01/10/2024
🌹سورۃ الهمزة🌹
آیت نمبر 3 سے 7
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
یَحۡسَبُ اَنَّ مَالَہٗۤ اَخۡلَدَہٗ ۚ﴿۳﴾۳۔ جو سمجھتا ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ کی زندگی دے گا۔
تفسیر آیات
اس کا یہ گمان کس قدر اشتباہ ہے کہ مال و دولت اسے ہمیشہ کی زندگی دیتا ہے۔ یعنی عملاً اسے ایسے نظر آتا ہے جیسے اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ نہ موت نے آنا ہے، نہ فنا ہونا ہے۔ اسے اس بات کا ہوش تک نہیں ہے کہ مرض، حادثہ اور موت آنے کی صورت میں اس کا یہ مال کسی کام نہ آئے گا۔
کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الۡحُطَمَۃِ ۫﴿ۖ۴﴾۴۔ ہرگز نہیں! وہ چکنا چور کر دینے والی آگ میں ضرور پھینک دیا جائے گا۔
وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحُطَمَۃُ ؕ﴿۵﴾۵۔ اور آپ کو کس چیز نے بتایا وہ چکنا چور کر دینے والی آگ کیا ہے؟
نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ ۙ﴿۶﴾۶۔ وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے،
الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾۷۔ جو دلوں تک پہنچ جائے گی۔
تفسیر آیات
۱۔ کَلَّا: ہرگز نہیں کہ اس کا مال اسے ابدی زندگی دے گا بلکہ یہ مر جائے گا پھر ایک ایسی آتش میں پھینک دیا جائے گا جو اسے چکنا چور کر دے گی۔
۲۔ وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ: اس آتش کی ہولناک صورت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یہ مقولہ استعمال کیا گیا ہے۔
۳۔ نَارُ اللّٰہِ: یہ الۡحُطَمَۃُ اللہ تعالیٰ بھڑکائی ہوئی آتش ہے۔ اس کے بھڑکانے کی نسبت براہ راست اللہ کی طرف دینے سے اس آتش کی ہولناک صورت سامنے آتی ہے۔
۴۔ الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ: اس آتش کی حرارت انسان کے جسم کی کھالوں تک پر محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ حرارت انسان کے وجود کی گہرائی تک چلی جائے گی۔ یعنی دل تک کو جلا ڈالے گی۔
📚تفسیر📖 الکوثر📔
🌺مفسر قرآن 🪷علامہ الشیخ محسن علی النجفی مرحوم🌸
🌹طالب دعا🤲🏻سید ریاض شیرازی نجف اشرف عراق🌹
📲+9647725993415📱
https://chat.whatsapp.com/CUPn24gxSynJT08DAmjgWy