05/10/2023
تاندلیانولہ کا سپوت
پنجاب پولیس کے اس ہنستے مسکراتے نوجوان کا نام رانا محمد جمیل ہےجو تاندلیانوالہ کا رہائشی ہے 26 ستمبر کی صبح یہ اپنی ڈیوٹی کے سلسلے میں تاندلیانوالہ سے فیصل آباد جا رہا تھا کہ ایک اندوہناک حادثے میں رانا محمد جمیل شہید ہو گیا، 26 ستمبر کی صبح شاید اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے تین معصوم بچوں کو آخری بار گود میں لیکر اُنکے ماتھے چومیں ہونگے یہ جانے بغیر کہ یہ سفر آج میرا آخری سفر ہو گا بس وہی ہوا محمد جمیل کا یہ سفر آخری سفر ثابت ہوا یہ پنجاب پولیس کا ہنس مُکھ نوجوان اللہ کی راہ میں پیارا ہو گیا اللہ تعالی رانا محمد جمیل کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور انکے سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین
ہماری آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور صاحب سے دردمندانہ اپیل ہے کہ محمد جمیل کو سب سے پہلے شہید ڈکلئیر کیا جائے اور جو لوازمات شہید کی بیوہ بچوں کو ملتے ہیں وہ فراہم کیے جائیں شہید محمد جمیل کے بچوں کی کفالت کی جائے محمد جمیل شہید اپنے بچوں سے شدید محبت کرتا تھا اور اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دینا چاہتا تھا سو محکمہ پنجاب پولیس محمد جمیل شہید کے بچوں کی تعلیم کی کفالت کے ساتھ ساتھ مالی کفالت کی ذمہ داری بھی اُٹھائے کیونکہ حصول ڈیوٹی کے لئے جاتا وہ اللہ کو پیارا ہو گیا اب اسکی فیملی بچوں کی کفالت پنجاب پولیس کی ذمہ داری ہے سو آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور صاحب سے اپیل ہے کہ محمد جمیل کے بچوں کے سر پر دست شفقت رکھنے کے لئے آپ تاندلیانوالہ تشریف لائیں آپ سربراہ ہیں اگر آپ شہید کی بیوہ اور بچوں پر دست شفقت رکھتے ہیں تو شہید کی فیملی کو یہ احساس ہوگا کہ واقعی پنجاب پولیس اور پنجاب پولیس کے سربراہ نے ہمارے دکھ میں ہم سے یکجہتی کی اور ہمارا غم بانٹا , شاید سی سی پی او اور آر پی او فیصل آباد کے پاس فرصت نہیں کہ شہید کی بیوہ اور بچوں کے لئے وقت نکال کر تاندلیانوالہ تشریف لا سکیں ۔
شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بھلا نہ دینا