈی ہو گئی۔
اسٹیل کے پیالے میں گھی جم گیا۔
میرے پوتے نے فون اسکرول کرنا بند کر دیا۔
میری پوتی کے ہاتھ میں چکن کڑھائی کا نوالہ کانٹے پر ہی رک گیا۔
اور میں، فرخندہ بیگم، اکہتر سالہ بوڑھی، دو سال سے بیوہ، روٹیوں کی چنگیری ہاتھ میں لیے وہاں کھڑی تھی، اچانک یہ سمجھ رہی تھی کہ میں اپنی ہی قربانی کے گھر میں ایک مہمان بن چکی ہوں۔
جب میرے شوہر، طارق، کا لاہور میں انتقال ہوا، تو اریش روتی آنکھوں اور دھیمے لہجے کے ساتھ میرے پاس آیا تھا۔
”امی، آپ اکیلی نہیں رہ سکتیں۔ آپ ہمارے ساتھ اسلام آباد چلیں۔ صرف کچھ وقت کے لیے۔“
صرف کچھ وقت کے لیے۔
ان چار لفظوں نے میرا وہ پیلا باورچی خانہ مجھ سے چھین لیا۔
میرا جائے نماز والا کونا۔
میرے گلاب کے پودے۔
وہ بالکونی جہاں طارق ہر صبح چائے پیتے تھے اور اخبار اتنی اونچی آواز میں پڑھتے تھے جیسے پورے ملک نے ذاتی طور پر ان سے ان کی رائے مانگی ہو۔
میں نے وہ پرانا فلیٹ بیچ دیا۔
چھالیس سال کی شادی شدہ زندگی کو تین سوٹ کیسوں میں سمیٹا۔
اور ڈی ایچ اے میں اپنے بیٹے کے شیشے اور سنگِ مرمر سے بنے بنگلے میں منتقل ہو گئی۔
وہاں ہر چیز مہنگی اور چھونے سے باہر لگتی تھی۔
سفید کیبنٹ۔
کالے دھاتی فکسچر۔
ایک سوئمنگ پول جسے کوئی استعمال نہیں کرتا تھا۔
تین گاڑیوں کی پارکنگ۔
ایک فریج جو بادام کے دودھ، پروٹین بارز اور ایسی چیزوں سے بھرا تھا جن کے نام مجھ سے پکارے بھی نہ جاتے۔
تاشفین میرے کمرے کو ”گیسٹ روم“ کہتی تھی۔
امی کا کمرہ نہیں۔
مہمانوں کا کمرہ۔
اس نے مجھ سے کہا کہ میں وہاں رکھی بیگ (beige) رنگ کی آرام دہ کرسی کو نہ ہلاؤں کیونکہ ”تصویروں میں یہ یہیں پرفیکٹ لگتی ہے۔“
چنانچہ میں نے اپنی اوقات سیکھ لی۔
میں کپڑے تہہ کرتی۔
لنچ باکس تیار کرتی۔
اسکول کی ڈائریوں پر دستخط کرتی۔
بچوں کو قاری صاحب کے پاس، ٹینس، پیانو اور ٹیوشن چھوڑنے جاتی۔
میں نے سیکھ لیا کہ تاشفین کو آملیٹ کے لیے کون سا فرائنگ پین پسند ہے۔
اریش کو کافی مشین کے پاس کون سا مگ چاہیے ہوتا ہے۔
کس کشن کو کبھی ہاتھ نہیں لگانا کیونکہ وہ ”امپورٹڈ“ ہے۔
میں نے انہیں اپنا سہارا دیا۔
اپنی خاموشی دی۔
اور اپنے دکھ کے سب سے نرم ٹکڑے۔
شروع میں، میں نے خود کو سمجھایا کہ یہی تو خاندان ہوتا ہے۔
پھر ایک اتوار، وہ سب باہر برنچ کے لیے چلے گئے اور کافی مشین کے پاس ایک پرچی چھوڑ گئے۔
کوئی دعوت نامہ نہیں تھا۔
صرف ایک پرچی۔
”امی، دوپہر کا کھانا فریج میں ہے۔“
ایک اور دن، میں نے اپنے آدھے کھلے دروازے کے پیچھے تاشفین کی آواز سنی۔
”وہ یہاں کھاتی ہیں، بجلی استعمال کرتی ہیں، ایک پورا کمرہ گھیر رکھا ہے… اور وہ یہاں آخر کنٹریبیوٹ کیا کرتی ہیں؟“
اریش نے اسے نہیں ٹوکا۔
ایک بار بھی نہیں۔
تب ایک ماں الگ طریقے سے مرنا شروع ہوتی ہے۔
ایک دم سے نہیں بلکہ ہر روز تھوڑا تھوڑا۔
جس رات اس نے مجھے جانے کا کہا، اس گھر سے بھنے ہوئے زیرے، چمپا کے روم فرشنر اور بے حسی کی بو آ رہی تھی۔
میں نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔
وہ بچہ جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے کیلا میش کر کے کھلایا تھا۔
وہ بچہ جس کی اسکول کی فیسیں بھرنے کے لیے میں نے اپنی سونے کی زنجیر بیچ دی تھی۔
وہ بچہ جسے میں نے اور طارق نے انگلش میڈیم اسکول بھیجا جبکہ ہم خود پرانے کپڑے پہنتے اور یوں ظاہر کرتے جیسے ہمیں کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔
اس نے میری طرف یوں دیکھا جیسے میں جھریاں لگی کوئی زحمت ہوں۔
”امی، غلط مت سمجھئے گا،“ اس نے کہا۔ ”لیکن یہ ارینجمنٹ ہمیشہ کے لیے تو نہیں چل سکتا۔“
تاشفین بالآخر بول پڑی۔
”آج کل بہت اچھے اولڈ ایج ہومز اور سینئر سٹیزن اپارٹمنٹس بن گئے ہیں۔ صاف ستھرے، محفوظ۔ آپ کی عمر کے لوگ ہوتے ہیں وہاں۔ آپ کا دل لگا رہے گا۔“
آپ کی عمر کے لوگ۔
جیسے محبت کی بھی کوئی ایکسپائری ڈیٹ ہوتی ہو۔
جیسے ماؤں کو دوسری فالتو چیزوں کے ساتھ اسٹور روم میں رکھ دینا چاہیے۔
میرے پوتے نے نظریں جھکا کر میز کو دیکھا۔
میری پوتی کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، لیکن وہ کچھ نہ بولی۔
بچے بزدلی ان بڑوں سے سیکھتے ہیں جن سے وہ پیار کرتے ہیں۔
ایک طویل سیکنڈ کے لیے، میں نے سوچا کہ میں انہیں سب کچھ بتا دوں۔
میں نے اریش کے چہرے کا تصور کیا جب اسے معلوم ہو کہ تین ماہ پہلے، بلڈ پریشر کے چیک اپ کے بعد، میں نے ایک غریب آدمی سے پرائز بانڈز خریدے تھے کیونکہ طارق کہا کرتے تھے کہ قسمت کبھی کبھی وہاں انتظار کرتی ہے جہاں کوئی نہیں دیکھتا۔
میں نے تصور کیا کہ میں کہہ رہی ہوں:
تمہاری ماں نے 89 کروڑ روپے جیتے ہیں۔
تمہاری ماں کے پاس تمہاری تمیز سے زیادہ چوائسز ہیں۔
تمہاری ماں کو تمہارے گیسٹ روم کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن دولت تبھی سب سے زیادہ محفوظ ہوتی ہے جب لالچی لوگوں کو اس کے وجود کا علم نہ ہو۔
چنانچہ میں نے روٹی کی چنگیری میز پر رکھی۔
اپنا نیپکن ایک بار تہہ کیا۔
پھر دوبارہ۔
اور صرف اتنا کہا، ”معذرت چاہتی ہوں۔“
کوئی چیخ و پکار نہیں۔
کوئی بھیک نہیں۔
کوئی بددعا نہیں۔
اس خاموشی نے تاشفین کو ڈرا دیا۔
میں نے یہ دیکھ لیا تھا۔
وہ آنسوؤں کی امید کر رہی تھی۔
شاید کانپتے ہوئے ہاتھوں کیت۔
یا میرا یہ کہنا، ”بیٹا، میں کہاں جاؤں گی؟“
لیکن میں چلتی ہوئی بالکونی میں چلی گئی اور سرد پیلی روشنی کے نیچے بیٹھ گئی۔
نیچے، اسلام آباد کی ٹریفک کسی بے چین کیڑوں کے دریا کی طرح چمک رہی تھی۔
میرے پیچھے، کوئی نہیں آیا۔
نہ میرا بیٹا ٹ۔
نہ میری بہو۔
نہ ہی بچے م۔
رات کے 2:13 بجے، میں نے وہ چھوٹی ڈائری کھولی جو میں اپنے بیڈ سائیڈ دراز میں رکھتی تھی اور پانچ لائنیں لکھیں۔
خاموش رہو۔
وکیل کو فون کرو۔
خفیہ طور پر کلیم کرو۔
اثاثے الگ کرو۔
ایک گھر خریدو۔
پھر میں نے آخری لائن کو کاٹا اور اسے دوبارہ لکھا۔
کمرہ نہیں، ایک گھر۔
صبح صادق کے وقت، میں نے غسل کیا۔
اپنی چاندی کے بارڈر والی سرمئی سوتی ساڑھی پہنی۔
اپنے بال سلیقے سے پن کیے۔
طارق کی پرانی گھڑی اپنی کلائی پر باندھی۔
پھر میں اسی کھانے کی میز پر بیٹھ گئی جہاں میرے بیٹے نے میرا وجود مٹا دیا تھا۔
صبح کے 7:30 بجے، میں دو وکیلوں، ایک ویلتھ مینیجر، اور ایک پراپرٹی کنسلٹنٹ سے اس نام کو استعمال کرتے ہوئے بات کر چکی تھی جسے اس گھر میں کسی نے یاد رکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
میرا مائیکے کا نام۔
فرخندہ زیدی۔
تاشفین اونچی ہیلس پہنے سیڑھیوں سے نیچے آئی۔
اس کا عطر اس سے پہلے پہنچ گیا۔
اس نے میرا لیپ ٹاپ کھلا دیکھا۔
میری ڈائری اس کے پاس تھی۔
کی بورڈ پر میرے ہاتھ بالکل پرسکون تھے۔
وہ رک گئی۔
”امی؟ آپ اتنی جلدی جاگ گئیں؟“
میں نے اوپر دیکھا۔
”جی۔“
اس کی نظریں اسکرین پر گئیں۔
صرف ایک سیکنڈ کے لیے۔
اتنی دیر کہ وہ اس گھر کی تصویر دیکھ سکے جسے وہ دیکھ رہی تھی۔
اس کا خوابوں کا گھر۔
وہ گھر جسے وہ مہینوں سے اریش کو دکھا رہی تھی۔
وہ جس میں ایک صحن، ایک پرائیویٹ لفٹ، اطالوی سنگِ مرمر، اور مشرق رخ ایک خوبصورت نماز کا کمرہ تھا۔
وہ گھر جسے وہ کبھی خرید نہیں سکتے تھے لیکن یوں ظاہر کرتے تھے کہ ”بہت جلد“ خرید لیں گے۔
تاشفین کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
”آپ اس پراپرٹی کو کیوں دیکھ رہی ہیں؟“
اس سے پہلے کہ میں جواب دیتی، میرا فون بج اٹھا۔
اسکرین پر کنسلٹنٹ کا نام چمکا۔
میں نے فون اسپیکر پر ڈال دیا۔
اس کی آواز واضح، شائستہ اور اتنی تیز آئی کہ اس نے کمرے کو دو حصوں میں کاٹ دیا۔
”اسلام علیکم، بیگم زیدی۔ سیلر نے آپ کی آفر قبول کر لی ہے۔ کیا ہم اس ولا کے خریداری کے کاغذات تیار کریں جس کا وزٹ کل آپ کے بیٹے نے کیا تھا؟“

17/06/2026

ایک صاحب اور ان کی بیوی پر کسی جادوگر نے انتہائی سخت جادو کا وار کیا یہ جادوگر اس جادو پر باقاعدہ پہرہ بھی دیا کرتا اور کسی عامل کو اس کا توڑ نہ کرنے دیتا۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ :
" میری بیوی کے ہاں اول تو حمل ہی نہ ٹھہرتا اور اگر ٹھہر بھی جاتا تو ساکت ہو جاتا، اگر کسی طریقہ 9 ماہ پورے ہوتے تو بچے کی پیدائش مردہ حالت میں ہوتی ... "

میرے پیارو! ان صاحب کے بارے میں پڑھا ہے کہ یہ صاحب انتہائی باکردار اور پانچ وقت کے نمازی تھے اور بچوں کو مسجد میں قرآن بھی پڑھایا کرتے تھے۔ بہت علاج کروائے بڑے سے بڑا عامل بلوایا اور علاج کروایا اور ایڑی چوٹی کا زور لگادیا مگر نتیجہ صفر نکلتا۔ ایک دن ایک انتہائی درویش باعمل عالم اور عامل کے پاس جانا ہوا۔ یہ صاحب اپنے استخارہ کے لیے مشہور تھے اور ان کا استخارہ ایک منٹ کا ہوا کرتا تھا۔ ایک منٹ میں سارا کچا چٹھا کھول کے رکھ دیتے، اللہ نے بہت عطا کیا تھا ان کو۔ اب یہ پریشانی لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، مولوی صاحب نے بتایا کہ :
" یہ کسی عام زور آور جادوگر کا وار نہیں بلکہ یہ تو کسی خبیث العین (جادو کی دنیا کا انتہائی غلیظ اور ماہر جادوگر) کا وار ہے اور یہ میرے بس سے باہر ہے، میں اس عمر میں اتنی سخت محنت نہیں کر سکتا۔ اس کا توڑ بھی کوئی خبیث العین ہی کرسکتا ہے ... "

عزیر قارئین کرام! یہ صاحب چونکہ مجبور تھے اس لیے پوچھنے لگے کہ :
" ...؟ "

مولوی صاحب فرمانے لگے کہ :
" سندھ کے فلاں علاقے فلاں جگہ پر ایک گاؤں کے باہر اسی خبیث العین نے ان دنوں ڈیرہ لگایا ہے تو فوراً اس کے پاس چلا جا ... "

اب کیا ہوتا ہے میرے دوستو کہ یہ صاحب فوراً سندھ روانہ ہو گئے اور جیسے ہی اس گاؤں کے باہر پہنچے تو دور سے ایک آگ کا دہکتا الاؤ لگا ہوا دکھائی دیا۔ انہوں نے بزرگوں کی بتائی ہوئی نشانی دیکھ کر اس کی طرف بڑھنا شروع کیا، دور سے دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی آگ کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور اردگرد اس کے ماننے والوں کا جمگٹھا ہے۔ ابھی ایک ایکڑ دور تھے کہ وہ شخص اچھل کر کھڑا ہوگیا اور زور زور سے چلانے لگا کہ :
" وہ دیکھو آگیا، جادو کا ڈسا، وہ آگیا قرآن پڑھانے والا "

یہ اس کے پاس پہنچے اور اپنا مقصد بتایا۔ اب خبیث العین خوشی سے پاگلوں کی طرح ناچنے لگا اور بولا :
" جاؤ فلاں کے پاس … جاؤ فلاں کے پاس … یہ گرہ جو لگی ہے کھلواؤ اپنے مولویوں سے … "

غرض اس نے مولوی صاحبان کے ساتھ ساتھ ان صاحب کو بھی برا بھلا کہا اور بڑے بڑے خدائی کے دعوے بھی کیے اور جادو توڑنے سے انکار کردیا ...

یہ صاحب واپس آئے اور اپنے رب کو پکارا کہ :
" یااللہ! یہ بھی مخلوق ہے تو چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا، یہ ظالم مجھ پر غالب آگئے ہیں اور ظلم کرنے سے باز نہیں آرہے ... "

اور رو رو کے اللہ کے حضور التجائیں کیں۔ دفعتاً دل میں القا ہوا کہ جادو کا توڑ تو آقا ﷺ نے معوذتین سے کیا تھا اور جادو بھی انتہائی سخت بلکہ آخری درجے کا تھا،جب آقا ﷺ نے معوذتین سے یہ جادو توڑا تو میں بھی معوذتین ہی پڑھتا ہوں۔ اب انہوں نے اللہ کا نام لیا اور اسی رات سے باوضو ہوکر مسجد میں جاکر معوذتین اس جادو کی توڑ کی نیت سے پڑھنی شروع کی۔ یہ پوری رات پڑھتے رہے اور وقتاً فوقتاً دن کو بھی ورد چلتا رہتا ہر وقت باوضو رہنے لگے، غالباً چھٹے دن رات کو اونگھ آگئی اور اچانک خون کی پوری بالٹی ان کے اوپر جیسے کسی نے گرا دی ہو۔ یہ بہت پریشان ہوئے اٹھے مسجد کے ساتھ ہی کنواں تھا وہاں نہائے دھوئے اور کپڑے بھی پاک کیے، مسجد دھوئی۔ اب سوچا بی بی کی بھی خبر لوں۔ گھر پہنچے تو وہاں بھی یہی حال تھا اور بیوی انتہائی پریشان تھی۔ بیوی کو دلاسہ دیا اور فرمانے لگے کہ :
ُچھ_ہلچل_ہو_گئی_ہے_ان_شاء_اللہ_اب_کام_بن_جائے_گا ...

ایک نئے ولولے سے اسی رات سے پھر دوبارہ مسجد میں عمل شروع کردیا نویں دن پھر وہی ہوا اونگھ آئی اور دونوں میاں بیوی پر خون کی بالٹی گرادی گئی۔ انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پڑھنا جاری رکھا۔ تیرہویں دن صبح کے وقت وہی سندھ والا خبیث العین مسجد میں داخل ہوا اور آتے ہی پیروں میں گر کے معافیاں مانگنے لگا۔ ان صاحب نے اسے بولا کہ :
" #تُو_مجھ_سے_کیوں_معافیاں_مانگ_رہا_ہے ...؟ "

کہنے لگا کہ :
...

انہوں نے معاف کردیا اور وجہ پوچھی، کہنے لگا کہ :
" آپ میاں بیوی پر جادو میں نے کیا تھا جب آپ مسجد میں عمل کرنے بیٹھے تو میں بھی آپ کے مقابلے پر بیٹھ گیا اور روزانہ میرا کیا ہوا جادو مجھ پر ہی الٹا چلنے لگا اور میرے مؤکل میرے دشمن ہو گئے ... "

یہ صاحب فرمانے لگے کہ :
ُو_نے_مجھے_پہلے_بتا_دی_ہوتی_تو_تجھے_میں_کبھی_معاف_نہ_کرتا ...

بہرحال یہ جادوگر معافی مانگ کر اپنی جان بچا کر واپس سندھ لوٹ گیا۔ کیونکہ اگر وہ معافی نہ مانگتا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔ انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا مگر جادوگر کی صلح کا اعتبار بھی نہ کیا اور اکتالیس دن مسلسل عمل کرتے رہے اس کے بعد اللہ نے ان کو نرینہ صحت مند اولاد سے نوازا اور دو سے زائد بیٹے عطا فرمائے اور بندش ہمیشہ کیلئے ٹوٹ گئی ...

جادو کا حتمی علاج :
قرآن پاک کی آخری دو سورتیں جنہیں معوز تین کہا جاتا ہے
سحر کے علاج میں مغز کی حثیت رکھتی ہیں، یعنی :
" "
انہیں گیارہ گیارہ مرتبہ صبح و شام پڑھنا چاہئے اور بچوں پر پڑھ کر دم کرنا چاہئے، یہ بےنظیر و بےمثال عمل ہے۔ انہیں آیات کے پڑھنے سے میرے آباؤ أجداد و آل اولاد مُحّمد ھِشام و ایمان مسکانِ فاطمہ سے کروڑہا کروڑ گنا زیادہ پیارے نبی کریم خاتم النبیین سید المرسلین رحمت اللعالمین جناب رسالت مآب سرور کائنات فخر موجودات شاہ لولاک حضرت مُحمّد مُصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کو سحر سے شفاء ملی ...!

#طالبِ_دُعا : #اٌبو_فرحان_بن_عبد_الرحمٰن

16/06/2026

مرنے کے بعد کرم دین کو سب سے پہلے پیاس محسوس ہوئی۔ 🥹🥹

یہ بات اسے عجیب لگی، کیونکہ زندگی بھر اس نے سنا تھا کہ موت کے بعد جسم کی ضرورتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ مگر اس کے گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے، ہونٹ خشک تھے، اور زبان تالو سے یوں چپکی ہوئی تھی جیسے کسی نے اندر راکھ بھر دی ہو۔

وہ ایک لمبی، سنسان سڑک پر چل رہا تھا۔

دائیں طرف کھیت تھے، مگر ان میں کوئی کسان نہیں تھا۔ بائیں طرف کیکر کے درخت تھے، مگر ان پر کوئی پرندہ نہیں بیٹھا تھا۔ ہوا چل رہی تھی مگر پتے نہیں ہلتے تھے۔ آسمان صاف تھا، پھر بھی روشنی میں ایک عجیب سا دھندلا پن تھا، جیسے صبح اور شام کے بیچ کوئی لمحہ اٹک گیا ہو۔

کرم دین نے چلتے چلتے اپنے قدموں کی آواز سنی۔

پھر ایک اور آواز۔

ہلکی سی، شناسا سی۔

اس نے مڑ کر دیکھا۔

بھورا اس کے ساتھ چل رہا تھا۔

وہی بھورا، جس کی پیٹھ پر مٹیالے بال تھے، ایک کان آدھا کٹا ہوا تھا، اور آنکھوں میں وہی پرانی عاجزی تھی جسے کرم دین زندگی بھر سمجھ نہ سکا تھا۔

کرم دین کے قدم رک گئے۔

“ارے…” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

بھورا دم ہلانے لگا۔

اسی لمحے یاد کا ایک دروازہ کھلا۔

کرم دین کو اپنا آخری دن یاد آیا۔ سینے میں اٹھتا ہوا درد، چارپائی کے گرد کھڑے بیٹے، بہوؤں کی دبی دبی سرگوشیاں، محلے کے مولوی صاحب کی تلاوت، اور پھر اچانک سب آوازوں کا پانی میں ڈوب جانا۔

وہ مر چکا تھا۔

اور بھورا تو اس سے بھی سات سال پہلے مر گیا تھا۔

کرم دین نے جھک کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ہاتھ واقعی بالوں پر پھرا۔ بھورا واقعی ساتھ تھا۔ وہ کوئی خیال، سایہ یا دھوکا نہیں تھا۔

“تو بھی آ گیا؟” کرم دین نے آہستہ سے کہا۔

کتے نے گردن ذرا ٹیڑھی کی، جیسے پرانی بات سمجھ گیا ہو۔

کرم دین کے سینے میں کوئی پرانا پچھتاوا چبھا۔

بھورا اس کے گھر کا کتا تھا، مگر کبھی گھر کے اندر نہیں آیا۔ صحن کے کونے میں بوری پر سوتا، رات بھر گیٹ کے پاس بیٹھا رہتا، اور صبح کرم دین کی چپلوں کے پاس دم ہلاتا ملتا۔ جب کرم دین کے بیٹے بڑے ہوئے تو انہوں نے اسے کئی بار گلی میں چھوڑ آنے کا کہا۔

“ابا، ہر وقت یہ کتا پیچھے لگا رہتا ہے۔ مہمان آتے ہیں تو برا لگتا ہے۔”

کرم دین نے بھی ایک آدھ بار ڈانٹ دیا تھا۔

“ہٹ، پرے ہو! ہر جگہ منہ اٹھائے چلا آتا ہے۔”

بھورا پرے ہو جاتا، مگر دور نہیں جاتا تھا۔

وفاداری بھی عجیب بیماری ہے؛ جس کو لگ جائے، وہ بے عزتی سے بھی ٹھیک نہیں ہوتی۔

دونوں چلتے رہے۔

سڑک آہستہ آہستہ چڑھائی میں بدل گئی۔ دور ایک سفید دیوار نمودار ہوئی۔ اتنی سفید کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ دیوار کے بیچ ایک بلند محرابی دروازہ تھا، جس پر دھوپ موتیوں کی طرح جم گئی تھی۔ دروازے کے اندر ایک چمکتی ہوئی گزرگاہ دکھائی دیتی تھی، جیسے سونا پگھلا کر زمین پر بچھا دیا گیا ہو۔

کرم دین کے دل میں ایک آس جاگی۔

شاید سفر ختم ہوا۔

دروازے کے پاس ایک آدمی میز لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے اجلے تھے، بال سلیقے سے جمے ہوئے، چہرے پر وہ مسکراہٹ جو امیر دفتروں کے استقبالیہ کمروں میں رکھی جاتی ہے؛ نہ پوری گرم، نہ پوری سرد۔

کرم دین نے قریب جا کر کہا، “بھائی صاحب، یہ کون سی جگہ ہے؟”

آدمی نے سر اٹھایا، کرم دین کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر ایک مشق شدہ شائستگی سے بولا، “یہ جنت ہے، جناب۔ خوش آمدید۔”

کرم دین کے خشک ہونٹ ہلے۔

“پانی مل جائے گا؟”

“بالکل، جناب۔ اندر تشریف لے آئیے۔ ٹھنڈا پانی، سایہ، آرام، سب موجود ہے۔”

یہ کہتے ہی دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ اندر کی روشنی آنکھوں کو کھینچ رہی تھی۔ کرم دین کے قدم خود بخود آگے بڑھے۔

پھر بھورا اس کی پنڈلی سے آ لگا۔

کرم دین نے نیچے دیکھا۔ کتے کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی۔ وہ بھی پیاسا تھا۔

“یہ میرے ساتھ ہے،” کرم دین نے کہا۔ “یہ بھی اندر آ جائے گا نا؟”

میز والے آدمی کی مسکراہٹ ویسی ہی رہی، مگر آنکھیں بدل گئیں۔

“معذرت، جناب۔ یہاں جانوروں کی اجازت نہیں۔”

کرم دین نے سمجھا شاید اس نے ٹھیک نہیں سنا۔

“اجازت نہیں؟”

“جی۔ اصول ہے۔ آپ اندر آ سکتے ہیں۔ اسے باہر چھوڑ دیجیے۔ یہاں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”

کرم دین نے دروازے کے اندر دیکھا۔ پانی کا خیال اس کے گلے میں ٹھنڈک بن کر اترا۔ اس نے اپنی پوری زندگی تھکن میں گزاری تھی۔ زمین جوتی، بیٹوں کو پالا، قرض اتارے، رشتے نبھائے۔ آخر میں یہی چاہا تھا کہ کہیں آرام مل جائے۔

مگر بھورا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

نہ شکایت، نہ مطالبہ۔

بس وہی پرانی آنکھیں۔

کرم دین کو اچانک ایک رات یاد آئی۔ بارش ہو رہی تھی۔ اس کے بڑے بیٹے نے غصے میں کہا تھا، “ابا، آپ کی زمین ہمارے نام ہو جائے تو بہتر ہے۔ کل کو کاغذوں کا مسئلہ نہ بنے۔”

اسی رات کرم دین دیر تک چھت کے نیچے بیٹھا رہا تھا۔ سب سو گئے تھے۔ بھورا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔ کرم دین نے اس کو دھکا دیا تھا۔

“جا، مجھے اکیلا چھوڑ دے۔”

بھورا دو قدم پیچھے ہٹا، پھر وہیں بیٹھ گیا۔

کرم دین نے پہلی بار اس رات رویا تھا۔ گھر میں کسی نے نہیں دیکھا۔ کتے نے دیکھا تھا۔

دروازے پر کھڑے آدمی نے پھر کہا، “جناب، اندر آئیے۔ دیر نہ کیجیے۔”

کرم دین نے بھورے کے سر پر ہاتھ رکھا۔

“اگر یہ نہیں جا سکتا،” اس نے دھیرے سے کہا، “تو میں بھی نہیں جا سکتا۔”

میز والے آدمی نے پہلی بار مسکرا کر نہیں دیکھا۔ اس نے صرف قلم اٹھایا، جیسے کسی نام کے آگے نشان لگا رہا ہو۔

“جیسی آپ کی مرضی۔”

دروازہ بند ہونے لگا۔

کرم دین نے ایک لمحے کو اندر کی روشنی کو دیکھا۔ انسان کی کمزوری عجیب ہوتی ہے؛ وہ سچ جاننے سے پہلے سہولت کو پہچان لیتا ہے۔ اس کے پاؤں میں تھوڑی دیر کے لیے لرزش آئی۔ پھر بھورا چل پڑا۔ کرم دین بھی چل پڑا۔

سڑک اب کچی ہو گئی تھی۔

چمک ختم ہو گئی۔ دھوپ نرم پڑ گئی۔ دور ایک ٹوٹا سا لکڑی کا پھاٹک تھا، جو بند ہونے کے قابل ہی نہیں لگتا تھا۔ اس کے اندر ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا۔ چند نیم کے درخت، ایک پرانا کنواں، مٹی کی خوشبو، اور سایہ جس میں کوئی دکھاوا نہیں تھا۔

درخت کے نیچے ایک بوڑھا آدمی بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس کے کپڑے معمولی تھے، مگر چہرے پر عجب اطمینان تھا؛ جیسے جسے کچھ ثابت نہ کرنا ہو۔

کرم دین نے آواز دی، “بابا جی، پانی ملے گا؟”

بوڑھے نے کتاب بند کی، عینک اتاری، اور مسکرا کر بولا، “کیوں نہیں بیٹا۔ ادھر ہینڈ پمپ ہے۔ خود بھی پی لو، اپنے ساتھی کو بھی پلا دو۔ پیالہ ساتھ پڑا ہے۔”

کرم دین نے چونک کر پوچھا، “یہ بھی آ سکتا ہے؟”

بوڑھے نے بھورے کو دیکھا۔ بھورا تھکن سے زبان نکالے کھڑا تھا۔

“یہ تمہارے ساتھ آیا ہے تو تم سے کم حق دار کیسے ہو گیا؟” بوڑھے نے کہا۔

کرم دین کے اندر کچھ ٹوٹ کر بیٹھ گیا۔

وہ ہینڈ پمپ کے پاس گیا۔ لوہے کا دستہ ٹھنڈا تھا۔ اس نے زور لگایا۔ پہلے کھڑ کھڑاہٹ ہوئی، پھر مٹی کی بو والا صاف پانی پھوٹ نکلا۔ اس نے پیالہ بھرا۔ بھورا پہلے جھجھکا۔ شاید اسے زندگی بھر پہلے کھانے پینے کی عادت نہیں ڈالی گئی تھی۔

کرم دین نے پیالہ اس کے آگے رکھا۔

“پی لے، یار۔ آج پہلے تو پی۔”

بھورا پانی پینے لگا۔

کرم دین اسے دیکھتا رہا۔ کتے کی زبان پانی پر پڑتی، پیالہ ہلتا، چند قطرے مٹی پر گرتے۔ وہ قطرے کرم دین کو موتی لگے۔ پھر اس نے خود پانی پیا۔ پانی گلے سے اترتا گیا اور برسوں کی کوئی پیاس، جو صرف جسم کی نہیں تھی، کم ہوتی گئی۔

وہ واپس بوڑھے کے پاس آیا۔

“بابا جی، یہ جگہ کون سی ہے؟”

بوڑھے نے کہا، “جنت۔”

کرم دین کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“مگر آگے ایک بڑا دروازہ تھا۔ سفید دیوار، سونے کی سڑک، موتیوں جیسا پھاٹک۔ وہاں بھی ایک آدمی کہتا تھا کہ وہ جنت ہے۔”

بوڑھے نے کتاب گود میں رکھی اور بہت خاموشی سے بولا، “وہ جہنم ہے۔”

کرم دین کے حلق میں پانی ہوتے ہوئے بھی خشکی اتر آئی۔

“جہنم؟ مگر وہ تو بہت خوبصورت تھی۔”

بوڑھا مسکرایا نہیں۔ اس نے صرف کہا، “ہر چمکتی ہوئی چیز روشنی نہیں ہوتی، کرم دین۔ بعض اوقات آگ بھی بہت خوبصورت لگتی ہے۔”

کرم دین نے سر جھکا لیا۔

“آپ کو غصہ نہیں آتا کہ وہ آپ کا نام استعمال کرتے ہیں؟”

بوڑھے نے بھورے کی طرف دیکھا، پھر کرم دین کی طرف۔

“نہیں۔ ہمیں سہولت رہتی ہے۔ جو آدمی اپنے پیاسے ساتھی کو دروازے پر چھوڑ سکتا ہے، وہ خود ہی وہاں رک جاتا ہے۔”

کرم دین کی آنکھیں بھر آئیں۔

اس نے بھورے کو اپنے قریب بلایا۔ کتا اس کے پاؤں کے پاس آ بیٹھا۔ زندگی بھر دروازوں کے باہر بیٹھنے والا آج پہلی بار اس کے ساتھ اندر تھا۔

کرم دین نے بوڑھے سے پوچھا، “اور جو لوگ دیر سے سمجھتے ہیں؟”

بوڑھے نے کتاب دوبارہ کھولی۔

“جنت میں دیر سے آنے والوں کے لیے بھی جگہ ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ کسی کو پیچھے چھوڑ کر نہ آئیں۔”

کرم دین نے بھورے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ حساب صرف نمازوں، روزوں، زمینوں اور اولادوں کا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایک پیالہ بھی نامۂ اعمال میں رکھا جاتا ہے، اور ایک پیاسا جانور انسان کی اصل اوقات بتا دیتا ہے۔

درختوں کے پیچھے سے ہوا آئی۔

بھورا دم ہلانے لگا۔

کرم دین نے آنکھیں بند کیں تو اسے دور کہیں وہ سفید دروازہ بند ہوتا سنائی دیا۔

اور پہلی بار اسے کسی بند دروازے کا افسوس نہیں ہوا۔

©️ انتخاب سخن سے منقول

نوٹ :- السلام علیکم میری پیارے دوستوں میں ہمیشہ یہی کوشش کرتی ہوں کہ میرا انتخاب ایسی سبق اموز کہانیاں ہوں جس سے ہم کچھ سیکھ سکیں. ایز رائٹر میرے اوپر یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ میں اپ کو زندگی کی ساری حقیقتوں سے روشناس کراؤں اور اپ کو صحیح راستے کو چننے مین مدد کروں. مجھے یہ ڈر ہے کہ روز قیامت میں اللہ تعالی مجھ سے پوچھیں گے کہ تم نے اپنی کیا ذمہ داری نبھائی تو میں کیا جواب دوں گی. دوستو غریبوں کے علاوہ بے زبانوں کی بھی مدد کرے الله تعالی بہت خوش ہوتے ہیں اگر اپ کسی بے زبان کو کھانا اور پیاسے کو پانی پلائیں. دوستوں گرمی بہت ہے اپنے چھت میں صاف کٹورے میں ٹھنڈا پانی اور تھوڑا دانہ رکھ دیجئے تاکہ ہمارے بے زبان پرندے کھا سکیں اور جب سڑک میں نکلے تو پلیز کچھ روٹیاں اور پانی لے کر نکلا کریں تاکہ ہمارے محلے کے بے زبان جانور کتے بلیاں اور گائے بکری بھی اس روٹی اور پانی کے حقدار ہیں. انہیں ان کے غذا سے محروم نہ کریں پلیز ہو سکتا ہے قیامت کے دن یہ ہماری بخشش کا سبب بن جائے......

Address

Karachi Lines

Telephone

+923022542146

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al harem motors posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share