D.i.khan Motorcycle bargain

D.i.khan Motorcycle bargain Motor cycle bargain near kotli imam Dera ismail khan

🚙 Suzuki SJ 410 Jeep for Sale – Excellent Condition | Peshawar NumberModel: 1989Variant: SSR Double Top GearDrive: FWD (...
25/10/2025

🚙 Suzuki SJ 410 Jeep for Sale – Excellent Condition | Peshawar Number

Model: 1989
Variant: SSR Double Top Gear
Drive: FWD (Four Wheel Drive)
Rims: Original Japanese Steel Rims
Tyres: Tubeless Tyres – Excellent Condition (Michni)
Registration: Peshawar Computer Registered Number
Seats: Sport Car Style Comfortable Seats
Battery: Brand New Installed
Radiator: Hilux Dalla Radiator (High Performance)
Brakes: Disc Brakes (Jimny Style)

💥 Additional Highlights:

Engine and gear in perfect condition

Smooth drive with strong suspension

Neat & clean interior and exterior

Ready for long routes or city drive

📞 Contact: +92 346 7876282
📍 Location: D.I. Khan

کیا خواتین اور بچوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے؟ 🤔💔ڈی آئی خان میں شادی ہالوں میں ایک عجیب اور غیر منصفانہ روایت دیکھی جا رہی ...
20/02/2025

کیا خواتین اور بچوں کو کم تر سمجھا جاتا ہے؟ 🤔💔

ڈی آئی خان میں شادی ہالوں میں ایک عجیب اور غیر منصفانہ روایت دیکھی جا رہی ہے۔ کھانے کے وقت پہلے مردوں کو بلایا جاتا ہے، اور جب وہ کھا چکتے ہیں، تب جا کر خواتین اور بچوں کو موقع دیا جاتا ہے! 😡

یہ صرف ایک رسم نہیں، بلکہ امتیازی سلوک ہے! خواتین جو کہ پہلے ہی معاشرتی دباؤ کا شکار ہیں، اور بچے جو کہ سب سے کمزور ہوتے ہیں، انہیں انتظار کروایا جاتا ہے، جبکہ ہٹے کٹے "نام نہاد مرد" پہلے پیٹ بھرتے ہیں! 🏴‍☠️

کیا وقت نہیں آ گیا کہ اس غلط روایت کو بدلا جائے؟ آئیں، ایک نئی تحریک شروع کریں:
پہلے خواتین اور بچے، پھر مرد! 👩‍👧‍👦🍽️

کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟ اپنی رائے دیں! 👇

🔘 ہاں، پہلے خواتین اور بچوں کو کھانا دیا جانا چاہیے!
🔘 نہیں، مرد پہلے کھائیں، جیسا چل رہا ہے ٹھیک ہے!

ڈی آئی خان کی شادیوں میں عورتوں سے امتیازی سلوک: ایک افسوسناک حقیقتہمارا معاشرہ، جو عورتوں کے حقوق کی حمایت کا دعویٰ کرت...
19/01/2025

ڈی آئی خان کی شادیوں میں عورتوں سے امتیازی سلوک: ایک افسوسناک حقیقت

ہمارا معاشرہ، جو عورتوں کے حقوق کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے اور مساوات کے اصولوں کو اپنانے کا درس دیتا ہے، عملی طور پر کئی مواقع پر ان اصولوں کی نفی کرتا ہے۔ ڈی آئی خان کی شادیوں میں کھانے کے معاملے میں عورتوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک ایک نمایاں مثال ہے۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ناانصافی میں نہ صرف عام لوگ بلکہ پڑھے لکھے افراد اور خود کو عورتوں کے حقوق کا علمبردار کہنے والے بھی شامل ہیں۔

مردوں کو فوقیت اور عورتوں کے ساتھ ناانصافی

شادی بیاہ کی تقریبات میں کھانے کی تقسیم کے وقت مردوں کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی ہے۔ انہیں سب سے پہلے کھانے کے لیے بلایا جاتا ہے، جبکہ عورتوں کو آخری وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب ان کی باری آتی ہے، تو کھانا یا تو ٹھنڈا ہوچکا ہوتا ہے یا بعض اوقات مناسب مقدار میں دستیاب ہی نہیں ہوتا۔ یہ رویہ نہ صرف عورتوں کی جسمانی ضروریات کو نظرانداز کرتا ہے بلکہ ان کی عزت نفس کو بھی مجروح کرتا ہے۔

عورتوں کے ساتھ اس رویے کے نقصانات

1. جسمانی صحت پر اثرات:
عورتیں دن بھر بچوں کو سنبھالنے اور گھریلو کاموں کے بعد پہلے ہی تھکی ہوئی ہوتی ہیں۔ انہیں وقت پر کھانا نہ ملنا ان کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

2. ذہنی دباؤ:
کھانے کے لیے انتظار اور ٹھنڈے یا بچے ہوئے کھانے پر اکتفا کرنا عورتوں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ یہ رویہ ان کی خوشی اور آرام کو متاثر کرتا ہے۔
3. برابری کے اصول کی خلاف ورزی:
یہ طرز عمل معاشرتی برابری کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اسلام اور ہماری روایات دونوں عورتوں کو عزت دینے اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے پر زور دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر یہ بات نظرانداز کی جاتی ہے۔

پڑھے لکھے طبقے کی خاموشی اور شمولیت

یہ بات حیرت انگیز اور افسوسناک ہے کہ اس غیر مساوی رویے میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود کو روشن خیال اور عورتوں کے حقوق کا حمایتی کہتے ہیں۔ یہ لوگ شادیوں میں اس امتیازی سلوک کو نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ اکثر اس کا حصہ بھی بنتے ہیں۔ ان کی خاموشی اور عملی شمولیت اس مسئلے کو مزید سنگین بناتی ہے۔

حل کیا ہے؟

1. عورتوں کو کھانے میں اولیت دی جائے:
شادی ہالز میں انتظامیہ کو پابند کیا جائے کہ عورتوں کو کھانے کا انتظام سب سے پہلے کیا جائے تاکہ وہ آرام دہ ماحول میں کھا سکیں اور اپنے بچوں کی بھی دیکھ بھال کرسکیں۔

2. مشترکہ کھانے کا انتظام:
مردوں اور عورتوں کے لیے کھانے کے انتظام کو ایک ساتھ کیا جائے تاکہ سب کو برابر کا موقع ملے۔

3. شعور بیداری مہم:
معاشرے میں اس امتیازی رویے کے خلاف شعور بیدار کیا جائے۔ خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے کو اس معاملے پر بات کرنی چاہیے اور عملی مثال بننی چاہیے۔
4. عورتوں کی عزت کو اولین ترجیح بنائیں:
تقریبات کے دوران عورتوں کی عزت اور ان کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے۔ یہ رویہ نہ صرف ان کی خوشی کا باعث ہوگا بلکہ معاشرے میں برابری اور ہم آہنگی کو فروغ دے گا۔
نتیجہ:

ڈی آئی خان کی شادیوں میں عورتوں کے ساتھ کھانے کے معاملے میں ہونے والا یہ غیر منصفانہ رویہ فوری اصلاح کا متقاضی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی روایات اور اقدار کا ازسرنو جائزہ لیں اور عورتوں کے ساتھ برابری اور عزت کا سلوک کریں۔ پڑھے لکھے اور باشعور طبقے کو اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں، عورتوں کی عزت اور برابری نہ صرف ایک اخلاقی فرض ہے بلکہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بھی۔

09/06/2024

شکر ہے میں نے میچ نہیں دیکھا ۔نہیں تو شام سات سے رات ایک تک وقت ضائع ہوتا ۔بلڈ پریشر بھی اوپر نیچے ہوتا ۔اور گالیاں بھی نکالنی پڑتی۔وہ تو ویسے اچانک آنکھ کھلی تو سوچا دوستو کو بتا دوں ۔بالکل ناجائز اور غیر شرعی کھیل ہے وقت کا ضیان ہے ۔صحیح بات ہے😝😜

10/04/2024

پورا مہینہ عید کی شاپنگ اور عید سو کر گزارنا ایسا پاکسان میں ہی ممکن ہے😜۔آل پاکستان قیلولہ ٹائم 1 تا 4 بجے .مہمانوں کے معذرت

10/04/2024

۔۔عید مبارک۔۔۔۔۔۔۔۔20 روپے والے جوس کا ڈبہ بھی آخری قطرے کے شڑوپ کی آواز آنے تک نہ پھینکنے والے چوہدریوں کو بھی عید مبارک😂Hi😂😂

: قربانی دے گوشت نال فریجاں بھرن والے سخیوں کو عید مبارک🤣🤣🤣😂😂
: جن لوگوں کے ڈر سے واٹر کولر کے ساتھ گلاس کو سنگلی کے ساتھ باندھ کر رکھا جاتا ہے ان لوگوں کو
عید مبارک🤣🤣🤣

: صبح صبح قوالیاں سن کر نیکیاں حاصل کرنے والوں کو عید مبارک😂😂🤣😅😅
[: ہر پوسٹ پر nice bro لکھنے والوں کو
عید مبارک🤣🤣🤣

: پودے لگانے والوں کو شاباش اور پودے اکھاڑنے والوں کو عید مبارک😂😂😂
: گائے اور بھینس کا دودھ مکس کرنے کے بعد بھی پانی ملا کر دودھ بیچنے والے گوالوں کو
عید مبارک🤣🤣🤣

[: آم کی پیٹی کے اوپر 6 آم پکے اور نیچے 25 اچاری آم رکھنے والے حاجیوں کو بھی عید مبارک🤣🤣😂😂😂
: ہسپتال میں مریض کی تیمارداری پر جا کر چائے پانی نہ پوچھنے پر ناراض ہو کر واپس آنے والوں کو
عید آزادی مبارک🤣🤣🤣🤣
ویلنٹائن ڈے کو حرام قرار دے کر خود انباکس میں جانو مانو کرنے والوں کو عید مبارک🤣🤣🤣😂😂

اعوام سے مفت ووٹ لے کر بعد میں اپنا ووٹ بیچنے والے کونسلروں کو
عید مبارک😅😅😢😆😂😂
: کمپوڈر کا کورس کر کے خود کو ڈاکٹر سمجھنے والوں کو
عید مبارک😅😅🤣🤣🤣😂😂😂
: دو نمبر بوتلیں بیچ کر رحمت کی بارش مانگنے والی اعوام کو
عید مبارک🤣🤣🤣🤣
: تھوڑا تھوڑا مِلک شیک زیادہ برف ڈالنے والے جوس کارنر مالکان کو
عید مبارک😂😂😂
: باسی بریانی اور تازہ بریانی مکس کر کے بیچنے والے بریانی سینٹر والوں کو
عید مبارک😂😂😂
: ووٹ نوازشریف کو ڈال کر نعرے عمران خان کے مارنے والے انصافیوں کو
عید مبارک🤣🤣🤣🤣🤣
: بھینس کو ٹیکے لگا لگا کر دودھ نکالنے والوں کو
عید مبارک😂😂😂
: واش روم میں بیٹھ کر موبائل فون استعمال کرنے والوں کو
عید مبارک😂😂😂
جلیبیاں سموسے پکوڑے بریانی کھا کر ووٹ دینے والی اعوام کو
عید مبارک😂😂😂😅😅😅😅
: ایک ٹرالی میں تین چار سو اینٹوں کی کرپشن کرنے والے ٹریکٹر ٹرالی والوں کو
عید مبارک🤣🤣🤣😅😅
: ترقی کا معیار صرف نالیاں گلیاں سڑکیں بتانے والی اعوام کو
عید مبارک😅😅😅😂😂😂
: آگے آگے صاف اور تازہ پھل
پیچھے باسی اور خراب پھل لگا کر
ایک ہی ریٹ پر فروخت کرنے والے پھل فروشوں کو
عید مبارک😅😅😢😂😂😂: پوری مزدوری لے کر دیہاڑی میں صرف 400+ اینٹیں لگانے والے مستریوں کو
عید مبارک😢😢😅😅😅
: صرف ڈرامہ دیکھ کر خود کو ارتغرل سمجھنے والوں کو
عید مبارک😂😂😂😂
: نقلی چالان کاٹنے والے ٹریفک وارڈنز کو عید مبارک🤣🤣🤣🤣
: روزہ نہ رکھ کر افطاری میں شامل ہونے والوں کو
عید مبارک🤣🤣🤣🤣: بغیر ٹیسٹ کئیے رزلٹ دینے والی میڈیکل لیبارٹریوں کو عید مبارک🤣🤣🤣
: میرے کپڑے خراب نے
کہہ کر نماز نہ پڑھنے والوں کو عید مبارک😢😢😢
: ڈیڑھ لیٹر کی بوتل شرط لگا کر کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو عید مبارک😂😂😂🤣🤣🤣: چوری پٹھے وڈن والوں کو عید مبارک😅😅🤣🤣🤣
: ہر گھر سے سو سو روپے لے کر اوپر اوپر سے نالی صاف کرنے والے صفائی والوں کو عید مبارک😂😂😂😂
ہر حال میں خوش رہنے والوں کو اﷲ کریم برکتیں عطا فرمائے اور کھاتے پیتے رونے والوں کو عید مبارک😂😂😂😂

: آپ کا سوٹ سی کر بقایا کپڑے سے اپنے بچوں کی نِکریں بنانے والے درزیوں کو عید مبارک🤣🤣🤣🤣
ایمبولینس 🚑 کے سائرن سن کر بھی راستہ نہ دینے والوں کو عید مبارک🤣🤣🤣🤣
بیسن میں آٹا ملا کر پکوڑے بیچنے والوں کو عید مبارک🤣🤣🤣

پاؤں کے ساتھ آٹا گوندھنے والے نان بائیوں کو عید مبارک🤣🤣🤣🤣 ڈیوٹی ٹائمنگ میں رکشہ چلانے والے چپڑاسیوں کو عید مبارک🤣🤣🤣😂😂
ہر جھاڑو سے 4,-4 تیلے نکال کر دکان کے استعمال کیلئے الگ منی جھاڑو مینیج کرنے والے تاجروں کو بھی عید مبارک😂😂😂😂🤣
چوہدری صاحب دے حکم تے میں اپنے دو پروگرام کینسل کر ایتھے پڑھن آگیا وے, اے کہہ کے نعت پڑھن والے نعت خواناں نوں وی عید مبارک😅😅😅

پولیس والوں کو کولڈ ڈرنک پلا کر, پھر ان کے ساتھ سیلفیاں بنانے والوں کو عید مبارک🤣🤣🤣
جمعے دے دو فرض پڑھ کر فٹافٹ مسجد وچوں نسن والیاں نوں وی عید مبارک😅😅😅😅
پیسے لگا کر جعلی ڈگری 🎓 حاصل کرنے والوں کو عید مبارک🤣🤣🤣😂😂😂
عمرہ کر کے واپسی مدینہ پاک دیاں کھجوراں گھر میں رکھ کر , پاکستانی سستیاں کھجوراں وڈن والیاں نوں وی عید مبارک🤣🤣🤣

دوستوں کو مس کال مارنے اور معشوقوں کو ایزی لوڈ کرانے والوں کو عید مبارک🤣🤣🤣🤣😂😂😂
دعوت تے جان لںٔی سارا دن گھر سے روٹی نہ کھانے والوں کو بھی عید مبارک🤣🤣🤣🤣
: گاہکاں واسطے 2500 دا تے تواڈے واسطے 2000 دا کہہ کے فیر 1100 دا سوٹ دین والے دوکانداراں نوں عید مبارک🤣🤣🤣🤣

: مینوں جلدی فارغ کر دیو, میں ہور جگہ وی ختم پڑھنا وے, کہن والیاں مولویاں نوں وی عید مبارک

بینک کے بعد پیسوں کے لیے,
مخفوظ ترین جگہ شلوار والی جیب نوں سمجھن والیاں نوں وی عید مبارک🤣🤣🤣😅😅😅.
Rana Naveed Advocate

*ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ*آئیں سیرت پڑھیں ۔واٹس اپ گروپ میں شامل ہوں لنک آخر میں *🕋پلیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF}*...
04/04/2024

*ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ*آئیں سیرت پڑھیں ۔واٹس اپ گروپ میں شامل ہوں لنک آخر میں
*🕋پلیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF}*
*🕌 عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم*
*📠قسط نمبر3️⃣9️⃣5️⃣سرکار دو عالمﷺ کے اخلاق کریمہ کا ذکر جمیل: حصہ پندرہواں)*
(نبی کریمﷺ کی تواضع :حصہ سوم)
*ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ*

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے آقاﷺ کے حسن اخلاق اور تواضع کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے فرماتی ہیں: جو شخص بھی حضورﷺ کو پکارتا، وہ صحابہ کرام میں سے ہو یا اہل خانہ سے کوئی بھی ہو، حضورﷺ اس کے جواب میں ہمیشہ *لَبَّیۡکَ* ( میں حاضر ہوں) فرماتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب حضورﷺ کی خانگی مصروفیات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔
*"كَانَ اَلۡيَنَ النَّاسِ بَسَّامًا ضَحَّاكًا لَّمْ يُرَ قَطُّ مَادًّا رِجْلَيْهِ بَيْنَ اَصْحَابِهٖ"*
ترجمہ: حضورﷺ تمام لوگوں سے زیادہ نرم خو تھے۔ ہر وقت مسکراتے اور ہسنتے رہتے۔ کسی نے حضورﷺ کو کبھی اپنے صحابہ کی محفل میں پاؤں پھیلائے ہوئے نہیں دیکھا۔
(زيني دحلان، السيرة النبویہ، جلد 3، صفحہ 238)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سرور عالمﷺ جب گھر تشریف لاتے تو بیکار نہ رہتے۔ اگر کوئی کپڑا پھٹا ہوتا تو اسے سیتے، اپنے جوتے کی مرمت فرماتے، کنوئیں سے ڈول نکالتے اور اس کی مرمت کرتے۔ اپنی بکری خود دوہتے، اپنے ذاتی کام خود انجام دیتے، کبھی کبھی کاشانہ اقدس کی صفائی بھی فرما دیتے اپنے اونٹ کے گھٹنے باندھتے۔ اپنی اونٹنی کو چارہ ڈالتے۔ خادم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آٹا گوندھتے، بازار سے اپنا سودا سلف خود اٹھا لاتے۔ یہ سارے کام اس لئے کرتے تاکہ اپنے صحابہ کرام کو تواضع و انکسار کا طریقہ سکھائیں اور تکبر و غرور سے باز رہنے کی عملی تلقین کریں۔ حضور نبی کریمﷺ جب سفر سے مدینہ طیبہ واپس تشریف لاتے تو مدینہ کے بچے حضورﷺ کے استقبال کیلئے دوڑ کر آتے۔ حضورﷺ ان کو اپنے ساتھ سوار کر لیتے۔ اگر کچھ بچے رہ جاتے تو صحابہ کرام کو حکم دیتے کہ ان کو اپنے ساتھ سوار کریں۔ سرکار دو عالم ﷺ نے جب بنی قریظہ اور بنی نضیر کے قلعوں پر حملہ کیا تو اس وقت حضور ﷺ کسی عربی گھوڑے پر سوار نہیں تھے بلکہ ایک دراز گوش پر سوار تھے اور اس کے منہ میں جو لگام تھی وہ کھجور کے پتوں سے بٹ کر بنائی گئی تھی اور اس کی پشت پر کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی تھی۔ وہ ذات پاک کہ زمین و آسمان اور پہاڑ جس کے ادنیٰ اشارے کے منتظر رہتے ہوں اس کے تواضع و انکساری کی یہ شانیں در حقیقت فخر کائناتﷺ کی حقیقی عظمتوں اور سچی رفعتوں کی شاہدِ عَدل ہیں۔ حضورﷺ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ خوش طبعی بھی فرمایا کرتے۔ ان کے ساتھ میل جول کرتے۔ ان سے بلا تکلف گفتگو فرماتے۔ ان کے بچوں سے بھی کھیلتے ان کو اپنی گود میں بٹھاتے۔ مدینہ طیبہ کے دور دراز محلوں میں اگر کوئی صحابی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے۔ اگر کسی شخص سے کوئی قصور سر زد ہوتا اور وہ معافی طلب کرتا تو حضورﷺ اسے معاف فرما دیتے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص حضورﷺ سے سر گوشی کرتا تو حضورﷺ اپنا کان مبارک اس سے نہ ہٹاتے جب تک وہ سرگوشی سے فارغ نہ ہو جاتا۔ جب کوئی آپﷺ کا دست مبارک پکڑتا، جب تک وہ دست مبارک کو پکڑے رہتا حضورﷺ خود دست اقدس کو نہ کھینچتے۔ اپنی مجلس میں بیٹھنے والوں سے اپنے گھٹنوں کو آگے نہ کرتے۔ جو حضورﷺ سے شرف ملاقات حاصل کرتا حضور ﷺ اسے سلام کہنے میں پہل فرماتے اور اپنے صحابہ کرام کے ساتھ مصافحہ کرتے۔ حضور ﷺ اپنے ملاقاتیوں کی عزت افزائی کیا کرتے۔ بسا اوقات اپنی چادر مبارک ان کیلئے بچھاتے اور اس کے اوپر بیٹھنے پر اصرار کرتے۔ اور اگر تکیہ ہوتا تو اپنے مہمان کو پیش کرتے اور اسے مجبور کرتے کہ وہ اس پر بیٹھے۔اپنے صحابہ کرام کو کنیت سے بلاتے تاکہ ان کی عزت افزائی ہو۔ اگر کسی صحابی کے متعدد نام ہوتے تو اس نام سے اسے یاد کرتے جو اسے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ اگر کوئی شخص گفتگو کر رہا ہوتا تو قطع کلام نہ کرتے۔ حضورﷺ اگر نماز میں مصروف ہوتے تو کوئی شخص ملاقات کیلئے حاضر ہوتا تو حضورﷺ اپنی نماز کو مختصر کر دیتے اور اس سے از راہ لطف دریافت کرتے کہ وہ کیوں آیا ہے۔ جب اس کی حاجت براری سے فارغ ہوتے تو دوبارہ نماز پڑھتے۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آقا ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ امام مسلم ،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ طیبہ کے خدام صبح سویرے پانی سے بھرے برتن لے کر بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوتے اور سرور عالمﷺ اپنا دست مبارک اس برتن میں ڈالتے ، خواہ پانی کتنا ٹھنڈا اور موسم کتنا خشک ہوتا۔ وہ حضور ﷺ کے دست مبارک کے لمس سے اس پانی کو متبرک بنانے کیلئے حاضر ہوتے۔ سرکار دو عالم ﷺ کے حسن اخلاق کی تشریح کرتے ہوئے علامہ قاضی عیاض علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں۔

رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کرام کے دلوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کی کوشش فرماتے اور ایک دوسرے سے متنفر نہیں کیا کرتے تھے۔ اگر کسی قبیلہ کا سردار حاضر ہوتا تو حضور ﷺ اس کی تکریم فرماتے اور اس کو اس قبیلہ کا رئیس بناتے۔ اپنے تمام ہم نشینوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرتے۔ حضور ﷺ کے پاس بیٹھنے والا کوئی شخص بھی یہ گمان نہ کرتا کہ فلاں آدمی مجھ سے زیادہ حضور ﷺ کی نگاہوں میں معزز ہے۔ کوئی شخص اگر کسی ضرورت کیلئے حاضر ہوتا اور حاضرین کے ہجوم میں قریب ہونے کی کوشش کرتا تو حضورﷺ اس کو اپنے قریب کرتے اور صبر و تحمل سے اس کی داستان سنتے۔ یہاں تک کہ وہ خود واپس چلا جاتا۔ اگر کوئی شخص حضورﷺ سے کوئی حاجت طلب کرتا تو حضور ﷺ اسے خالی واپس نہ بھیجتے۔ اگر اس کی حاجت براری ممکن نہ ہوتی تو اس کے ساتھ حضورﷺ بڑے پیار سے گفتگو فرماتے یہاں تک کہ وہ خوش و خرم واپس ہوتا۔ ان خوبیوں اور کمالات کے باعث حضورﷺ کو سب مسلمان اپنا باپ سمجھتے تھے۔ جس طرح ہر بچے کا اپنے باپ پر حق ہوتا ہے اس طرح حضورﷺ کے سب صحابہ کرام اپنے آقاﷺ کی نگاہوں میں برابر ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریمﷺ کی اس ادائے دلنوازی کو اس آیت کریمہ میں بڑے پیارے انداز میں بیان فرمایا ہے۔
*"فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الْقَلْبِ لَا نۡفَضُّوۡا مِنْ حَوْلِكَ"*
ترجمہ: پس صرف اللہ کی رحمت سے آپﷺ نرم ہو گئے ہیں ان کیلئے۔ اگر ہوتے آپﷺ تند مزاج اور سخت دل تو یہ لوگ منتشر ہو جاتے آپﷺ کے آس پاس سے۔
(سورة آل عمران،آیۃ: 159)

دوسری آیت میں ہے۔
*"اِدْفَعْ بِالَّتِيۡ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوۡنَ"*
ترجمہ:دور کرو برائی کو اس چیز سے جو بہت بہتر ہے۔ ہم خوب جانتے ہیں جو باتیں وہ بیان کرتے ہیں۔
(سورة المومنون،آیۃ: 96)

*🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲*

WhatsApp Group Invite

*🕋پلیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF}*مستند ماخذ سے سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے کیلئے گروپ میں شامل ہوں ۔لنک آخر م...
03/04/2024

*🕋پلیٹ فارم: سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم {SIF}*مستند ماخذ سے سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے کیلئے گروپ میں شامل ہوں ۔لنک آخر میں موجود ہے
*🕌 عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم*
*📠قسط نمبر2️⃣9️⃣5️⃣سرکار دو عالمﷺ کے اخلاق کریمہ کا ذکر جمیل: حصہ چودہواں)*
(نبی کریمﷺ کی تواضع : حصہ دوم)
*ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ*

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور سرور عالم ﷺ کو تکیہ لگا کر کھانا تناول کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا اور نہ حضور ﷺ سب سے آگے چلا کرتے۔ حضور ﷺ کی شان تواضع کو بیان کرتے ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ سرکار دو عالم ﷺ زمین پر بیٹھ جایا کرتے،اس پر کھانا تناول فرماتے، بکری کی ٹانگیں باندھ کر اس کو دوہتے۔ اگر کوئی غلام دعوت کیلئے عرض کرتا تو حضور ﷺ قبول فرماتے۔ سرور انبیاءﷺ کے معمولات میں سے تھا کہ حضور ﷺ دراز گوش پر سواری فرماتے، مریض کی عیادت کرتے، جنازہ میں شمولیت فرماتے اور اگر کوئی غلام دعوت دیتا تو قبول فرماتے۔ جس روز یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ پر حملہ کیا گیا اس وقت حضور ﷺایسے دراز گوش پر سوار تھے جس کے منہ میں ایسی لگام تھی جو کھجوروں کے پتوں کو بٹ کر بنائی گئی تھی اور اس کے اوپر جو خوگیر (گھوڑے یا گدھے کی کاٹھی) تھا وہ بھی کھجور کے پتوں سے بنایا گیا تھا۔ حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے امام بیہقی علیہ الرحمۃ نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ جب کوئی آدمی ملاقات کرتا تو سب سے پہلے حضور ﷺ اسے سلام فرماتے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
*"وَاللَّهِ مَا كَانَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُغْلِقُ دُوۡنَهُ الْاَبْوَابَ وَلَا يَكُوۡنُ دُوۡنَهُ الْحُجَّابُ مَنْ اَرَادَ اَنۡ يَّلْقٰى نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَہٗ كَانَ يَجْلِسُ عَلَى الْاَرْضِ وَيَطْعَمُ وَيَلْبَسُ الْغَلِيۡظَ وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ وَيَرْدِفُ خَلْفَهٗ وَيَلْعَقُ يَدَہٗ"*
ترجمہ:نبی کریم ﷺ جس حجرہ میں تشریف فرما ہوتے اس کا دروازہ بند نہ کیا جاتا اور نہ دربان مقرر کئے جاتے جو لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکیں۔ جو شخص حضور ﷺ سے ملاقات کا ارادہ کرتا حضورﷺ اس سے ملاقات کرتے۔ حضورﷺ زمین پر بھی بیٹھ جاتے، سادہ کھانا کھاتے، کھردرا لباس پہنتے، دراز گوش پر سواری کرتے، اپنے پیچھے کسی خادم کو بٹھاتے اور اپنے ہاتھ مبارک کو چاٹ لیتے۔
(سبل الہدیٰ، جلد 7 ، صفحہ 58)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ ایک شخص سے رسول اللہ ﷺ نے گفتگو فرمائی تو وہ خوف کے مارے کانپنے لگا۔ سرکار دو عالمﷺ نے اسے تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔
*"هَوِّنۡ عَلَيْكَ فَاِنِّيۡ لَسْتُ بِمَلِكٍ اِنَّمَا اَنَا ابْنُ امْرَاَةٍ مِّنْ قُرَيْشٍ كَانَتْ تَاْكُلُ الْقَدِيۡدَ"*
ترجمہ:گھبراؤ نہیں،اطمینان کرو، میں بادشاہ نہیں ہوں، میں تو قریش کی اس خاتون کا بیٹا ہوں جو دھوپ میں سکھایا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی۔
(سبل الہدیٰ، جلد 7 ، صفحہ 58)

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ ایک روز بارگاہ رسالتﷺ میں ایک بھنی ہوئی بکری پیش کی گئی۔ حضورﷺ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر تناول فرمانے لگے۔ ایک اعرابی نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! یہ کیا طریقہ ہے؟ اس سراپا رحمت و الفت نبیﷺ نے فرمایا۔
*"اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَنِيۡ عَبْدًا كَرِيۡمًا وَّلَمْ يَجْعَلْنِيۡ جَبَّارًا عَنِيۡدًا"*
ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا کریم النفس بندہ بنایا ہے مجھے صاحب جبروت اور سرکش نہیں بنایا۔
(سبل الہدیٰ، جلد 7 ، صفحہ 58)

ابو بکر الشافعی اور ابو نعیم علیہما الرحمۃ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ ایک روز سرور عالم ﷺ اپنے بہت سے عقیدت مندوں کی معیت میں ایک راستہ میں تشریف لے جا رہے تھے۔ سامنے سے ایک خاتون آ گئی۔ عرض کی اے اللہ کے پیارے رسولﷺ!میں ایک ضرورت کیلئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے مادر فلاں! اس گلی میں جس جگہ تم چاہو بیٹھو میں تیرے پاس بیٹھوں گا۔ چنانچہ وہ ایک جگہ بیٹھ گئی۔ حضورﷺ بھی بیٹھ گئے اور اس وقت تک بیٹھے رہے جب تک وہ خاتون اپنی عرضداشت پیش کرنے سے فارغ نہ ہوئی۔

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے امام بخاری علیہ الرحمۃ نے روایت کیا ہے کہ وہ ایک دن بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے۔ کیا دیکھا کہ ایک خاتون اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ حضور ﷺ کے بالکل نزدیک ہوئے بیٹھی ہے اور اپنی معروضات پیش کر رہی ہے۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ منظر دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ حضورﷺ کسریٰ و قیصر کی طرح بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کے نبیﷺ ہیں۔

حضرت ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہا اللہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ مدینہ طیبہ کی کمسن بچیاں اپنے آقاﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں۔ اگر کسی بچی کو کوئی کام ہوتا تو وہ اپنے آقاﷺ کا دست مبارک پکڑ کر آپﷺ کو اپنے ساتھ لے جاتی اور حضورﷺ اپنا دست مبارک اس کے ہاتھ سے کھینچتے نہیں تھے جب تک اس کا مقصد پورا نہ ہوتا۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ ایک مفلوک الحال مسکینہ بیمار ہو گئی۔ بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کیا گیا کہ حضور ﷺ کی فلاں خادمہ بیمار ہے۔ حضور ﷺ اس کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے۔ حضور ﷺ کا یہ معمول تھا کہ وہ فقراء و مساکین کی عیادت فرمایا کرتے اور ان کا حال دریافت کرتے۔

ایک روز حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایک بکری کی کھال اتار رہے تھے۔ حضورﷺ پاس سے گزرے۔ دیکھا کہ اسے کھال اتارنے کا ڈھنگ نہیں آتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے معاذ ہٹ جاؤ میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ کھال کیسے اتاری جاتی ہے۔ سرور عالمﷺ نے اس بکری کی کھال اتار کر دکھائی پھر فرمایا : *"يَاغُلَامُ هٰكَذَا فَاسۡلَخۡ"*
ترجمہ: اے نوجوان اس طرح کھال اتارا کرو۔
سرور کائنات ﷺ فتح مکہ کے دن جب فاتحانہ جاہ و جلال سے مکہ میں داخل ہوئے تو سرور عالمﷺ نے اپنی گردن جھکائی ہوئی تھی، حضورﷺ کی ریش مبارک پالان کے سامنے والی لکڑیوں کو چھو رہی تھی اور چشم ہائے مبارک سے از راہ تواضع اشک رواں تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے سرتاجﷺ کے معمولات کے بارے میں ارشاد فرماتی ہیں۔
*"كَانَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخِيۡطُ ثَوْبَهٗ وَيَخْصِفُ نَعْلَهٗ وَيَرْقَعُ دَلۡوَہٗ وَيَفْلِيۡ ثَوْبَهٗ وَيَجْلِبُ شَاتَهٗ وَيَخْدِمُ نَفْسَهٗ"*
ترجمہ: میرے سرکارﷺ اپنے پار چات کو خود سیا کرتے،جوتے کو خود گانٹھتے تھے، اپنے ڈول کو بھی درست کرتے تھے،اپنی بکری کا خود دودھ دوہتے تھے اور اپنی خدمت خود کیا کرتے تھے۔

*🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

WhatsApp Group Invite

01/04/2024

*🕌📜سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم کا منشور📜🕌*

*ویژن:* سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم کا منشور یہ ہے کہ عام عوام کے اندر سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے۔ جس کے مطالعہ سے قارئین کے ایمان میں یقینا پختگی اور ان کے قلوب کو جذبہ عزیمت نصیب ہو گا۔ ان شاءاللہ

*مشن:* نبی کریم ﷺ کی سیرت کو روزانہ کی قسط/آرٹیکل کے ذریعے ہر شخص (مسلم/غیر مسلم) تک پہنچا کر حیات مبارکہ سے روشناس کرانا اور قلب میں عشق رسول ﷺ کو پیدا کرنا ہے۔ ان شاءاللہ

*🕌سیرت النبی ﷺ انٹرنیشنل فورم🕌*

Address

Near Kotli Imam
Dera Ismail Khan
29050

Telephone

+923159324354

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when D.i.khan Motorcycle bargain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share