Shahzoor and car lover's

Shahzoor and car lover's shahzoor and car use sell and buy

اور فطرت کی یہی منشا ہے۔زیر نظر دس تصاویر ایرانی فلم ساز یاشلی علیزادہ کی مشہور زمانہ شارٹ فلم 'پدرم همه فصلهاش یکی بود/...
09/06/2026

اور فطرت کی یہی منشا ہے۔

زیر نظر دس تصاویر ایرانی فلم ساز یاشلی علیزادہ کی مشہور زمانہ شارٹ فلم 'پدرم همه فصلهاش یکی بود/ All The Seasons Were The Same To My Father' کی ہیں جو صرف ایک منٹ اور بالیس سیکنڈ پر مشتمل ہے۔ ان دس تصاویر میں ایک طویل اور گہری کہانی کو سمیٹ لیا گیا ہے۔ بس آپ کو پہلی تصویر سے شروع کر کے ایک ایک تصویر کو دیکھنا ہے۔ بلخصوص گملے، جوتوں کی ساخت، ترتیب اور حالت کو غور سے دیکھنا ہے۔ خود بخود ذہن میں ایک کہانی اپنے آپ چلنے لگے گی۔

نوٹ! ہم تو ایسے ہی ایرانی فلموں کے پرستار تو نہیں ہیں۔ پس دیکھیں اور سر دھنیے۔

شارجہ کی اُس عمارت کی پندرہویں منزل سے جب ایک ماں نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو نیچے پھینکا… تو لوگوں نے صرف دو جسم گرتے نہی...
25/05/2026

شارجہ کی اُس عمارت کی پندرہویں منزل سے جب ایک ماں نے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو نیچے پھینکا… تو لوگوں نے صرف دو جسم گرتے نہیں دیکھے تھے، انہوں نے ایک خاموش ٹوٹتی ہوئی زندگی کو آخری بار بکھرتے دیکھا تھا۔ اور سب سے زیادہ دردناک بات یہ تھی کہ وہ ننھی بچی ہر صبح بالکونی سے لوگوں کو ہاتھ ہلا کر “بائے” کہا کرتی تھی۔ اُس دن بھی شاید اُسے معلوم نہیں تھا کہ زندگی اُس سے اتنی جلدی الوداع لینے والی ہے۔ 🕯️

شارجہ کے علاقے النہدہ کی وہ عمارت اب بھی وہیں کھڑی ہے۔

وہی لفٹیں۔
وہی سفید دیواریں۔
وہی بالکونیاں۔

مگر کہتے ہیں بعض حادثوں کے بعد عمارتیں بھی خاموش ہو جاتی ہیں۔

اُسی عمارت کی پندرہویں منزل پر کیرالہ سے تعلق رکھنے والا ایک بھارتی خاندان رہتا تھا۔

بارہ سال کی شادی۔

سات برس سے ایک ہی فلیٹ۔

شوہر دبئی ایئرپورٹ سے وابستہ ایک محکمے میں ملازم تھا۔

اور اُن کی پانچ سالہ بیٹی…

جسے پورا فلور جانتا تھا۔

کیونکہ وہ ہر صبح اسکول جاتے ہوئے بالکونی سے ہاتھ ہلا کر سب کو “بائے” کہتی تھی۔

بعض بچے محلے کی پہچان بن جاتے ہیں۔

اور جب وہ اچانک دنیا سے چلے جائیں… تو گلیاں بھی یتیم لگنے لگتی ہیں۔

پڑوسی کہتے ہیں کہ پچھلے کچھ مہینوں سے گھر کے اندر خاموش کشیدگی رہتی تھی۔

کبھی اونچی آوازیں۔
کبھی دروازے زور سے بند ہونے کی آواز۔
کبھی کئی کئی دن مکمل خاموشی۔

اور وہ عورت…

جو کبھی لفٹ میں لوگوں کو مسکرا کر سلام کیا کرتی تھی…

آہستہ آہستہ لوگوں سے نظریں چرانے لگی تھی۔

بعض لوگ ڈپریشن کو صرف “اداسی” سمجھتے ہیں۔

حالانکہ بعض اوقات انسان باہر سے زندہ ہوتا ہے… مگر اندر سے مسلسل ڈوب رہا ہوتا ہے۔

پھر وہ صبح آئی۔

ایک عام سی صبح۔

لوگ کام پر جا رہے تھے۔

بچے اسکول کے لیے نکل رہے تھے۔

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد پوری عمارت چیخوں سے بھر جائے گی۔

پھر اچانک…

ایک خوفناک آواز آئی۔

لوگ بھاگ کر نیچے آئے۔

اور وہاں…

زمین پر ایک ماں اور اُس کی پانچ سالہ بیٹی پڑی تھیں۔

زندگی کبھی کبھی اتنی بے رحم ہو جاتی ہے کہ انسان خبر پڑھتے ہوئے بھی یقین نہیں کر پاتا۔

پولیس آئی۔
ایمبولینس آئی۔
لوگ جمع ہو گئے۔

اور پھر آہستہ آہستہ حقیقت سامنے آنے لگی۔

کہ ماں نے پہلے اپنی بچی کو نیچے پھینکا…

پھر خود کود گئی۔

یہ صرف ایک “خبر” نہیں تھی۔

یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب شاید اب کبھی مکمل نہ مل سکے۔

ایک ماں آخر اُس مقام تک کیسے پہنچتی ہے جہاں اُسے موت زندگی سے زیادہ آسان لگنے لگتی ہے؟

کیا وہ واقعی ظالم تھی؟

یا وہ خود ایک ایسی خاموش بیماری سے ہار گئی تھی جسے دنیا نے وقت پر سنجیدگی سے نہیں لیا؟

لوگ اکثر کہتے ہیں:

“پتا نہیں اُس کے دماغ میں کیا آیا ہوگا…”

مگر سچ یہ ہے…

کوئی انسان ایک دن میں نہیں ٹوٹتا۔

انسان آہستہ آہستہ اندر سے بکھرتا ہے۔

خاموشیوں میں۔
تنہائی میں۔
نظرانداز کیے جانے میں۔
اور اُن جملوں میں جہاں لوگ کہتے ہیں:

“یہ سب تمہارے دماغ کا وہم ہے…”

اس واقعے نے پورے یو اے ای میں مقیم بھارتی کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا۔

کیونکہ پردیس میں رہنے والے لوگ اکثر ایک خوبصورت تصویر نظر آتے ہیں…

اچھی نوکری۔
اچھی عمارت۔
اچھی تنخواہ۔

مگر اُن تصویروں کے پیچھے کتنے لوگ ذہنی دباؤ، تنہائی، ازدواجی مسائل اور خاموش ڈپریشن سے لڑ رہے ہوتے ہیں… یہ کوئی نہیں دیکھ پاتا۔

اور سب سے دردناک بات؟

اُس ننھی بچی کو شاید آخری لمحے تک یہی لگا ہوگا کہ اُس کی ماں اُسے اپنی بانہوں میں لیے ہوئے ہے۔

بچے اپنی ماؤں پر اندھا یقین کرتے ہیں۔

وہ نہیں جانتے کہ بعض اوقات ماں خود اپنے درد کے نیچے دفن ہو چکی ہوتی ہے۔

یہ افسانہ نہیں۔

یہ ہماری دنیا کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

اس لیے اگر آپ کے آس پاس کوئی شخص خاموش ہو گیا ہے…
لوگوں سے کٹنے لگا ہے…
مسکرانا چھوڑ چکا ہے…
یا بار بار “میں تھک گیا ہوں” کہتا ہے…

تو صرف نصیحت نہ کریں۔

اُس کا حال واقعی پوچھیں۔

کیونکہ بعض اوقات انسان کو دوا سے پہلے “دیکھے جانے” کی ضرورت ہوتی ہے۔

کسی بھائی نے   Shahzoor Hyundai  یاکسی اور گاڑی کی خرید وفروخت کیلئے پوسٹ لگوانی ہوتو اس نمبر پر رابطہ کرے03339934150 wh...
18/05/2026

کسی بھائی نے Shahzoor Hyundai یاکسی اور گاڑی کی خرید وفروخت کیلئے پوسٹ لگوانی ہوتو اس نمبر پر رابطہ کرے03339934150 whataap

سرگودھا دھریمہ 03005692092 بلکل نیو ہےDemand 110000
13/05/2026

سرگودھا دھریمہ
03005692092
بلکل نیو ہے
Demand 110000

تمام اوورسیز پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک! آپ لوگ چاہے ہم سے دور ہوں، لیکن ہمارے دلوں میں ہ...
30/03/2025

تمام اوورسیز پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے عید مبارک! آپ لوگ چاہے ہم سے دور ہوں، لیکن ہمارے دلوں میں ہمیشہ موجود ہیں۔ اللہ پاک آپ کی محنت، قربانیوں اور جدوجہد کو قبول فرمائے اور آپ کے گھروں میں خوشیاں، برکتیں اور سکون عطا کرے۔ دعائیں اور نیک تمنائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں! ✨❤️

بچوں کے چار بوسے اور پانچ لمس کی اہمیت :ایک عالم کا کہنا ہے:" والدین کو روزانہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو کم از کم  4 مرتب...
29/03/2025

بچوں کے چار بوسے اور پانچ لمس کی اہمیت :

ایک عالم کا کہنا ہے:
" والدین کو روزانہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو کم از کم 4 مرتبہ چوم کر اور 5 مرتبہ ہاتھ سے چھو کر پیار کرنا چاہیے ۔
اس کے لیے پیدائش سے موت تک کوئی خاص عمر نہیں ہوتی۔
جب تک وہ آپ کا بیٹا ہے، اور جب تک وہ آپ کی بیٹی ہے، انہیں چومنے اور روزانہ اپنے ہاتھوں سے چھونے کے ذریعہ سے محبت و اپناٸیت کا احساس دلاٸیے ۔

چار بوسے : ہر بوسے کا ایک سائنسی مقام اور مرتبہ ہے :

پہلا بوسہ فخر کا بوسہ
اور اس کی جگہ بالوں پر سر کے درمیان میں ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ان پر فخر ہے، کیونکہ آپ کے بچے نیک کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں

دوسرا بوسہ قناعت کا بوسہ
اور اس کا مقام ماتھے پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان سے راضی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان کی پیشانی پر بوسہ دینے کا التزام کرتے تھے۔

تیسرا بوسہ آرزو کا بوسہ
اور اس کی جگہ گالوں پر ہے۔ اس کے معنی ان کے لیے اپنی آرزو کا اظہار کرنا ہے اور یہ محبت کے درجات میں سے ہے۔

چوتھا بوسہ محبت کا بوسہ
اور اس کی جگہ ہاتھوں پر ہے۔ اس کا مفہوم ان سے اپنی محبت و الفت کا اظہار ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً فاطمہ کا ہاتھ پکڑ کر بوسہ دیتے تھے۔

پانچ_لمس :

پہلا لمس اپنے ہاتھ کو ان کے سر کے پیچھے شفقت سے پھیرنا اس سے لڑکا اور لڑکی محسوس کریں گے کہ آپ ان پر مہربان ہیں۔

دوسرا لمس بالوں پر اوپر سے ان کے سر پر ہاتھ رکھنا،
اور اسے فخر کا چھونا کہتے ہیں۔

تیسرا لمس اپنا ہاتھ ان کے ماتھے پر رکھیں، اس سے بچوں کو مثبت توانائی ملتی ہے۔

چوتھا لمس اپنے دونوں ہاتھ ان کے گالوں پر رکھنا، اور یہ پیار اور نرمی کا لمس ہے۔

پانچواں لمس ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں ڈالیں اور یہ خاص لمس بچوں کو ہر قسم کی پریشانی اور تناؤ سے نجات دلاتا ہے۔

پھر آخر میں ضرورت کا لمس آتا ہے یا جب ضرورت پڑتی ہے تو بچوں کو ضرورت پڑتی ہے
اگر آپ کا بیٹا یا بیٹی مشتعل ہو رہے ہیں یا نافرمانی کی طرف جارہے ، غصے یا کسی اور منفی احساس میں مبتلا ہونے کو ہیں تو اس وقت آپ اپنا ہاتھ ان کے سینے پر پھیریں
اس لمس سے انہیں سکون محسوس ہو گا اور ان شاء اللہ شیطان ان سے دور ہو جائے گا..!

رضائے الہی اور قضائے الہی میں فرق بعض لوگ میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ کہنا ی...
27/03/2025

رضائے الہی اور قضائے الہی میں فرق
بعض لوگ میت کا اعلان کرتے وقت کہتے ہیں فلاں شخص رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ کہنا یہ چاہیے کہ فلاں شخص قضائے الہی سے فوت ہوگیا ہے۔ اس لیے کہ قضا اور رضا میں بڑا فرق ہے ۔
قضا کا معنی: تقدیر الہی . نوشتہ تقدیر .فیصلہ ا.تفاق یا حادثہ( فیروز اللغات فارسی)
جب کہ رضا کا معنی :مرضی خوشنودی اور خوشی. لہذا جب اللہ تعالی کسی کے بارے فیصلہ نافذ کرتا ہے .
اس کو قضا کہتے ہیں
اور جب کسی کسی کام کی وجہ سے راضی ہوتا ہے تب اس وقت اس بندے پر رضا الہی کا ظہور ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے۔
رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ
اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔(مجادلہ 22)
ایک اور مقام پر فرمایا۔
لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ۔
بیشک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے(الفتح 18)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ
اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا (مائدہ3)
مزید فرمایا۔
وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰىہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ۔
اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا۔(توبہ 59)
یہ رہا قرآن مجید میں رضا کا استعمال جہاں تک قضا کا تعلق ہے تو متعدد آیات میں رب کریم میں لفظ قضا کو استعمال فرمایا ہے ان کو دیکھ کر پتہ چلتاہے کہ لفظ قضا کا معنی و مفہوم کیا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا۔
وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ۔
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو (بنی اسرائیل 23)
او رفرمایا
وَ اللّٰہُ یَقۡضِیۡ بِالۡحَقِّ۔
اور اللہ سچا فیصلہ فرماتا ہے۔(مومن 20)
مزید فرمایا۔
فَلَمَّا قَضَیۡنَا عَلَیۡہِ الۡمَوۡتَ۔
پھر جب ہم نے اس پر موت کا حکم بھیجا(سبا 14)
ان تمام آیات بینات سے سے رضا اور قضا کامعنی کھل کر سامنے آ گیا۔ رضا سے اللہ تعالی کی مرضی ۔رضا مندی اور خوشنودی مراد ہے جب کہ قضا سے تقدیر فیصلہ اور موت مراد ہے ۔
قرآن مجید کی متعدد آیات میں موت کو لفظ قضا سے یاد فرمایا گیا لیکن کچھ لوگ موت کو رضائے الہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور بانگ دہل کہتے ہیں کہ فلاں رضائے الہی سے فوت ہوگیا حالانکہ موت رضائےالہی سے نہیں قضائے الہٰی سے واقع ہوتی ہے ۔ رضا اور قضامیں بڑا فرق ہے......

ابن سینانے ایک تجربہ کیا۔اور دو میمنوں کو پنجرے میں رکھا۔میمنے ایک ہی عمر ، وزن ، ایک ہی نسل کے تھے اور دونوں کوایک ہی ق...
22/03/2025

ابن سینانے ایک تجربہ کیا۔اور دو میمنوں کو پنجرے میں رکھا۔
میمنے ایک ہی عمر ، وزن ، ایک ہی نسل کے تھے اور دونوں کوایک ہی قسم کا چارہ کھلایا گیا۔تمام حالات برابر رکھے۔
ابن سینانے میمنوں کے پنجروں کی ایک طرف ایک اور پنجرارکھا اور اس پنجرے میں ایک بھیڑیا رکھا اور میمنوں میں سے صرف ایک میمنااُس بھیڑیے کو دیکھ سکتا تھا۔
کئی مہینوں بعد ، میمنا جو بھیڑیا کو دیکھتا ہے مر جاتا ہے کیونکہ وہ بے چین ، خوفزدہ اور کمزور ہوتا ہے۔ اگرچہ بھیڑئے نے میمنے کو کچھ نہیں کیا ، لیکن میمنہ اس خوف اور دباؤ کی وجہ سے مر گیا جو اس نے محسوس کیا۔
جبکہ دوسرا میمنا ، جو بھیڑیا و نہیں دیکھ سکتا تھا ، اچھی طرح سے کھاتا تھا اور اُسکا وزن بھی بڑھا گیا کیونکہ وہ کافی پرامن رہا۔
اس تجربے میں ابن سینا نے صحت اور جسم پر ذہنی اثرات کے مثبت اور منفی اثرات کا مشاہدہ کیا۔ غیر ضروری خوف ، فکر ، اضطراب اور تناؤ انسانی جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر آپ کو زندگی کی مشکلات کاسامنا کرکے آگے بڑھنا ہے تو اپنی راہ میں آنے والے ہر خوف کو نظر انداز کر نا سیکھیں پھر ہی آپ کامیابی کی سیڑھیوں پہ چڑھ سکیں گے۔

XLI Car for sale GLI converterModel:2017Demand:36.50 negotiableLocation:chakwalCondition excellentContact :03312327982
03/03/2025

XLI Car for sale
GLI converter
Model:2017
Demand:36.50 negotiable
Location:chakwal
Condition excellent
Contact :03312327982

03/03/2025

XLI Car for sale
GLI converter
Model:2017
Demand:36.50 negotiable
Location:chakwal
Condition excellent
Contact :03312327982

Address

Punjab

Telephone

+923339934150

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahzoor and car lover's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shahzoor and car lover's:

Shortcuts

Share