01/03/2025
ابوبکر اور عمر کی نیکی
ایک گاؤں میں دو بھائی، ابوبکر اور عمر، رہتے تھے۔ دونوں محنتی اور نیک دل تھے۔ انہوں نے گاؤں میں ایک پنکچر کی دکان کھولی تھی، جہاں وہ محنت سے کام کرتے اور اپنی روزی کماتے۔ وہ نہ صرف ایمانداری سے کام کرتے بلکہ لوگوں کی مدد کرنے کا جذبہ بھی رکھتے تھے۔
ایک دن، ایک غریب مزدور اپنی پرانی سائیکل کے ساتھ ان کی دکان پر آیا۔ اس کی سائیکل کے دونوں ٹائر پنکچر تھے، مگر اس کے پاس مرمت کے لیے پیسے نہیں تھے۔ وہ پریشان کھڑا تھا کہ ابوبکر نے مسکرا کر کہا، "چچا! آپ فکر نہ کریں، ہم آپ کی سائیکل مفت میں ٹھیک کر دیتے ہیں۔"
مزدور کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ اس نے شکریہ ادا کیا اور کہا، "بیٹا! تمہاری نیکی کا بدلہ اللہ تمہیں دے گا۔"
اسی دن رات کو، ابوبکر اور عمر نے فیصلہ کیا کہ وہ ہر ممکن حد تک ضرورت مندوں کی مدد کریں گے۔ وہ روزانہ کسی نہ کسی غریب کی سائیکل یا موٹر سائیکل مفت میں ٹھیک کر دیتے۔ کبھی کسی طالب علم کی سائیکل درست کرتے، تو کبھی کسی مزدور کی موٹر سائیکل کے پنکچر لگاتے، تاکہ وہ وقت پر کام پر جا سکے۔
رفتہ رفتہ ان کی نیکیوں کی خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ سب لوگ ان کی دکان کو پسند کرنے لگے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابوبکر اور عمر صرف کاروبار نہیں، بلکہ دل سے خدمت بھی کرتے ہیں۔ اللہ نے ان کے رزق میں بھی برکت ڈال دی۔ جہاں پہلے دن میں مشکل سے چند گاہک آتے تھے، اب وہاں رش لگا رہتا تھا۔
ایک دن، ان کے والد نے حیرت سے پوچھا، "بیٹا! یہ برکت کہاں سے آ رہی ہے؟ تمہاری دکان اتنی مشہور کیسے ہو گئی؟"
ابوبکر اور عمر نے مسکرا کر سب کچھ بتا دیا۔ والد کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے اور انہوں نے کہا، "بیٹا، سچ ہے! نیکی کا بدلہ ہمیشہ اچھائی میں ملتا ہے۔ جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔"
اس دن کے بعد، ابوبکر اور عمر نے نیکی کو اپنا اصول بنا لیا، اور ان کی دکان صرف ایک کاروبار نہیں، بلکہ خدمت کی پہچان بن گئی۔
سبق: نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی، بلکہ زندگی میں سکون اور برکت لاتی ہے!