15/08/2026
🚨 پاکستان کسٹمز / لاہور کسٹمز اور UPS سے متعلق اہم شکایت — متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں، اور کسٹمز/امپورٹ سے وابستہ افراد سے رہنمائی درکار ہے
میں یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اس لیے سامنے لا رہا ہوں تاکہ متعلقہ پاکستان کسٹمز، FBR اور دیگر ذمہ دار حکام تک میری آواز پہنچ سکے اور اس شعبے سے وابستہ تجربہ رکھنے والے افراد بھی میری صحیح اور قانونی رہنمائی کر سکیں۔
میں نے اپنی ورکشاپ اور پروفیشنل کام کے لیے بیرونِ ملک سے ایک مشین منگوائی۔ مشین کی اصل قیمت تقریباً 120 امریکی ڈالر تھی، جبکہ Shipping اور دیگر اخراجات ملا کر میری مجموعی ادائیگی تقریباً 425 امریکی ڈالر بنی۔
❗ سب سے پہلا اور اہم سوال: اسلام آباد کی Shipment لاہور میں کیوں؟
میرا Delivery Address واضح طور پر اسلام آباد کا ہے۔ اس کے باوجود میری Shipment لاہور کسٹمز میں روکی گئی۔
جب میں متعلقہ نمائندے سے بار بار پوچھتا ہوں کہ میرا پارسل اسلام آباد کے پتے پر آنا تھا تو لاہور کسٹمز میں کیوں پڑا ہوا ہے؟ تو مجھے بتایا جاتا ہے کہ اسلام آباد کے parcels/customs clearance بھی لاہور سے ہی ہوتے ہیں اور اسلام آباد میں اس قسم کا clearance system موجود نہیں۔
میں متعلقہ حکام اور تجربہ کار افراد سے باقاعدہ رہنمائی چاہتا ہوں: کیا واقعی اسلام آباد Address والی ایسی International Courier Shipment کی Customs Clearance لازماً لاہور سے ہوتی ہے؟
کیونکہ اس سے پہلے میرے جتنے بھی parcels آئے، وہ اسلام آباد ہی پہنچتے رہے اور ان کی Customs Duty/clearance بھی میرے لیے اسی حساب سے handle ہوتی رہی۔ اس لیے موجودہ صورتحال میرے لیے سمجھ سے باہر ہے۔
❗ میں پہلی مرتبہ Tools Import نہیں کر رہا
میں اس سے پہلے بھی اپنی شاپ اور پروفیشنل کام کے لیے بیرونِ ملک سے Tools، Machines اور Equipment منگواتا رہا ہوں۔ میں اس موجودہ مشین سے دو گنا یا اس سے بھی زیادہ قیمت کی اشیاء Import کر چکا ہوں۔
ان پر میں نے باقاعدہ Customs Duty/Taxes ادا کیے ہیں۔
کبھی 10–15 ہزار روپے، کبھی 20–25 ہزار روپے اور مہنگی اشیاء پر زیادہ سے زیادہ تقریباً 30–32 ہزار روپے تک Customs Duty/Tax ادا کیا ہے۔
میں نے کبھی جائز کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے سے انکار نہیں کیا۔
❗ میں خود تین مرتبہ UPS Office جا چکا ہوں — کوئی نمائندہ میرے پاس نہیں آیا
اس پورے معاملے میں ایک اور انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ UPS یا متعلقہ کسی نمائندے نے خود میرے پاس آکر مسئلہ حل کرنے یا باقاعدہ رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی۔
اس کے برعکس میں خود تین مرتبہ چل کر UPS کے Office جا چکا ہوں تاکہ معاملہ حل کیا جا سکے۔
میں بار بار خود Follow-up کر رہا ہوں، Calls اور Emails کر رہا ہوں، Documents فراہم کر رہا ہوں اور خود Office کے چکر لگا رہا ہوں۔ لیکن ہر مرتبہ مجھے واضح اور حتمی جواب دینے کے بجائے مختلف باتیں، غیر واضح وضاحتیں اور ٹال مٹول کا سامنا کرنا پڑا۔
میرا سوال ہے کہ جب Customer مسلسل تعاون کر رہا ہے تو اسے ایک واضح Written Assessment اور مکمل Breakdown کیوں نہیں دی جا رہی؟
اس مسلسل تاخیر، بدلتی ہوئی معلومات اور بڑھتے ہوئے Charges کی وجہ سے مجھے شدید خدشہ ہے کہ کہیں غیرضروری تاخیر کے ذریعے مجھ پر اضافی مالی بوجھ تو نہیں ڈالا جا رہا۔
اگر تمام Charges مکمل طور پر جائز اور قانون کے مطابق ہیں تو ان کی مکمل تحریری Breakdown اور قانونی بنیاد فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
❗ پہلے ایک رقم بتائی گئی، ایک ہفتے بعد تقریباً 1.72 لاکھ کی Invoice؟
موجودہ Shipment میں ابتدا میں مجھے تقریباً 30 ہزار روپے کے قریب Customs Charges بتائے گئے۔ میں نے اس پر بھی تعاون کیا اور مسلسل رابطے میں رہا۔
اس کے بعد تقریباً ایک ہفتے سے زائد میرا parcel روکے رکھا گیا۔
اس دوران مجھ سے جو بھی Documents مانگے گئے، میں نے فراہم کیے:
• اپنے رجسٹرڈ کاروبار/شاپ کے متعلق دستاویزات
• Business Registration سے متعلق معلومات
• اپنے Letterhead پر باقاعدہ وضاحت کہ یہ Machine کس مقصد کے لیے منگوائی گئی ہے
• واضح کیا کہ یہ میرے اپنے Professional Workshop Work کے استعمال کے لیے ہے
• دستخط، Stamp اور دیگر مطلوبہ معلومات
• مسلسل Calls، Emails اور Follow-ups کے ذریعے مکمل تعاون
• تین مرتبہ خود UPS Office جا کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش
اس سب کے باوجود آخرکار مجھے تقریباً PKR 172,000 کے قریب Customs/Taxes/Charges کی Invoice دے دی گئی۔
یہ میرے لیے ناقابلِ برداشت بھی ہے اور سمجھ سے بھی باہر ہے۔
ایک طرف ابتدا میں تقریباً 30 ہزار روپے کے قریب رقم بتائی جاتی ہے، پھر ایک ہفتہ مختلف Documents اور کارروائی میں گزارنے کے بعد اچانک رقم 1.72 لاکھ روپے کے قریب کیسے پہنچ جاتی ہے؟
متعلقہ حکام سے میرے سیدھے سوالات ہیں:
اس Shipment کی Assessed Customs Value کتنی لگائی گئی؟
کس Duty/Tax Rate کے تحت یہ رقم نکالی گئی؟
کون کون سے Taxes، Duties، Storage یا دیگر Charges اس Invoice میں شامل ہیں؟
ابتدائی طور پر بتائی گئی رقم بعد میں اتنی زیادہ کیسے ہوگئی؟
اور اسلام آباد کے Delivery Address والی Shipment کو لاہور Customs میں کیوں روکا گیا؟
میں حکومتِ پاکستان، FBR اور پاکستان کسٹمز کے متعلقہ اعلیٰ حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کا فوری اور باقاعدہ نوٹس لیا جائے۔
اگر یہ Assessment مکمل طور پر قانون کے مطابق ہے تو مجھے اس کی واضح Breakdown، Assessed Value، Applicable Duty/Tax Rates اور قانونی بنیاد فراہم کی جائے۔
اور اگر Assessment، Handling یا Delay میں کہیں کوئی غلطی یا غیرضروری اضافی Charges شامل ہوئے ہیں تو اس معاملے کی شفاف جانچ اور Reassessment کیا جائے۔
⚠️ میں ایک بار پھر واضح کر دوں: میں جائز Customs Duty دینے سے انکار نہیں کر رہا۔
میں Taxpayer ہوں، میرا کاروبار رجسٹرڈ ہے اور میں پہلے بھی اپنی Imported Machines اور Tools پر باقاعدگی سے Duty/Taxes ادا کرتا آیا ہوں۔
لیکن 10، 20، 25 یا 30 ہزار روپے تک کے سابقہ تجربے کے مقابلے میں ایک نسبتاً کم قیمت مشین پر تقریباً 1.72 لاکھ روپے کی Invoice میرے لیے انتہائی غیرمعمولی اور ناقابلِ برداشت ہے۔
میں اس پوسٹ کے ساتھ متعلقہ Screenshots اور Invoice بھی شیئر کر رہا ہوں تاکہ معاملہ سب کے سامنے موجود ہو۔
🙏 کسٹمز کلیئرنس، Import، Clearing Agents، International Courier Shipments یا اس شعبے سے وابستہ تجربہ رکھنے والے تمام افراد سے درخواست ہے کہ میری رہنمائی اور تعاون کریں۔
خاص طور پر مجھے یہ جاننا ہے:
1) کیا اسلام آباد Address والی International Courier Shipment کا لاہور Customs میں جانا معمول اور قانونی طریقۂ کار ہے؟
2) اگر Customs Assessment غیرمعمولی حد تک زیادہ ہو تو اس کا Reassessment/Review کروانے کا قانونی طریقہ کیا ہے؟
3) کیا میں اس Invoice کی مکمل Tax/Duty/Storage Charges Breakdown اور Valuation Basis طلب کر سکتا ہوں؟
4) اور موجودہ صورتحال میں مجھے کس متعلقہ ادارے یا افسر کے سامنے باقاعدہ Complaint/Appeal دائر کرنی چاہیے؟
میرا مقصد کسی ادارے کو بلاوجہ بدنام کرنا نہیں۔ میں صرف شفافیت، جائز کسٹم ڈیوٹی اور اپنے ساتھ انصاف چاہتا ہوں۔
اگر میں غلط ہوں تو مجھے قانون، Valuation اور حساب کے ساتھ سمجھا دیا جائے؛ اور اگر میرے ساتھ غلط Assessment، غیرضروری تاخیر یا ناجائز اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے تو متعلقہ حکام فوری نوٹس لے کر ذمہ داری کا تعین کریں۔
میری متعلقہ حکام سے پُرزور اپیل ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، اور اس فیلڈ سے وابستہ دوست میری قانونی اور عملی رہنمائی و تعاون کریں۔