Mandoori

Mandoori mandoori is a big village of kohat city near lachi on indus highway

25/10/2020
11/10/2020

*درود ان پر سلام ان پر*

یہ ایک سچا واقعہ ہے
ٹیلی ویژن پر ایک پروگرام عالم آن لائن آیا کرتا تھا
اس پروگرام میں ہم نے یہ واقعہ ان صاحب کی زبانی سنا جن کے ساتھ یہ پیش آیا
الفاظ کا ردو بدل ہوسکتا ہے اس کے لیے پیشگی معذرت تو آئیں واقعہ کی طرف
میزبان:-
تو حاجی صاحب ہمارے ناظرین کو بتائیں ہوا کیا تھا ؟
السلام علیکم۔ میرا نام محمد بشیر ہے عمر 62 سال میں گوجرانوالہ گھنٹہ گھر کے پاس سن 1970 سے چاول کی ریڑھی لگایا کرتا تھا ۔۔۔

وقت گزرتا گیا شادی ہوئی ﷲ نے دو بیٹیاں عطا کیں اپنی حثیت کے مطابق ان کی پرورش کی دونوں بچیاں جوان تھیں لیکن میری حالات ایسے نہیں تھے کہ ان کی شادی کر سکتا۔
گھنٹہ گھر کے پاس ہی ایک مغل صاحب کی کپڑے کی دوکان تھی سن 2008 کی بات ہے وہ میرے پاس آئے اور کہا بشیر صاحب مجھے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے آپ کی بیٹیوں کا رشتہ چاہیئے۔
میرے لیے حیرت کی بات تھی مجھ غریب پر یہ کرم کیسے ۔خیر گھر جاکر بیوی سے مشورہ کرکے ہم نے ہاں کردی ۔

سال گزر گیا وہ شادی کا تقاضہ کرنے لگے اور میرے پاس 10000 روپے بھی نہیں تھے کہ میں بچیوں کو رخصت کرسکتا۔
بیوی کہنے لگی آپ ﷲ پر بھروسہ رکھیں شادی کا دن طے کردیں ۔
ہم نے تاریخ طے کردی 25 نومبر 2009۔۔
شادی کو 7 دن رہ گئے تھے میں پریشان اب کیا ہوگا شادی کیسے ہوگی میرے پاس تو کچھ بھی نہیں
مغرب کا وقت تھا انہیں سوچوں میں غرق صحن میں بیٹھا تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی
میں اٹھ کر باہر گیا دروازہ کھولا سامنے ایک باریش نوجوان کھڑا تھا جس کو آج سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا
میں نے پوچھا آپ کون۔؟
نوجوان بولا کیا بشیر صاحب کا گھر یہی ہے جو چاول کی ریڑھی لگاتے ہیں؟
جی میں ہی بشیر ہوں۔میں نے جواب دیا
کیا ہم اندر بیٹھ کر تھوڑی دیر بات کر سکتے ہیں ؟
میں اسے گھر کے صحن میں لے آیا
سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے بولا میں کراچی سے آیا ہوں اور دو دن سے آپ کو تلاش کررہا ہوں
مجھے بتائیں آپ ایسا کیا عمل کرتے ہیں کہ مجھے وہاں
(مدینہ پاک سے حکم ملتا ہے گوجرانولہ جاو ہمارے غلام کی مدد کرو اس کی بیٹیوں کی شادی ہے)
یہ سن کر میری دھاڑ نکل گئی میں دھاڑیں مار مار کر رونے لگا
عرض کی بیٹا میں تو بہت گنہگار ہوں
ہاں پچھلے 45 سال سے بلا ناغہ سرکار ﷺ کی بارگاہ میں درود و سلام پڑھا کرتا ہوں اور تو کچھ نہیں
وہ نوجوان رونے لگا بولا جن پر آپ درود پڑھتے ہیں انہوں نے ہی مجھے بھیجا ہے۔۔۔ اس کے ہاتھ میں بریف کیس تھا
وہ مجھے دیا مجھے گلے سے لگایا بنا اپنا نام پتہ بتائے مجھے مل کر رخصت ہوگیا۔۔
میں نہیں جانتا وہ کون تھا کہاں سے آیا
بعد میں بریف کیس کھول کر دیکھا اس میں تیس 30 لاکھ روپے تھے اور ایک خط کہ آپ بچیوں کی شادی کریں یہ مدد وہاں سے ہے۔

میں نے بچیوں کی شادیاں بھی کیں پھر حج بھی کیا مدینہ حاضری بھی ہوئی اور آج میرا کاروبار بھی بہت اچھا ہے

اللہ تعالیٰ نے خود قرآن مجید میں سورۃ احزاب میں ارشاد فرمایا ہے:

*﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلـٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا ﴿٥٦﴾*...
( سورة الاحزاب)

*''بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی آپؐ پر درود و سلام بھیجو۔*''

*اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ*
*كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ*
*.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ*
*اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ*
*كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ*
*.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ...*.

*اللہ پاک ہم سب کو اپنے نبیﷺ پر کثرت سے درود بھیجنےوالا بنائے (آمین)*

منقول

11/10/2020

ایک عالم اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لئے کھیتوں میں سے گزر رہے تھے۔
چلتے چلتے ایک پگڈنڈی پر ایک بوسیدہ جوتا دکھائی دیا۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ کسی بڑے میاں کا ہے۔ قریب کے کسی کھیت کھلیان میں مزدوری سے فارغ ہو کر اسے پہن کر گھر کی راہ لیں گے۔ شاگرد نے جنابِ شیخ سے کہا؛ حضور! کیسا رہے گا کہ تھوڑی دل لگی کا سامان کرتے ہیــــں۔ جوتا ادھر ادھر کر کے خود بھی چھپ جاتے ہیــــں۔ وہ بزرگوار آن کر جوتا مفقود پائیں گے تو ان کا ردِ عمل دلچسپی کا باعث ہو گا۔
شیخ کامل نے کہا؛ بیٹا اپنے دلوں کی خوشیاں دوسروں کی پریشانیوں سے وابستہ کرنا کسی طور بھی پسندیدہ عمل نہیـں۔ بیٹا تم پر اپنے رب کے احسانات ہیــــں۔ ایسی قبیح حرکت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنے رب کی ایک نعمت سے تم اس وقت ایک اور طریقے سے خوشیاں اور سعادتیں سمیٹ سکتے ہو۔ اپنے لئے بھی اور اس بیچارے مزدور کے لئے بھی۔ ایسا کرو کہ جیب سے کچھ نقد سکے نکالو اور دونوں جوتوں میں رکھ دو۔ پھر ہم چھپ کے دیکھیں گے جو ہو گا۔ بلند بخت شاگرد نے تعمیل کی اور استاد و شاگرد دونوں جھاڑیوں کے پیچھے دبک گئے۔

کام ختم ہوا، بڑے میاں نے آن کر جوتے میں پاؤں رکھا ۔۔۔ تو سکے جو پاؤں سے ٹکرائے تو ایک ہڑبڑاہٹ کے ساتھ جوتا اتارا تو وہ سکے اس میں سے باہر آ گئے۔ ایک عجیب سی سرشاری اور جلدی میں دوسرے جوتے کو پلٹا تو اس میں سے سکے کھنکتے باہر آ گئے۔ اب بڑے میاں آنکھوں کو ملتے ہیــــں، دائیں بائیں نظریں گھماتے ہیــــں۔ یقین ہو جاتا ہے کہ خواب نہیـں، تو آنکھیں تشکر کے آنسوؤں سے بھر جاتی ہیــــں۔ بڑے میاں سجدے میں گر جاتے ہیــــں۔ استاد و شاگرد دونوں سنتے ہیــــں کہ وہ اپنے رب سے کچھ یوں مناجات کر رہے ہیــــــــں۔
میرے مولا! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں، تو میرا کتنا کریم رب ہے۔ تجھے پتہ تھا کہ میری بیوی بیمار ہے، بچے بھی بھوکے ہیــــں، مزدوری بھی مندی جا رہی ہے ۔۔۔ تو نے کیسے میری مدد فرمائی۔ ان پیسوں سے بیمار بیوی کا علاج بھی ہو جائے گا، کچھ دنوں کا راشن بھی آ جائے گا۔ ادھر وہ اسی گریہ و زاری کے ساتھ اپنے رب سے محو مناجات تھے اور دوسری طرف استاد و شاگرد دونوں کے ملے جلے جذبات اور ان کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ کچھ دیر کے بعد شاگرد نے دست بوسی کرتے ہوئے عرض کیا؛ استاد محترم! آپ کا آج کا سبق کبھی نہیـں بھول پاؤں گا۔ آپ نے مجھے مقصدِ زندگی اور اصل خوشیاں سمیٹنے کا ڈھنگ بتا دیا ہے۔ شیخ جی نے موقعِ مناسب جانتے ہوئے بات بڑھائی، بیٹا! صرف پیسے دینا ہی عطا نہیں بلکہ باوجود قدرت کے کسی کو معاف کرنا ﻋﻄﺎﺀ ہے۔ مسلمان بھائی بہن کے لئے غائبانہ دعا ﻋﻄﺎﺀ ہے۔ مسلمان بھائی بہن کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کی حفاظت ﻋﻄﺎﺀ ہے۔
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیر

09/10/2020

کیا آپ قادیانیوں کو پہنچان سکتے ہیں؟

مسلمانوں کے درمیان دھوکے سے چھپ کر رہنے والے احمدی / لاہوری قادیانیوں کو پہچاننے کا آسان طریقہ...

دھیان رھے کہ 1974 کی پاکستانی آئینی ترمیم اور بعد ازاں 1984 کے امتناع قادیانیت قانونی ایکٹ کی شق 298 اے ، 298 بی اور 298 سی کے تحت قادیانی نہ صرف کافر ہیں بلکہ دھوکہ دے کر خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے اگر "شعائر اسلام" کا استعمال کریں گےتو 3 سال قید کی سزا پاکستانی قانون میں موجود ہے -

یہاں کچھ ایسی نشانیاں بیان کی جا رہی ہیں جو مسلمانوں کے بھیس میں چھپ کر رہنے والا قادیانی اکثر و بیشتر اختیار کرتا ہے -

(1)مسلمانوں سےگپ شپ لگانے کے بہانے قادیانی اپنی شناخت کروائے بغیر بات مذھبی امور کی طرف لے جاتا ہے
اور یہ باور کروانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق مندرجہ ذیل عقائد رکھنا کفر،نیز اسلام اور قرآن کےخلاف بهی ہے
کہ اللہ نے ان کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا ہے
اور کافر ان کو صلیب نہی دے سکے
اور وہ قرب قیامت میں واپس آئیں گے
اور دجال کو قتل کریں گے-

اور قادیانی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ان کو صلیب پر چڑھایا گیا لیکن وہ زخمی حالت میں فلسطین سے کشمیر ہجرت کر گئے وھاں 120 سال کی عمر میں ان کو موت آئی.
اور احادیث میں جو مذکور ہے کہ قیامت سے قبل حضرت عیسٰی ابن مریم نے نازل ہونا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اس امت میں سے ہی کسی مثیل عیسٰی نے پیدا ہو کر مسیح ابن مریم اور امام مہدی ہونے کا دعوٰی کرنا ہے اور قرآن میں جہاں حضرت عیسٰی ابن مریم کے متعلق "توٖفی" کا لفظ موجود ھے اس سے مراد ان کی موت ہے، حالانکہ عربی بولنے اور جاننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ توفی کا مطلب کسی چیز کو پورا پورا قبض کرنا یا "پورا پورا لے لینا" ہوتا ہے، اور چو نکہ اللہ نے آپ علیہ السلام کی مکمل توفی کرلی، اس لئے قرآن میں ان کی توفی کا بیان ہے اور احادیث میں ان کے قیامت سے قبل نزول کا بیان اس توفی کی تصدیق کرتا ہے -

(2) علمائے دین سے شدید متنفر کرنے کی کوشش کرنا اور ان کو تمام برائیوں کی جڑ بتاتے ہوئے ملاں یا مولوی کے نام سے پکارتا ھے، فرقہ واریت اور کفر کے فتوؤں پر بات کرنے کے بہانے موضوع کو اقلیتوں کے خلاف ہونے والی کاروائیوں بشمول قادیانی جماعت جس کو یہ جماعت احمدیہ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں ان کی طرف لے جاتا ہے اور یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ کیوں کہ مسلمانوں کے تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں ویسے ہی انہوں نے جماعت احمدیہ کو اپنے آپس کے اختلاف کے تحت کافر قرار دے دیا -
اورعقیدہ ختم نبوت کے معاملے میں تمام امت مسلمہ کا اجماع موجود ہے ہمیشہ سے کہ آپ ﷺ کے بعد پیدا ہونے والا ہر مدعی نبوت اور اس کے پیروکار کافر اور اسلام سے خارج ہیں حتٰی کہ جس کسی نے آپ ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت سے اس کی صداقت کا ثبوت طلب کیا تو وہ خود بھی اسلام سے خارج ہو جائے گا-

(3) قادیانی چاندی کی خاص قسم کی انگوٹھی پہنتے ہیں اکثر لاعلم مسلمانوں کے سامنے یا وہاں جہاں ان کو اس بات کا یقین ہو کہ کوئی ان کو پہچان نہی پائے گا جس پر قرآن کی یہ آیت لکھی ہوتی ہے " أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ " جس کا ترجمہ ہے :کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہی ؟ یہ انگوٹھی مرزا قادیانی کی سنت کے طور پر پہنتے ہیں کیوں کہ مرزا قادیانی بھی ایسی انگوٹھی پہنا کرتا تھا-

(4) قادیانیوں میں ان کے خلیفہ کی تو مکمل داڑھی ہوتی ہے یہ دھوکہ دینے کے لئے کہ وہ شعائر اسلام کی مکمل پابندی کرتا ہے ورنہ قادیانی کیوں کہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اس لئے ان کی کوشش ہوتی ھے کہ ہر اس ظاہری وضع قطع کے شعار اور نقل سے بچا جائے جسے ہمارے علمائے دین یا متقی مسلمان اپناتے ھیں. جیسے مکمل داڑھی ایک مٹھی بھر ، لیکن قادیانی آپ کو 99٪ فرنچ کٹ داڑھی میں ملے گا یا پھر کلین شیو...

اور ان کے ہاں غیر اعلانیہ حکم کے طور پر کوئی قادیانی جماعتی عہدے دار موجودہ خلیفہ سے لمبی اور گھنی داڑھی نہیں رکھ سکتا اس لئے کبھی سالانہ قادیانی جلسے کے موقع پر بھی ہزاروں قادیانیوں کے بیچ کوئی قادیانی اپنے خلیفہ جیسی،اس کے برابر یا اس سے لمبی داڑھی رکھے نظر نہیں آئے گا-

اگرآپ گوگل میں رومن اردو میں "جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ" لکھ کر سرچ کریں گےتواس بات کی تصدیق ہو جائے گی-

(5) قادیانی کبھی مسلمانوں کی طرح مخصوص نماز والی گول ٹوپی نہیں پہنے گا وہ یا تو پٹھانوں کی مخصوص ٹوپی پہنے نظر آئیں گے یا سندھی ٹوپی یا جناح کیپ-

اس حوالے سے ایک ایسی بات جو کوئی قادیانی آپ کو نہیں بتائے گا وہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت میں ان کے مرتبے یا رتبے کے لحاظ سے سر ڈھانپنے کا رواج ہے مردوں میں ان کا خلیفہ شملہ والی پگڑی پہنتا ھے اور اس کے علاوہ کسی قادیانی کو اس کی موجودگی میں پگڑی پہننے کی اجازت نہیں ہوتی -

خلیفہ کے بعد جو اس سے نچلے درجے کے عہدے دار ہیں وہ جناح کیپ کا استعمال کرتے ہیں پینٹ کوٹ یا شلوار قمیض و شیروانی کے ساتھ-

اور پھر ان سے نچلے عام قادیانی پٹھانوں کی مخصوص ٹوپی پہنتے ہیں یا پھر سندھی ٹوپی میں نظر آتے ہیں -

(6) قادیانی عورتوں کو پہچاننا تو اور بھی آسان ھے.یہ بھی اپنے قادیانی مردوں کی طرح مسلمان عورتوں کی ضد میں ڈھیلے ڈھالے برقع کے بجائے عمومی طور پر ٹائٹ برقع پہنتی ھیں جس کی کمر پر اکثر بیلٹ بھی لگی ہوتی ہے تاکہ برقع کی فٹنگ اچھی آئے ( ویسے وہ بیلٹ کھولتے ہوئے کافی پریشانی کا سامنا ہوتا ہے ) اس کے علاوہ ان کےبرقع میں ایک لمبی چاک بھی ہوتی ہے اور ان کے نقاب کا طریقہ بھی نرالا ہوتا ہے جس میں نقاب ناک کے نیچے رکھا ہوتا ہے ہونٹوں کے اوپر ڈھلکا ہوا جس سے سوائے لب و رخسار کے سب نظر آتا ہے جو کہ " نہ سامنے آتے ہیں اور نہ چھپاتے ہیں " کے مصداق مسلمان مردوں کو لبھانے کے لئے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے -

(7) قادیانیوں کا ٹی وی چینل ایم ٹی اے (مسلم ٹی وی احمدیہ ) کے نام سے سیٹیلائٹ سے 24 گھنٹے نشر ہوتا ہے جس پر یہ اپنے مذموم کفریہ عقیدے کی کھلم کھلا تبلیغ کرتے ھیں اور دجل پر مبی تعلیم کو "اسلام احمدیت" یعنی احمدیت ہی اصل اسلام ہے کے نعرے کے ساتھ پیش کرتے ھیں.
قادیانیوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آج کے اس دور میں جب کیبل ٹی وی عام ھے اور ڈش اینٹینا کا استعمال پاکستان میں عام گھریلو صارفین کے لئے متروک و معدوم ہو چلا ھے لیکن اس کے باوجود قادیانی ایم ٹی اے چینل دیکھنے کی غرض سے اپنے گھروں پر ڈش اینٹینا لگاتے ہیں اور جن مسلمانوں پر یہ اپنے دجل و فریب کی طبع آزمائی کرتے ہیں ان کو اکثر تبلیغ کی نیت سے اپنا یہ ٹی وی چینل اپنے گھر یا علاقے کے قادیانی مرکز میں بلا کر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں -
قادیانیوں کا مشہور چینل "مینارةالمسیح" ہے جو کہ قادیان انڈیا میں ھے.
جس مینارہ کو یہ اپنے ٹی وی چینل پر مسلمانوں کے مقابلے میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کی جگہ دکھا کر اس کو مشتہر کرتے ہیں-

(8) سب سے اہم نشانی یہ کہ قادیانی ناموں کے آغاز میں آپ کو محمد لگا نظر نہیں آئے گا اور نا ہی کوئی پیدائشی قادیانی آپ کو اس طرح کا خالص اسلامی نام رکھے نظر آئے گا جیسے کہ عبداللہ ، مصطفٰی ، عبدالرشید ، عبدالقیوم ، جب کہ ان کے ناموں کے اختتام میں احمد لگا ہوا پایا جاتا ہے جو مرزا قادیانی کے نام کا بھی حصہ تھا اور قادیانی قرآن میں بیان ہونے والے آقا ﷺ کے مخصوص نام احمد سے مراد مرزا قادیانی کی ذات ہی لیتے ھیں معاذ اللہ

(9)یاد رہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں پائے جانے والے زیادہ تر قادیانی پنجابی زبان بولنے والے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں کیوں کہ مرزا قادیانی کا تعلق بھی تقسیم ہندوستان سے قبل قادیان ضلع "گورداسپور" پنجاب سے تھا اس لئے ان کی تبلیغ کا زیادہ اور مرکزی دائرہ اثر بھی تقسیم سے قبل اور بعد میں بھی پنجاب ہی رہا جہاں موجود سادہ لوح دیہاتی ملنسار ماحول میں ان کے فتنے کی آبیاری ہو سکے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ھے نسل در نسل.
یہ کچھ نشانیاں لکھ دی ہیں قادیانیوں کی امید ھے پڑھنے والے اس کو ضرور یاد رکھیں گے اور آگے بھی ضرورشئیر کریں گے تاکہ مسلمان اس قادیانی فتنے سے محفوظ رھیں اور اپنا ایمان سلامت رکھیں!!! بقلم خود باباکوڈا

19/09/2020

اس کا نام ڈاکٹر لارنس براؤن تھا وہ ایک کیتھولک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوا تھا مگر بقول اس کے وہ ہوش سنبھالنے کے بعد ایک دن کے لئے بھی عیسائی نہیں رہا وہ ملحد ہو گیا تھا ، وه کسی خدا کا قائل نہیں تھا ،،، وہ نہ صرف امریکہ کا بہترین ھارٹ اسپیشلسٹ تھا بلکہ پورے بر اعظم امریکہ میں شاید اس کے مقابلے کا کوئی ڈاکٹر نہیں تھا، وہ دنیا بھر میں لیکچر دیتا پھرتا تھا ، اس کی ڈیوٹی امریکہ کے بہترین اسپتال میں تھی جہاں رونالڈ ریگن کو گولی لگنے کے بعد فوری طور پہ شفٹ کیا گیا تھا، اس سے اس اسپتال کی اہمیت اور سہولیات کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے۔ مگر یہی اہم ترین اسپتال اور اس کی سہولیات ایک دن اس کے سامنے بے بس و لاچار سر جھکائے کھڑی تھیں ،،، یہ سال تھا 1990 جب اس کے گھر اس کی دوسری بیٹی حنا Henna پیدا ہوئی ،،، بچی کو لیبر روم سے سیدھا آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا کیونکہ وہ ابنارمل پیدا ہوئی تھی ، اس کی ایک آرٹری میں نقص تھا جس کی وجہ سے اس کے بدن کو آکسیجن ملا خون نہیں مل رہا تھا اور وہ سر سے پاؤں کے انگوٹھے تک "Gun Metal Blue" پیدا ہوئی تھی ،،، بقول ڈاکٹر صاحب میں خود ڈاکٹر تھا اور مجھے پتہ تھا کہ میری بچی کے ساتھ کیا مسئلہ ہے ، اس کا بدن مر رہا تھا کیوں کہ اسے آکسیجن ملا خون نہیں مل پا رھا تھا ،، اس کا علاج یہ تھا کہ اس کی چیر پھاڑ کر کے آرٹری کی گرافٹنگ کر کے اسے ری پلیس کیا جائے ،، مگر پہلی بات یہ کہ اس آپریشن کی کامیابی کی کوئی گارنٹی نہیں تھی ، دوسری بات یہ کہ اگر یہ گرافٹنگ کامیاب بھی ہو جائے تو بھی سال دو سال بعد پھر گرافٹنگ کرنی ہو گی یوں زیادہ سے زیادہ دو سال کی زندگی لے کر میری بیٹی آئی تھی ،،، اور اس وقت اس کی جو حالت تھی اس میں میں بطور باپ تو اس کو چیر پھاڑ نہیں سکتا تھا اس کے لئے ایک نہایت لائق ڈاکٹر کی سربراہی میں ایک ٹیم بنا دی گئی جو اپنا ساز و سامان اکٹھا کرنے میں لگ گئی اور میں آپریشن تھیٹر کے ساتھ ملحق ”کمرہ استغاثہ” یا "Prayer Hall” میں چلا گیا !! کمرہ فریاد میں کسی مذہب کی کوئی نشانی یا مونو گرام نہیں تھا ،، نہ کعبہ ، نہ کلیسا، نہ مریم و عیسیٰ کی تصویر، نہ یہود کا ڈیوڈ اسٹار، نہ ہندو کا ترشول ،،، الغرض وہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے بنایا گیا کمرہ تھا۔ جہاں وہ آپریشن کے دوران اپنے اپنے عقیدے کے مطابق دعاء مانگتے تھے، جب تک کہ ان کا مریض آپریشن تھیئٹر سے منتقل کیا جاتا ،،، اس سے قبل ڈاکٹرلارنس کے لئے یہ کمرہ ایک “Psychological Dose" کے سوا کچھ نہیں تھا مگر آج اس کی اپنی جان پر بن گئی تھی ،، بقول ڈاکٹر لارنس ،، میں نے آج تک جو چاہا تھا اسے ہر قیمت پر حاصل کر لیا تھا ،، چاہے وہ پیسے سے ملے یا اثر و رسوخ سے ”نہ اور ناممکن" جیسے الفاظ میری ڈکشنری میں ہی نہیں تھے مگر آج میں بےبس ہو گیا تھا نہ تو سائنسی آلات و وسائل کچھ کر سکتے تھے اور نہ ہے میرا پیسہ میری بچی کی جان بچا سکتا تھا ،، میں نے ہاتھ اٹھائے اور اس نادیدہ ہستی کو پکارا جس کے وجود کا میں آج تک منکر تھا۔ اے خالق! اگر تُو واقعی موجود ہے تو پھر تُو یہ بھی جانتا ہوگا کہ میں آج تک تیرے وجود کا منکر رہا ،، مگر آج میری بیٹی مجھے تیرے در پہ لے آئی ہے ، اگر واقعی تیرا وجود ہے تو پلیز میری مدد فرما ،، اسباب نے جواب دے دیا ہے اب میری بچی کو اگر کوئی بچا سکتا ہے تو صرف اس کا بنانے والا ہی بچا سکتا ہے ، وہی اس فالٹ کو درست کر سکتا ہے جس نے یہ بچی تخلیق فرمائی ہے۔ اے خالق! میں صدقِ دل کے ساتھ تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تو میری بچی کا فالٹ درست فرما دے تو میں سارے مذاہب کو اسٹڈی کر کے ان میں سے تیرے پسندیدہ مذہب کو اختیار کر لوں گا اور سارے زندگی تیرا غلام بن کر رہوں گا ،، یہ میرا اور تیرا عہد ہے ،، میں نے صدقِ نیت سے یہ پیمان کیا اور اٹھ کر آپریشن تھیئیٹر میں آیا،، مجھے زیادہ سے زیادہ 15 منٹ لگے ہوں گے ،،مگر جب میں آپریشن روم میں آیا تو وہاں کی بدلی ہوئی فضا کو میں نے ایک لمحے میں محسوس کر لیا ،،
وہاں افراتفری کی بجائے سکون و اطمینان تھا ، ٹیم کے سربراہ نے سر گھما کر مجھے دیکھا اور بولا بچی کے آپریشن کی اب کوئی ضرورت نہیں خون کا دوران درست ہو گیا ھے اور اس دورانِ خون کے درست ہونے کی جو سائنٹیفک وجوہات وہ بتا رھا تھا ،،، میں نے سراٹھا کر باقی ٹیم ممبران کی طرف دیکھا میرے سمیت ان میں سے کسی کی آنکھوں یا چہرے پر ان وجوہات پر یقین کا ایک فیصد بھی نہیں تھا، ہمیں معلوم تھا کہ یہ صرف باتیں ہیں ان میں حقیقت نام کو نہیں ،، البتہ مجھے پتہ تھا کہ میرا ایگریمنٹ خالق کی طرف سے Endorse کر لیا گیا ہے اور آرٹری کی خرابی اسی خالق نے جھٹ سے درست کر دی ہے ، اس سے پہلے میری پہلی بیٹی کی بار بھی ایک سگنل مجھےخالق کی طرف سے ملا تھا جو مثبت تھا ،، اسی وجہ سے میں نے اسے معمولی سمجھا ،، میری پہلی بیٹی کرسٹینا نے پیدا ہونے کے بعد اسی دن میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی دونوں ٹانگوں پہ کھڑا ہو کر مجھے حیران کر دیا ،، ڈاکٹر حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسا ہونا ناممکن ہے ،،
مگر میں نے اس نا ممکن میں خالق کو نہ پہچانا تو دوسری بیٹی کے ناممکن نے مجھے باندھ کر خالق کے در پہ لا ڈالا ،،2014 میں میری بیٹی نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ہے!! مجھے اپنا معاہدہ بڑی اچھی طرح یاد تھا ، میں نے دنیا کے تمام مذاھب کی کتب کو پڑھنا شروع کیا ،،، بدھ ازم ، ھندو ازم ، عیسائیت اور یہودیت سمیت تمام کتب بھی پڑھیں اور ان کے علماء سے مزاکرے بھی ہوئے مگر میرے سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا ،،
اسلام میرا آخری آپشن تھا ،،
میں نے قرآن کو پڑھنا شروع کیا اور میرے دل و دماغ کے دریچے کھُلتے چلے گئے ،، میں نے عیسائیوں اور یہودیوں سے بار بار سوال کیا کہ یحيٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ وہ تیسرا کون ہے جس کی گواہی تورات بھی دیتی ھے اور انجیل بھی دیتی ہے ، مگر وہ آئیں بائیں شائیں کرتے تھے ، قرآن نے مجھے جواب دیا کہ وہ تیسری ہستی محمد رسول الـلــَّـه ﷺ کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

19/09/2020

👈 *ہمارے_اندر_برداشت_کا_مادہ_بہت_کم_ہے* 👉

ایک چهوٹا بچہ اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ایک سیب لیے کهڑا تها۔
اس کے والد نے مسکراتے ہوئے کہا، "بیٹا ایک سیب مجھے دے دو۔۔۔ !"
اتنا سنتے ہی اس بچے نے ایک سیب کو اپنے دانتوں سے کاٹ لیا،
اس سے پہلے کہ اُسکا باپ کچھ بول پاتا،
اس نے دوسرا سیب بهی اپنے دانتوں سے کاٹ لیا۔
اپنے بیٹے کی اس حرکت پر وہ شخص غصے سے سیخ پاء ہو گیا،
اور اُسکے چہرے سے اب مسکراہٹ بھی غائب ہو گئی،
قریب تھا کہ وہ اُٹھ کر اُسے سزا دیتا۔
تب ہی بیٹے نے اپنے ننهے ہاتھ کو آگے بڑهاتے ہوئے کہا، "ابو یہ لو یہ والا زیادہ میٹھا ہے۔۔۔ !"

*ہمارے اندر برداشت کا مادہ بہت کم ہے، شاید اِسی وجہ سے اکثر ہم پوری بات اور معاملات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔*

19/09/2020

Copy
قابل بنیں انگریز نہیں۔
آپ ترکی اور ترک لوگوں کی ” جہالت ” کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ آپ کو شاید ہی پورے ترکی میں کوئی ایک ترک ڈاکٹر بھی ایسا نظر آئے جو انگریزی لفظ ” پین ” (درد) کے معنی جانتا ہو۔
اگر آپ ترکی نہیں بول سکتے یا آپ کے ساتھ کوئی ترجمان نہیں ہے تو پھر آپکا ترکی گھومنا خاصا مشکل ہے ۔
آپ چین کی مثال لے لیں ماؤزے تنگ کی ” جہالت ” کا یہ حال تھا کہ انھوں نے ساری زندگی کبھی انگریزی نہیں بولی۔ جب کبھی کوئی لطیفہ ان کو انگریزی میں سنایا جاتا ان کی آنکھوں کی پتلیوں تک میں کوئی جنبش نہیں ہوتی تھی اور جب کوئی وہی لطیفہ چینی زبان میں سناتا تو قہقہہ لگا کر ہنستے تھے۔ وہ ہمیشہ بولتے تھے کہ چینی قوم گونگی نہیں ہے۔
ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو لے لیں ، ان کی ماں نے ساری زندگی گھروں میں کام کیا اور باپ نے اسٹیشن پر چائے بیچی وہ حالات کی وجہ سے گھر سے بھاگے دن رات محنت کے بعد گجرات کے وزیر اعلی بنے اور بعد ازاں ہندوستان جیسے بڑے ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔ آپ نریندر مودی کی کوئی تقریر اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو وہ ہندی بولتے نظر آئینگے۔
ہندوستان کی خود اعتمادی کا یہ حال ہے کہ ان کی وزیر خارجہ سشما سوراج تک اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہندی میں بات کرتی ہیں۔ صدر ترکی طیب اردوگان پاکستان آئے سینٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے ترکی زبان میں خطاب کیا ، پاکستانی قوم ، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کو یہ بھی بتا گئے کہ کسی قوم کی ترقی کی علامت اس کی غیرت ہوتی ہے انگریزی نہیں۔
ہم مرعوبیت کے اس درجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر ہمارا کوئی کرکٹر پاکستان سے باہر اردو میں بات کرلے تو ہم منہ چھپا چھپا کر ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی پرفارمنس کو کرکٹ سے ناپنے کے بجائے انگریزی سے ناپتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس خوبصورتی کا معیار گورا رنگ اور قابلیت کا معیار انگریزی ہے۔ ہمارے ملک میں بچوں کو اسکول میں داخل کروانے کا واحد مقصد انگریزی ہوتا ہے۔
کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں کہ امریکا اور برطانیہ میں ماں باپ بچوں کو کیوں اسکول میں داخل کرواتے ہونگے ؟ ہماری ذہنی غلامی کا تماشہ دیکھیں ہم نے اسکولز تک کو انگریزی اور اردو میڈیم بنایا ہے ۔ قوم کا غریب اور زوال پذیر طبقہ اردو پڑھے گا جبکہ امیر اور پیسے والا طبقہ انگریزی۔ دنیا کی معلوم دس ہزار سالہ تاریخ میں کسی قوم نے کسی غیر کی زبان میں ترقی نہیں کی۔ تخلیق ، تحقیق اور جستجو کا تعلق انگریزی سے نہیں ہوتا اور اگر آپ ان چیزوں کا تعلق بھی انگریزی سے جوڑ دینگے تو پھر وہی ہوگا جو اس ملک کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آپ کو پورے ملک میں سوائے دو چار کے کوئی قابل ذکر سائنسدان ، کوئی تحقیق کرنے والا ڈاکٹر اور کچھ نیا ایجاد کرنے والا انجینئیر نہیں ملے گا۔ اس قوم کا نوجوان بھلا کیسے کچھ سوچ سکتا ہے جس کا واحد مقصد اپنی انگریزی درست کر کے اعلی نوکری حاصل کرنا ہو۔ جو لکیر کا فقیر بن چکا ہو۔
بنا سوچے سمجھے بس رٹے لگائے جائے اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ہمارے بچوں کو انگریزی آتی نہیں ہے اور اردو مشکل لگتی ہے۔ آپ کسی بھی نوجوان کو راستے میں روکیں اور اس کو انگریزی میں ایک درخواست لکھنے کا بول دیں وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے گا۔ اصل بیڑہ غرق اس موبائل فون کی رومن اردو نے کیا ہے۔ ہماری نئی نسل تو اردو کے الفاظ تک لکھنا بھول چکی ہے۔ حتی کہ موبائل کمپنیز کے آفیشل میسجز تک رومن اردو میں موصول ہوتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا تک نہیں ہے۔
بھائی ! دنیا میں اور کس زبان کے ساتھ یہ ظلم عظیم ہو رہا ہے کہ اس کے فونٹس کی موجودگی میں آپ کو ” رومن ” لکھنے کی ضرورت پڑ گئی ہے ؟ کسی میں دم نہیں ہے کہ واٹس ایپ یا میسج انگریزی مٰیں کرے ساری قوم اردو میں کرتی ہے لیکن ” رومن ” اردو میں۔ پلے اسٹور سے ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اس پر اردو لکھنے میں کونسی جان جاتی ہے میں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں۔ ہمیں لکھنی بھی اردو ہے اور اردو میں بھی نہیں لکھنی ہے۔
مجھے ش*ذ و نادر ہی کوئی والدین ایسے ملے ہوں کہ جنھوں نے اپنے بچے کے اخلاق ، کردار ، گفتگو اور تمیز تہذیب پر بات نہ کی ہو سارا وقت اس کی اخلاقی حالت کو روتے رہے اور آخر میں مدعا یہ ٹھہرا کہ آپ کسی طرح اس کی انگریزی ٹھیک کروائیں۔ میں نے اس ملک میں اور اس دنیا میں قابلیت کا کوئی نمونہ انگریزی کی وجہ سے نہیں دیکھا۔ چین ، جاپان ، ترکی ، جرمنی ، فرانس اور اب تیزی سے ابھرتا ہوا بھارت ان میں سے کونسے ملک نے انگریزی کی وجہ سے کامیابی اور ترقی کی منازل طے کی ہیں ؟
پاکستان کے سب سے بڑے بزنس ٹائیکون ملک ریاض نے انگریزی کی وجہ سے ترقی کی ہے ؟ یا آپ نے کبھی ان کو انگریزی بولتے بھی سنا ؟ اس لیے خدارا خود بھی قابل بننے کی کوشش کیجیے اور بچوں کو بھی قابل بنائیے انگریز نہیں۔
اردو میری پہچان۔

19/08/2020

فزکس کی کلاس میں ایک دن سر بتانے لگے کہ فوجی جب مارچ کر رہے ہوتے ہیں اور اس دوران راستے میں کوئی پُل آجاۓ تو انہیں اپنا ڈسپلن توڑتے ہوئے مارچ ختم کر کے نارمل انداز میں وہ پُل پار کرنے کو کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب مارچ کرنے والے انداز میں تمام فوجی ایک ہی وقت میں اپنا پاؤں زمین پر مارتے ہیں تو اس سے انرجی کا ایک بہت بڑا بلاک بنتا ہےجس کی سکت اس پُل کے پارٹیکلز نہیں برداشت کر پاتے لہٰذا بہت امکان ہوتا ہے کہ وہ پُل ڈھے جاۓ گا ۔ اس پر میں نے سوال پوچھا کہ سر کتنے فوجی اس طرح کریں تو پل گرے گا ؟ سر نے جواب دیا کہ یہ پل کی ساخت اور مٹیریل پر منحصر کرتا ہے ۔ اس پر میں نے دوسرا سوال پوچھا کہ اسی پُل پر گاڑیاں اور دیگر افراد بھی تو چل رہے ہوتے ہیں تب یہ پُل کیوں نہیں گرتا ؟ سر نے جواب دیا کہ وہ بیک وقت ایک ہی طرح کی انرجی بلاک نہیں بنا رہے ہوتے لہٰذا انکی بنائی گئی انرجی پُل کی وائبریشن ضائع کردیتی ہے لہٰذا ایک لاکھ افراد کا پُل پر چلنا نقصان دہ نہیں ہوتا پر 500 مارچ کر کے جاتے ہوئے فوجی اس پُل کے لئے زیادہ نقصان دہ ہیں کیوں کہ انکے قدم اور انرجی ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ بات مجھے بہت مشکل سے سمجھ لگی تھی پر جب قرآن پاک کی ایک آیت پڑھی تو سمجھ آیا کہ اسلام نے ہمیں اخوت کا درس کیوں دیا وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو (القرآن) آپکو کیا لگتا ہے 313 کی قلیل تعداد 1000 کے لشکر پر کیسے بھاری پڑی؟ جناب انکی انرجی ایک تھی وہ جس کفر (پُل) پر ضرب مار رہے تھے اسکے لئے انکی سوچ ایک جیسی تھی تب ہی وہ پُل گر گیا ۔
ہمیں تو چودہ سو سال پہلے ہی کامیابی کے اتنے گر سکھا دیے گئے تھے کہ اگر ایک کو بھی تھام لیتے تو آج نیہ پار ہوجانی تھی پر افسوس ہم تقسیم در تقسیم ہوتے گئے ۔ اور یہ تقسیم نا ہمیں دشمن کے خلاف کامیاب کرسکتی ہے نا ہی بطور شہری ہم اپنے ملک کے کسی کام آ سکتے ہیں ۔ پھر چاہے مذہبی تقسیم ہو یا سیاسی تقسیم ۔ نسلی تقسیم ہو یا نظریاتی تقسیم"...... منقول

27/05/2020
16/05/2020

Keya bat ha

Address

Mandoori
Kohat
2434

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mandoori posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share