27/10/2025
دُکھ یہ ہے، میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے، جو بچھڑنے کے نہیں تھے
اے بادِ سِتم خیز! تیری خیر کہ تُو نے وہ پنچھی اُڑائے،
جو اُڑنے کے نہیں تھے!
تم سے کوئی شِکوہ نہیں چارہ گری کا —
چھوڑو! یہ میرے زخم ہی بھرنے کے نہیں تھے
اے زیست! اِدھر دیکھ کہ ہم نے تیری خاطر
وہ دن بھی گزارے، جو گزرنے کے نہیں تھے!
کل رات تیری یاد نے طوفان وہ اُٹھایا —
آنسو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے
اے گردشِ ایّام! ہمیں رنج بہت ہے،
کچھ خواب تھے ایسے، جو بِکھرنے کے نہیں تھے!