Noor Muhammad Khosa

Noor Muhammad Khosa Content Creator

03/12/2025

Any one want I will build

Instagram official new post about December 01
01/12/2025

Instagram official new post about December 01

ایک پہاڑی گاؤں میں زید نام کا لڑکا رہتا تھا۔زید بہت جلد غصہ کرنے والا تھا۔اگر کوئی بات اس کے مزاج کے خلاف ہو جاتی تو فور...
01/12/2025

ایک پہاڑی گاؤں میں زید نام کا لڑکا رہتا تھا۔
زید بہت جلد غصہ کرنے والا تھا۔
اگر کوئی بات اس کے مزاج کے خلاف ہو جاتی تو فوراً ناراض، فوراً سخت جواب۔

لوگ اسے پسند کرتے تھے، مگر اس کے غصّے سے ڈرتے بھی تھے۔

گاؤں کے کنارے ایک پرانا، ٹوٹا ہوا مَدرسہ تھا۔
وہاں ایک بہت بزرگ، خاموش مزاج عالم رہتے تھے جنہیں سب “بابا حکمت’’ کہتے تھے۔

ایک دن زید سخت غصے میں بابا حکمت کے پاس جا پہنچا۔

وہ چلّایا:

“بابا جی! لوگ میری عزت نہیں کرتے!
کوئی میری بات نہیں سنتا!
سب میرے خلاف ہیں!”

بابا حکمت نے مسکراتے ہوئے صرف اتنا کہا:

“بیٹا، اگر تین دروازے کھول لو…
دنیا خود بخود تمہارے لیے کھل جائے گی۔”

زید حیران:

“کون سے دروازے؟”

بابا نے ایک چھوٹی سی لکڑی کی تختی اٹھائی۔
اس پر تین الفاظ لکھے تھے:

سلام
صبر
مسکراہٹ

بابا نے کہا:

“بیٹا… جہاں غصہ آئے…
پہلے سلام کر دینا۔
پھر صبر کر لینا۔
اور آخر میں مسکرا دینا۔

جو شخص یہ تین دروازے کھول لیتا ہے…
دنیا بھی اس کا دل کھول دیتی ہے۔”

زید نے سوچا یہ آسان ہوگا… مگر اسے نہیں پتا تھا کہ یہ سب سے مشکل آزمائش ہے۔

---

🌙 پہلی آزمائش

اگلے دن چھوٹا بھائی غلطی سے زید کی کتاب گرادیتا ہے۔

زید کا خون کھولنے لگتا ہے، چہرہ سخت، ہاتھ مٹھیاں…

مگر بابا کی آواز یاد آتی ہے:

“پہلے سلام…”

زید رک کر کہتا ہے:

“السلام علیکم، بھائی… احتیاط کرو۔”

اس کا بھائی حیران رہ گیا۔

---

🌙 دوسری آزمائش

بازار میں ایک آدمی اسے غلطی سے دھکا دے دیتا ہے۔

زید کا دل چاہتا ہے اسی وقت لڑ پڑے…
مگر دوسرے دروازے کو یاد کرتا ہے:

صبر…

وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

آدمی پلٹ کر کہتا ہے:

“معاف کرنا بھائی… میں جلدی میں تھا!”

زید کو اندر سے سکون محسوس ہوتا ہے۔

---

🌙 تیسری آزمائش

گھر میں سب کھانا کھا چکے تھے اور زید کے لیے کچھ کم بچا تھا۔
وہ غصے سے بھرنے ہی والا تھا…

لیکن پھر تیسرا دروازہ کھولتا ہے:

مسکراہٹ…

اور کہتا ہے:

“کوئی بات نہیں امی… اتنا کافی ہے۔”

امی کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

---

🌙 دن گزرتے گئے…

زید وہی پہاڑی لڑکا، مگر اب اس کے چہرے پر نور تھا۔
لوگ اس کے پاس بیٹھنے لگے، اس کی عزت بڑھ گئی۔

وہ بابا حکمت کے پاس گیا اور کہا:

“بابا جی…
یہ تین الفاظ نے میری زندگی بدل دی ہے!”

بابا نے مسکرا کر کہا:

“بیٹا… یہ تین دروازے اصل میں دل کے دروازے ہیں۔
جو یہ کھول لے…
اس کے لیے اللہ کے راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔”

---

🌙 سبق:

غصّہ طاقت نہیں…
غصّے پر قابو اصل طاقت ہے۔

سلام دل کھولتا ہے۔
صبر روح کھولتا ہے۔
اور مسکراہٹ قسمت کے دروازے کھول دیتی ہے۔

ایک چھوٹے سے گاؤں میں حمزہ نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کے دل میں عجیب قسم کا خوف تھا—اندھیرے کا خوف۔جیسے ہی رات ہوتی وہ...
29/11/2025

ایک چھوٹے سے گاؤں میں حمزہ نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کے دل میں عجیب قسم کا خوف تھا—
اندھیرے کا خوف۔

جیسے ہی رات ہوتی وہ دروازے بند کر دیتا، چراغ کے پاس بیٹھ جاتا اور باہر قدم تک نہ رکھتا۔

ایک رات گاؤں میں بجلی بند ہوگئی۔ آسمان پر بادل تھے، بارش تھی، اور ہر طرف گھپ اندھیرا۔

حمزہ کے دل میں خوف نے جیسے پنجے گاڑ دیے۔

وہ اپنے کمرے میں دبک کر بیٹھ گیا۔

اسی دوران دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
اس کا دل زور سے دھڑکا۔

دستک پھر ہوئی… اور پھر تیسری بار۔

حمزہ نے لرزتی آواز میں پوچھا:

“ک… کون…؟”

باہر سے آواز آئی:

“بیٹا… میں مسجد کا مؤذن ہوں… میرا گھر راستے میں رہ گیا تھا… بارش بہت ہے… اگر اجازت دو تو تھوڑی دیر کے لیے پناہ چاہتا ہوں…”

حمزہ نے فوراً دروازہ کھول دیا۔

اندھیرے میں مؤذن کا چہرہ بارش سے بھرا ہوا تھا، مگر مسکراہٹ بہت روشن تھی۔

وہ کمرے میں آئے اور کہا:

“بیٹا، اندھیرا برا نہیں ہوتا…
برا تو وہ خوف ہوتا ہے جو ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنے نہیں دیتا۔”

حمزہ خاموشی سے مؤذن کو دیکھتا رہا۔

مؤذن نے جیب سے ایک چھوٹا سا پرانا تیل کا چراغ نکالا اور جلایا۔

پورا کمرہ روشن ہوگیا۔

پھر وہ بولے:

“دیکھو حمزہ…
چراغ ہمیشہ اندھیرے میں ہی کام آتا ہے۔
اسی طرح ایمان بھی مصیبت کے وقت روشنی دیتا ہے۔
جو اللہ سے جڑے رہتے ہیں انہیں کبھی اندھیرے تنہا نہیں چھوڑتے۔”

حمزہ کے دل کی سختی پگھلنے لگی۔

وہ پہلی بار سمجھا کہ اندھیرے سے نہیں، اللہ کو چھوڑ دینے سے ڈرنا چاہیے۔

بارش رک گئی۔ مؤذن اٹھنے لگے تو حمزہ نے کہا:

“چچا… یہ چراغ مجھے دے جائیں… میں بھی اب اندھیرے سے نہیں ڈروں گا۔”

مؤذن نے چراغ اس کے ہاتھ میں رکھ کر کہا:

“بیٹا، یہ چراغ صرف روشنی نہیں دیتا…
یہ یاد دلاتا ہے کہ اللہ ہمیشہ ساتھ ہے۔”

اس دن کے بعد حمزہ نے کبھی اندھیرے سے خوف نہیں کیا—
کیونکہ اس کے دل میں ایمان کا چراغ جل چکا تھا۔

پرانی بستیاں، تنگ گلیاں، اور پتھروں سے بنی چھتوں والا ایک چھوٹا سا شہر تھا۔اسی شہر میں ایک درزی حارث رہتا تھا—محنتی، مگر...
29/11/2025

پرانی بستیاں، تنگ گلیاں، اور پتھروں سے بنی چھتوں والا ایک چھوٹا سا شہر تھا۔
اسی شہر میں ایک درزی حارث رہتا تھا—محنتی، مگر بہت غریب۔

اس کے گھر میں ایک ہی دکھ تھا:
اس کی بیٹی آمنہ دو سال سے بول نہیں سکتی تھی۔

حارث ہر دَرازی کی کمائی بچاتا، حکیموں کے پاس جاتا، دوائیں لکھواتا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوتا۔
بیٹی روز اس کی انگلی پکڑ کر مسکراتی تھی… مگر کبھی “ابو’’ نہیں کہہ پاتی تھی۔

ایک رات حارث بہت غمگین بیٹھا تھا۔

اُسی وقت اس کے دروازے پر ایک بہت بوڑھا، نورانی مسافر آیا۔

مسافر نے کہا:

“بیٹا… مجھے خدا کے بندوں میں ایک نشانی دیکھی ہے…
جو لوگ خاموش جگہوں پر خاموش دعائیں کرتے ہیں، اللہ ان کے دل کی آواز سنتا ہے۔”

حارث نے آہ بھری:

“میں نے تو سب کچھ آزما لیا… خاموش دعا بھی کر لی…”

مسافر نے مسکرا کر کہا:

“نہیں بیٹا… خاموش دعا زبان سے نہیں، دل کے اندر کے ٹوٹنے سے نکلتی ہے۔
کبھی دل کا ٹوٹنا بھی اللہ تک پہنچنے کا دروازہ ہوتا ہے۔”

پھر وہ اپنی پونجی کی تھیلی سے ایک چھوٹا سا خالی لکڑی کا ڈبّا نکال کر حارث کو دے گیا۔

اور کہا:

“اس ڈبّے میں کچھ نہیں…
مگر یہ تمہیں شیخ عبدالحق کی خانقاہ تک لے جائے گا۔
وہاں تمہیں جواب مل جائے گا۔”

حارث حیران تھا مگر چل پڑا۔
راستہ لمبا تھا، پہاڑوں کے پیچھے سے سورج ڈوب رہا تھا۔
وہ خانقاہ پہنچا تو دیکھا شیخ عبدالحق نماز کے بعد دعا میں مصروف تھے۔

حارث نے اپنا مسئلہ بتایا۔

شیخ مسکرائے اور کہا:

“صرف ایک سوال کا جواب دو…
تم نے اللہ سے کیا مانگا؟”

حارث بولا:

“میں نے مانگا کہ وہ میری بیٹی کو بولنے کی طاقت دے دے۔”

شیخ آہستہ سے بولے:

“اور تم نے کبھی یہ مانگا… کہ اللہ تمہارے دل کو بھی سننے کی طاقت دے؟”

حارث خاموش ہو گیا۔

شیخ نے کہا:

“کبھی کبھی مسئلہ زبان کا نہیں ہوتا…
دل کے دروازے بند ہوتے ہیں۔
جب دل کھل جاتا ہے… تو اللہ عجیب طریقے سے کرم کرتا ہے۔”

پھر شیخ نے وہ خالی ڈبّا لیا، اپنے ہاتھوں سے اوپر اٹھایا، اس پر دم کیا، اور واپس حارث کو دے دیا۔

کہا:

“یہ اب خالی نہیں رہا…
اسے گھر لے جاؤ… مگر کھولنا مت۔
صرف بیٹی کے سرہانے رکھ دینا۔
باقی اللہ پر چھوڑ دو۔”

حارث نے ایسا ہی کیا۔

اگلی صبح—
وہ حیران رہ گیا۔

آمنہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی…

اور پہلی بار بولی:

"ابّو!"

حارث کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے شکر میں سجدہ کر دیا۔

ڈبّا کھولا تو واقعی وہ خالی تھا…

لیکن حارث اب سمجھ چکا تھا:

معجزہ ڈبّے میں نہیں تھا…
اللہ پر چھوڑ دینے میں تھا۔

---

🌙 سبق:
جب انسان کوشش چھوڑ دیتا ہے…
تو اللہ کرم شروع کر دیتا ہے۔
خاموش دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

اگر آپ کی آنکھیں ٹھیک ہیں تو اس میں F کتنی بار ہے
28/11/2025

اگر آپ کی آنکھیں ٹھیک ہیں تو اس میں
F کتنی بار ہے

28/11/2025

سبحان اللہ الحمدللہ اللّٰہ اکبر

28/11/2025

آج جمعہ کا مبارک دن ایک بار درود شریف پڑھ لیں

27/11/2025

Asalam o alaikum all viewers

ایک گاؤں میں گاما چوزہ رہتا تھا۔ گاما پورے گاؤں میں صرف ایک وجہ سے مشہور تھا:اسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے اسمارٹ چوز...
27/11/2025

ایک گاؤں میں گاما چوزہ رہتا تھا۔ گاما پورے گاؤں میں صرف ایک وجہ سے مشہور تھا:
اسے لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے اسمارٹ چوزہ ہے۔

ایک دن گاما نے مالک کا موبائل فون دیکھ لیا۔
گاما نے سوچا:
"اگر انسان موبائل استعمال کر سکتا ہے… تو میں کیوں نہیں؟"

وہ فون کے قریب گیا… چونچ سے اسکرین پر ٹک ٹک کرنے لگا۔
فون لاک ہو گیا۔
اس نے دوبارہ ٹک ٹک کی، فون مزید لاک ہو گیا۔
بالآخر فون نے خودکار پیغام دے دیا:

"Too many attempts! Try again in 5 minutes."

مالک آیا اور گاما کو دیکھ کر ہنس پڑا:
“اوئے گامے! تیری شکل تو ایسی ہے جیسے تو واٹس ایپ اسٹیٹس اپلوڈ کرنے والا ہے!”

گاما نے غصے سے سینہ پھلایا اور موبائل کے اوپر بیٹھ گیا جیسے کہہ رہا ہو:
"اب دیکھتا ہوں یہ فون میری اجازت کے بغیر کون استعمال کرتا ہے!"

اسی دوران کتے نے موبائل چرانے کی کوشش کی۔
گاما نے ایک زبردست "کک" ماری…
کتے نے بھاگ کر فائنل اسٹیٹمنٹ دیا:

"یار یہ چوزہ ہے یا سیکیورٹی گارڈ؟"

آخر میں گاما فاتحانہ انداز میں ایسے چل رہا تھا جیسے اس نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔

گاؤں والے کہتے ہیں:
"گاما چوزہ، وہ واحد چوزہ ہے جس نے موبائل فون کے خلاف سیکیورٹی کا ریکارڈ بنا دیا۔" 😂

Address

Dubai

Telephone

+923176688161

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor Muhammad Khosa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Featured

Share