04/04/2025
کیا آپ جانتے ہیں کہ 4 عرب ممالک کے حکمرانوں کو اسرائیلی یہودیوں نے Friends Of Zion کا ایوارڈ دیا ہے! ان میں سعودی عرب کے محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن راشد المکتوم، بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسی الخلیفہ اور اومان کے سلطان حیثم بن طارق شامل ہیں جبکہ دیگر میں رومانیہ، یوگنڈہ، موروکو وغیرہ کے حکمران ہیں۔
یہ ایوارڈ یروشلم میں قائم اسرائیلی تنظیم ان عالمی شخصیات کو دیتی ہے جو اسرائیل اور یہودیوں کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔
محمد بن سلمان سمیت ان 4 عرب ممالک کے حکمرانوں کو یہ ایوارڈ 2020 میں دیا گیا تھا۔ ایوارڈ تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی ورچوئل شرکت کی تھی اور خطاب بھی کیا تھا۔ اس خبر کو کرونا دنوں میں سینسر کردیا گیا تھا۔ اسرائیلی صدر نے بھی اس تقریب میں شرکت کرکے خطاب کیا تھا۔
ایوارڈ کی تفصیلات آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں
https://cbn.com/news/news/world-leaders-honored-friends-zion-award-christian-media-summit
ایک اور لنک بھی دیکھ لیجیے
https://www.prnewswire.com/news-releases/friends-of-zion-museum-honors-eleven-world-leaders-at-israels-4th-annual-christian-media-summit-301154419.html
اس وڈیو میں ایوارڈ دینی والی صیہونی تنظیم کا صدر بتارہا ہے کہ محمد بن سلمان کو اسرائیل کی حمایت میں اٹھائے گئے کن اقدامات کی بنیاد پر یہ ایوارڈ دیا جارہا ہے۔
https://www.facebook.com/share/r/1C2yngDXEj/
ایک اور وڈیو میں تفصیل سے بتایا جارہا ہے کہ محمد بن سلمان کو یہودی عورت نے پالا ہے اسی وجہ سے یہ یہودیوں کے زیادہ قریب ہے اور یہود کو مظلوم سمجھتا ہے۔
https://youtu.be/dPdJZW9p99o?si=285gkv63h67tovxx
اس ایوارڈ کی مزید تفصیلات آپ گوگل یا چیٹ جی پی ٹی وغیرہ سے بھی تصدیق کرسکتے ہیں۔
یاد رہے یہ محمد بن سلمان ہی تھے جنہوں نے امارات، بحرین، اومان وغیرہ کو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا.
جبکہ پاکستان کو بھی یہی محمد بن سلمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کئی مرتبہ حکم دے چکا ہے۔
بالخصوص عمران خان کے دور میں حکم دیا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرلو مگر عمران خان نے انکار کرتے ہوئے پاکستان کا ریاستی موقف پیش کیا کہ جب تک فلسطینی خود راضی ہوکر 'دو ریاستی حل' پر راضی نہیں ہوجاتے پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔
اس جواب پر محمد بن سلمان سیخ پا ہوا۔۔۔ پاکستان کے سعودیہ سے تعلقات خراب ہوگئے پھر بن سلمان نے پاکستان کو قرضہ واپس کرنے کی دھمکی دی کہ فورا کے فورا ابھی پیسہ واپس کرو۔
بن سلمان کے غصے کے پیچھے ایک اور وجہ عمران خان کا ترک صدر اوردگان اور ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے ساتھ مل کر او آئی سی کی جگہ نیا طاقتور مسلم بلاک بنانے کی کوشش کرنا بھی تھا کیونکہ او آئی سی مسلم امہ کو درپیش تمام مسائل بشمول کشمیر فلسطین برما وغیرہ پر کام کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی تھی۔
درحقیقت یہ بن سلمان ہی ہیں جو او آئی سی کو جان بوجھ کر اپاہج بنائے ہوئے ہیں ورنہ 57 اسلامی ممالک کی فوج بنانے کا کیا فائدہ جو کسی بھی مسلم ملک کے دفاع کے لیے کبھی استعمال ہی نہیں ہوئی۔
شاید اسرائیلی یہودی اب پاکستان کو بزریعہ سعودی عرب کنٹرول کرتے ہیں، پہلے قرضے دیتے ہیں پھر شرائط کی لسٹ دھماکر بولتے ہیں مانو ورنہ قرض واپس کرکے دیوالیہ ہوجاو۔
ایک طرف پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرضہ دلواکر ناجائز شرائط منوائی جاتی ہیں تو دوسری طرف یہی آئی ایم ایف عرب ممالک سے بھی قرضہ ملنے کی 'تصدیقی رسیدیں لیکر آو' کی ضمانتیں مانگتا ہے جو واضع اشارہ ہے کہ یہودیوں نے پاکستان کو چاروں جانب سے گھیر رکھا ہے تاکہ پاکستان سے آگے چل کر اسرائیل کو تسلیم کروایا جائے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ باجوہ اسٹبلشمنٹ بھی شروع دن سے کہتی تھی کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔
باجوہ بھی شاید بن سلمان کا بندہ تھا اسے بھی ریٹائرمنٹ کے بعد راحیل شریف کی طرح سعودیہ میں نوکری چاہیے تھی۔
باجوہ بن سلمان کے حکم پر اکظر عمران خان کو کہتا کرتا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرلو، اسرائیل کو انگیج رکھو تاکہ پاکستان پر معاشی دروازے بند نہ ہوں۔ یعنی فیٹف بھی مان جائے، آئی ایم ایف بھی آنکھیں نہ دکھائے وغیرہ وغیرہ۔۔۔
اسی دباو کی وجہ سے عمران خان نے اپنے دور حکومت میں خصوصی مشیر زلفی بخاری کو خفیہ دورے پر اسرائیل بھیجا تھا۔ زلفی نے اسرائیلی وزیراعظم اور صدر سے خفیہ ملاقاتیں کی تھیں، پاکستان میں اس خبر کو چھپایا گیا لیکن یہ بھانڈا ایک اسرائیلی اخبار نے پھوڑ دیا تھا۔
عمران خان کے دور میں ہی پاکستانی پارلیمنٹ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی قرارداد پی ٹی آئی نے پیش کی تھی۔ یہ دراصل یہودیوں کو دکھانا تھا کہ ہم آپ سے دشمنی نہیں چاہتے۔
عمران خان کے علاوہ نواز شریف نے بھی اپنے دور میں وزیر مذھبی امور کے ساتھ پورا سرکاری وفد خفیہ دورے پر اسرائیل بھیجا تھا اور اب شھباز شریف کے دور میں بھی پاکستانی وفد اسرائیل کا خفیہ دورہ کرچکا ہے۔
پاکستان کے تقریبا تمام حکمران
اسرائیل سے دوستی کرنا چاہتے ہیں صرف عوام کے غصے کی وجہ سے اظھار نہیں کرتے انہیں ڈر ہے کہ اگر اظھار کریں گے تو عوام انہیں ووٹ نہیں دے گی۔
یاد رہے یہ اسرائیلی خفیہ دورے ہر دور میں اسرائیل کی قائم کردہ تنظیم شراکا، جسے امریکن پاکستان خاتون "انیلا علی" امریکہ سے چلاتی ہے کی معاونت سے ہوتے ہیں۔
پاکستانی پاسپورٹ پر واضع لکھا ہے کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے سوا تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے لیکن انیلا علی کے زریعے پاکستانیوں کو پھر بھی بغیر اسٹامپ کے اسرائیل پہنچایا جاتا ہے۔
یہ سارے حالات اشارہ کرتے ہیں کہ یہودی پاکستان کو قرضوں میں پھنسا کر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں جبکہ انکا اصل ایجنڈہ تو پاکستان کو کمزور کرکے اسلامی ایٹم بم اور ہمارا میزائل پروگرام ختم کرنا ہے جس میں وہ قیامت تک کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
تحریر : یاسررسول
....................
These are the four Arab rulers who were awarded the "Friends of Zion" award by Israeli Jews: Saudi Arabia's Mohammed bin Salman, UAE's Sheikh Mohammed bin Rashid Al Maktoum, Bahrain's King Hamad bin Isa Al Khalifa, and Oman’s Sultan Haitham bin Tariq. Other recipients include leaders from Romania, Uganda, Morocco, and others.
This award is given by an Israeli organization based in Jerusalem to global personalities who provide significant support to Israel and the Jewish people.
The four Arab rulers, including Mohammed bin Salman, received this award in 2020. Israeli Prime Minister Netanyahu also participated virtually in the ceremony and delivered a speech. The event was censored during the days of the COVID-19 pandemic. The Israeli president also participated in the ceremony and gave a speech.
Further details can be found at the following link: https://cbn.com/news/news/world-leaders-honored-friends-zion-award-christian-media-summit
Here’s another link: https://www.prnewswire.com/news-releases/friends-of-zion-museum-honors-eleven-world-leaders-at-israels-4th-annual-christian-media-summit-301154419.html
You can also watch this video for more details: https://youtu.be/dPdJZW9p99o?si=285gkv63h67tovxx
You can verify further details about this award using Google or ChatGPT.
It is important to note that it was Mohammed bin Salman who forced the UAE, Bahrain, Oman, and other countries to recognize Israel.
This same Mohammed bin Salman repeatedly instructed Pakistan to recognize Israel, especially during Imran Khan's tenure. However, Imran Khan refused and maintained the official state stance that Pakistan would not recognize Israel until the Palestinians themselves agree to a "two-state solution."
This response angered Mohammed bin Salman, resulting in strained relations between Pakistan and Saudi Arabia. Bin Salman threatened to demand Pakistan repay its loans immediately.
Perhaps Israeli Jews now control Pakistan through Saudi Arabia, applying the "give loans, then impose conditions" formula.
On one hand, Pakistan is pressured to accept unjust conditions by the IMF in exchange for loans, while on the other hand, the IMF seeks guarantees from Arab countries regarding loans, which suggests that Jews have Pakistan surrounded from all sides in an effort to force the recognition of Israel.
This could explain why the Bajwa establishment has always claimed that recognizing Israel would not be catastrophic. Bajwa might have been following Bin Salman’s directives, perhaps seeking a job like Raheel Sharif did.
Under Bin Salman's pressure, Bajwa often urged Imran Khan to establish relations with Israel and engage with it. This pressure led Imran Khan's government to send his close associate Zulfi Bukhari on a secret visit to Israel, where he met with the Israeli Prime Minister and President. During Imran Khan's tenure, a resolution to recognize Israel was also presented in the Pakistani Parliament.
Besides Imran Khan, Nawaz Sharif also secretly sent a government delegation to Israel during his tenure, and now, under Shehbaz Sharif’s government, Pakistan has visited Israel.
All these developments indicate that Jews are using loans to corner Pakistan into recognizing Israel. Their ultimate agenda seems to be to weaken Pakistan and dismantle its Islamic nuclear and missile programs, though they will never succeed in this endeavor.
Written by: Yasir Rasool
.................
Israel held its 4th annual Christian Media Summit Sunday at the Friends of Zion Heritage Center in Jerusalem.