21/04/2024
Han wai police aaalyo.
سرگودھا لیڈیز پولیس کی طرف سے آئی جی پنجاب اور مریم نواز کے نام کھلا خط
جناب عالی ! اسلام علیکم
گذارش ہے کہ سرگودھا میں اس وقت لیڈیز پولیس کے نمائندہ کے طور پر ایک اہم اور گھناؤنے وقوعہ کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہوں گی۔ عام عوام آج کل پولیس لائن سرگودھا کو ایلیٹ کلاس چکلہ سمجھتی ہے کیونکہ وہاں لیڈی پولیس کے لئے چکلہ چلانے اور ڈیلنگ کرنے والی لیڈی محرر ربیعہ امانت تعنیات ہے۔ دوسری طرف بدشکل آر آئی آزر ندیم جو قبل ازیں دو دفعہ بدترین کرپشن کے کیسز کی وجہ سے ڈس مس رہا ہے۔ آخر ڈی پی او سرگودھا کو کیا مجبوری ہے جو آذر ندیم جیسا کرپٹ شرابی اور ذانی انسان عرصہ دراز سے ڈی پی او کی آنکھ کا تارا بنا ہوا ہے۔ اور وہ ایس ایچ او بھیرہ رہا تب بھی سرگودھا شہر سے ستر کلو میٹر دور بیٹھ کر پولیس لائن کا آر آئی رہا۔ اب انچارج سیکیورٹی لگا دیا تب بھی آر آئی ہے۔ کیا سرگودھا ضلع میں کوئی اور انسپکٹر نہیں ہے۔ یا افسران بالا کے بستروں تک لڑکیاں سپلائی کرنے کی ڈیوٹی کوئی اور سرانجام نہیں دے سکتا۔ ایک ظلم کے بعد دوسرا ظلم یہ ہے کہ نئو ریکروٹ ہونے والی بچیاں جن کی عمر بمشکل اٹھارہ سے بیس بائس سال ہے۔ غریب نادار گھروں کی بچیاں جو مجبوری میں لیڈی کانسٹیبل کی نوکری کرنے کو تیار ہیں۔ ان سب کو چوبیس گھنٹے لائن کا پابند کر دیا گیا۔ جو رات کو ربیعہ امانت لیڈی محرر کی بات مان کر آر آئی کے بستر کی زینت بن گئی اسے گھر بھی جانے دیا جاتا ہے۔ اسکی ڈیوٹی بھی نہیں لگائی جاتی اور اسکا کھانا بھی سپیشل آجاتا ہے اور جو ہمارے جیسی اس مشکل گھڑی میں ایک مسلمان کی حیثیت سے ان جانوروں کے ساتھ بستر شئیر کرنے سے منع کر دے اسکی صبح شام ڈیوٹی لگا دی جاتی۔ اگر وہ اپنے پیسوں کا کھانا منگوائے تو بھی فوڈ پانڈا والوں کو مین گیٹ پر روک دیا جائے۔ پھر ہفتے بعد وہ گھر جائے تو جان بوجھ کر اسکے گھر والوں کو کال کر کے کنفرم کیا جائے کہ آپ کی بیٹی تو کافی دیر سے گھر گئی ہوئی ہے تاکہ گھر والے بھی اسی ہر شک کریں۔ اور جو انکے کالے کرتوتوں میں شامل ہو جائے اسکے لئے کوئی قانون نہیں۔ بس رات گیارہ بجے کے بعد لیڈی محرر کے ساتھ آر آئی آفس جانا ہوتا۔ جہاں ایک گھنٹہ آر آئی کے ساتھ رہنا اور لیڈی محرر باہر دروازےپر پہرہ دے گی۔ آرپی او صاحب آئی جی صاحب آپ کی بھی بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں اس درندے نما انسان آزر ندیم کی بھی تین بیٹیاں ہیں۔ خدارا اس ڈیپارٹمنٹ کو اس درجہ زوال میں جانے سے بچا لیں۔ اس سال بھرتی وانی والی لیڈیز میں سے کس نے استعفی دیا اور کیوں استعفی دیا۔ کاش آپ لوگ اس معاملے کی انکوائری کروالیں تاکہ حوا کی کتنی بیٹیاں ہی اپنے ضمیر کو مار اس درندے کی ہوس کا نشانہ بن چکی ہیں۔ سرگودھا کی عام عوام بھی اس بات کی گواہ بن چکی ہے۔ آپ آئی جی آفس لاہور انکوائری بلائیں۔ اور کسی بھی لیڈی کا نام ظاہر نہ کریں۔ یہاں سے اپنی مرضی سے لیڈیز کو بلائیں۔ انکی عزتیں بھی محفوظ کریں۔ صرف اپنا نام نہ آنے کے ڈر سے یہ بچیاں چپ ہیں۔ ایک دو نے ڈی پی او کو پیش ہونا چاہا اسے پہلے سے زیادہ بدنام کر دیا گیا۔ ڈی پی او صاب نے بھی اانکی بےعزتی کر کے آفس سے نکال دیا۔ میری آئی جی پنجاب سے اپیل ہے۔ میری مریم نواز سے اپیل ہے۔ وہ بھی ایک عورت ہے۔ ایک بیٹی کی ماں ہے۔ ایک بیٹی ہے۔ خدارا سرگودھا کی معصوم بچیوں کو اس درندے سے بچایا جائے۔استعفی تو دے دیا لیکن شاید افسران بالا خودکشی کے منتظر ہیں۔ والسلام