02/03/2026
پاکستان میں اکثر انڈسٹریز گڈز ٹرانسپورٹرز کو “مافیا” کہہ دیتی ہیں۔ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم اضافی کرائے لیتے ہیں، ہڑتال کرتے ہیں یا سڑکیں بند کرکے دباؤ ڈالتے ہیں۔
لیکن حقیقت صرف 40 فٹ کا کنٹینر نہیں ہے جو آپ کو سڑک پر نظر آتا ہے۔ اس کے پیچھے بے شمار مسائل، خطرات اور قربانیاں چھپی ہوتی ہیں۔
جیسے ہی ہماری گاڑی آپ کی فیکٹری سے نکلتی ہے، مشکلات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
ٹریفک پولیس اور مختلف اداروں کے ناجائز چالان، کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کا خطرہ، چلتی گاڑی سے مال کی چوری، ڈرائیور یا گاڑی کا اغوا، اور حادثے کی صورت میں لاکھوں روپے رشوت دے کر ایف آئی آر درج کروانا یہ سب وہ حقیقتیں ہیں جن سے ہم روزانہ گزرتے ہیں۔
اس وقت سندھ میں حالات یہ ہیں کہ ہمارے ڈرائیور چار چار دن تک ٹریفک لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں۔ رات ہوتے ہی لوٹ مار کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء دگنی قیمت پر ملتی ہیں اور مجبوری میں ڈرائیور وہی مہنگا کھانا خریدتے ہیں۔
ہم صرف سامان نہیں پہنچاتے، ہم اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔
کئی بار ہم اپنے فرض ادا کرتے ہوئے اپنے جوان ڈرائیوروں کی لاشیں بھی اٹھاتے ہیں، اور بعض اوقات تو حالات ایسے ہوتے ہیں کہ لاش بھی واپس نہیں ملتی۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جو اعداد و شمار میں نظر نہیں آتیں، مگر ہمارے گھروں میں ماتم چھوڑ جاتی ہیں۔
ان تمام مشکلات اور خطرات کے باوجود ہم آپ کا قیمتی کارگو بحفاظت منزل تک پہنچاتے ہیں۔
گڈز ٹرانسپورٹرز اور انڈسٹریز ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ہم ایک ہی معیشت کا حصہ ہیں اور ملک کی ترقی میں برابر کا کردار ادا کرتے ہیں۔
لہٰذا ہم گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ باہمی احترام ہی مضبوط کاروبار اور مضبوط معیشت کی بنیاد ہے۔
🙏😔😭